مولانا فضل الرحمن کی سیاسی اہمیت کم کیوں ہوتی جا رہی ہے

ماضی میں پاکستانی سیاست کے جادوگر کہلانے والے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اب قومی سیاست میں اپنی اہمیت کھوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب حکومت اور اپوزیشن دونوں ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے دن رات ان کی دہلیز پر موجود رہتی تھیں، مگر آج 27ویں آئینی ترمیم کے موقع پر وہ سیاسی منظرنامے سے تقریباً غائب ہیں۔ جہاں ماضی میں مولانا کی رضامندی کے بغیر پارلیمانی پیش رفت ممکن نہیں سمجھی جاتی تھی، وہیں اب حکومت کی عددی اکثریت نے ان کے سیاسی اثر و رسوخ کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں جب 26ویں آئینی ترمیم پیش کی جا رہی تھی، تو پورے ملک میں مولانا فضل الرحمان سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ اُس وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے ان کی حمایت فیصلہ کن حیثیت رکھتی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، محسن نقوی، چیئرمین پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے مولانا سے متعدد ملاقاتیں کیں۔ ایک موقع پر یہ صورتحال بھی پیدا ہوئی کہ حکومتی وفد مولانا کے ساتھ بیٹھا مذاکرات کر رہا تھا جبکہ اپوزیشن کا وفد ان کی رہائشگاہ کے باہر ملاقات کے انتظار میں موجود تھا۔ ان مسلسل ملاقاتوں اور مذاکرات کے نتیجے میں آخرکار حکومت مولانا فضل الرحمان کو 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوئی، اور ترمیم کی منظوری ممکن بن سکی۔
تب مولانا “کنگ میکر” قرار دیے جاتے تھے لیکن اس کے برعکس، موجودہ سیاسی صورتحال میں 27ویں آئینی ترمیم کے موقع پر مولانا نہ تو حکومتی مشاورت کا حصہ ہیں اور نہ ہی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر وہ مولانا، جو گزشتہ ترمیم کے وقت حکومتی پالیسیوں کا محور تھے، اس بار پس منظر میں کیوں چلے گئے؟ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ سیاست ایک ظالمانہ کھیل ہے جس میں صرف مفادات کو دیکھا جاتا ہے۔ ان کے بقول گزشتہ سال حکومت کو جے یو آئی (ف) کی حمایت درکار تھی، اس لیے مولانا صاحب اہم تھے، مگر اب چونکہ حکومت کو پارلیمنٹ میں عددی اکثریت حاصل ہے، اس لیے انہیں مولانا کی حمایت کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔ کامران مرتضیٰ کے مطابق اب تک حکومت یا پیپلز پارٹی کی جانب سے جے یو آئی یا مولانا فضل الرحمان سے 27ویں ترمیم کے حوالے سے کوئی باضابطہ مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کمیٹی اجلاس میں کچھ نکات بتائے مگر ہم حکومت کی باتوں پر اس لیے اعتماد نہیں کرتے کہ وہ زبانی کچھ اور کہتے ہیں اور جب کاغذ سامنے آتا ہے تو کچھ اور ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے بلاول بھٹو زرداری کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ضرور ہوئی، تاہم اس ملاقات میں آئینی ترمیم پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ البتہ امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں مولانا بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری سے مزید ملاقاتیں کریں۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمان اس وقت اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ان کی جماعت کو پی ٹی آئی اور دیگر مذہبی تنظیموں کی مقامی مقبولیت کے باعث سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ بلوچستان میں بھی جے یو آئی (ف) کی تنظیمی گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے جبکہ مرکز میں حکومت کی پارلیمانی اکثریت نے ان کی ضرورت کو مزید محدود کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں مولانا فضل الرحمان کا سیاسی اثر و رسوخ ماضی کی نسبت نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے والد اور خیبر پختون خواہ کے سابق وزیراعلی مولانا مفتی محمود، کے سیاسی ورثے کو آگے تو بڑھایا تھا لیکن اب وہ اپنی مقبولیت کھوتے نظر آتے ہیں۔ 1988 میں مولانا پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے کئی مرتبہ قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کی صدارت بھی کی۔ 2002 میں انہوں نے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور جنرل مشرف کا ساتھ دیتے ہوئے قومی اور صوبائی الیکشنز میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ بعد ازاں 2013 اور 2018 کے انتخابات میں انہوں نے اتحادی حکومتوں میں اہم کردار ادا کیا۔ 2019 میں مولانا فضل الرحمان نے تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف آزادی مارچ کی قیادت کی جو ان کے سیاسی کیریئر کا ایک نمایاں باب سمجھا جاتا ہے۔
تاہم وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی منظرنامے میں تبدیلی، نئی جماعتوں کے ابھار اور ووٹ بینک کی تقسیم نے ان کی قوت کو محدود کر دیا ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر جہاں مولانا فضل الرحمان حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے ناگزیر سمجھے جا رہے تھے، وہیں 27ویں ترمیم کے دوران ان کی سیاسی مرکزیت تقریباً غائب ہے۔ حکومت کی پارلیمانی اکثریت اور بدلتے حالات نے ان کے کردار کو پس منظر میں کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست میں کسی بھی سیاستدان کا کردار مستقل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ اگر مستقبل میں کسی نئے سیاسی بحران یا حکومت کو اتحادی حمایت کی ضرورت پیش آئی تو مولانا فضل الرحمان ایک بار پھر سیاسی منظرنامے پر اپنی سابقہ حیثیت کے ساتھ واپس آ سکتے ہیں۔
