جسٹس امین الدین آئینی بینچ کی سربراہی کےلیے پہلی چوائس کیوں ؟

آئین میں 26 ویں ترمیم کا مشکل ترین مرحلہ طے کرنے کے بعد اب وفاقی حکومت سیاسی کیسز سننے کے لیے تشکیل کردہ آئینی بینچ کا سربراہ اور اس کے ساتھی ججز کی نامزدگی کرنے جا رہی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کو چیف جسٹس یحی آفریدی کی جانب سے ججز کمیٹی میں شامل کیے جانے کے بعد آئینی بینچ کی سربراہی کےلیے دستیاب سپریم کورٹ کے ججز کی سنیارٹی لسٹ میں جسٹس امین الدین خان پہلے نمبر پر آ گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت جسٹس امین الدین خان کو ہی آئینی بینچ کا سربراہ مقرر کرنا چاہتی ہے کیونکہ وہ ماضی میں کسی قسم کے سیاسی تنازع میں ملوث نہیں ہوئے۔
تاہم آئینی بینچز کی تشکیل سے پہلے سے پہلے حکومت نے اعلی عدلیہ میں یوتھیے ججز کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کےلیے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھا کر 26 کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئینی بینچ کے سربراہ اور اس کے ساتھی ججز کی نامزدگی کے لیے 26 ویں ترمیم کے تحت بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس 5 نومبر کو منعقد ہو رہا یے جس میں سیاسی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل آئینی بینچ تشکیل دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ یہی آئینی بینچ اب تمام تر متنازعہ سیاسی کیسز بشمول مخصوص نشستوں کے کیس کا فیصلہ کرے گا۔ جہاں حکومت کو امید ہے کہ آئینی بینچز کے قیام سے سپریم کورٹ غیر سیاسی ہو جائے گی اور غیر جانبدارانہ فیصلے دے گی، وہیں تحریک انصاف کو اب بھی یہ امید ہے کہ جسٹس منصور شاہ اور جسٹس منیب اختر نہ صرف اس بینچ کا حصہ ہوں گے بلکہ وہ عمراندار ججز کا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف مخصوص نشستوں کے کیس کا پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیں گے بلکہ 8 فروری کے الیکشن نتائج کا آڈٹ کرتے ہوئے نئے الیکشن کا راستہ بھی ہموار کریں گے۔
دوسری جانب راولپنڈی میں طاقتور فیصلہ ساز حلقے پر امید ہیں کہ 26 ویں ترمیم کے بعد عدلیہ کوئی مس ایڈونچر کرتے ہوئے حکومت کے خاتمے کا ذریعہ نہیں بنے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے تاکہ ڈوبتی ہوئی ملکی معیشت کو بچایا جا سکے لہٰذا اب کسی مس ایڈونچر کی گنجائش موجود نہیں۔ فیصلہ ساز حلقوں کے مطابق اب اگر عدلیہ نے کوئی مس ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو اسکا جواب ڈبل ایڈونچر کے ذریعے دیا جائے گا جس کے نتیجے میں تمام ججز گھر جا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ آئینی بینچ اور اس کے ممبران کا تقرر 26 ویں ترمیم کے تحت نو تشکیل کردہ جوڈیشل کمیشن اف پاکستان نے کرنا ہے جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی متناسب نمائندگی موجود ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی کوشش ہو گی کہ اُن کی مرضی کے ججز کو آئینی بینچوں میں شامل کیا جائے۔ جوڈیشل کمیشن میں شامل چار میں سے دو ججز یعنی جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کے متعلق حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے برخلاف کھڑی نظر آتی ہیں۔ یہ دونوں ججز یوتھیے ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کے پسندیدہ ہیں اور حکومتی اتحادی جماعتیں ان کے بارے میں منفی رائے رکھتی ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جسٹس منصور اور جسٹس منیب کو آئینی بنچوں میں شامل نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ وہ متنازع ہیں۔ وہ تو چیف جسٹس کو غیر متنازع ہونے کی وجہ سے بھی یہ مشورہ دے رہے تھے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی آئینی بینچ کے سربراہ نہ بنیں۔
تمام مقدمات آئینی بینچ میں نہ لے کر جائیں کچھ ہمارے پاس بھی رہنے دیں : جسٹس منصور
اس کے برعکس تحریک انصاف کی خواہش ہے کہ تینوں سینئر ترین جج آئینی بینچ کا حصہ بنیں۔ تحریک انصاف تو 12 جولائی کا فیصلہ کرنے والے آٹھ ججوں کو ہی تمام آئینی بینچوں میں شامل کرنے کی حامی ہو گی۔ جس جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 5 نومبر کو ہونے جا رہا ہے جس میں سپریم کورٹ کے چار سینئر ترین جج حضرات شامل ہوں گے۔ اس میں حکومت کے پانچ نمائندے ہوں گے، دو اپوزیشن کے نمائندے اور ایک بار کونسل کے نمائندہ ہوں گے۔
تاہم حکومتی حلقوں کے مطابق اس وقت چونکہ سپریم کورٹ کے تین سینیئر ترین ججز بشمول چیف جسٹس آفریدی، جسٹس منصور اور جسٹس منیب ججز کمیٹی اور جوڈیشل کمیشن دونوں کا حصہ ہیں لہذا وہ کسی ائینی منج میں شامل نہیں ہو سکتے۔ اس لیے اب سپریم کورٹ ججز کی سینیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر موجود امین الدین خان آئینی بینچ کی سربراہی کے لیے دستیاب ججز کی لسٹ میں پہلے نمبر پر آ کر پہلی چوائس بن چکے ہیں۔ یاد رہے کہ جسٹس امین الدین خان کو سابق چیف جسٹس فائز عیسی نے ججز کمیٹی میں شامل کیا تھا لیکن جسٹس آفریدی نے چیف جسٹس بنتے ہی انہیں کمیٹی سے نکال باہر کیا۔
