اقتدار کے موجودہ کھیل میں کون سا نیا چیپٹر کھلنے والا ہے؟

 

27ویں آئینی ترمیم اقتدار کے موجودہ کھیل میں ایک ایسے باب کا اضافہ کرنے جا رہی ہے جس میں جنرل عاصم منیر کو دیے گے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دینا صرف ایک آغاز ہے جس کا انجام کسی کو معلوم نہیں۔

معروف انگریزی روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر عباس ناصر اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایک بار پھر آئین کے بنیادی ڈھانچے میں ایسی تبدیلیوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے جو نہ صرف ملکی سیاست بلکہ طاقت کے توازن کے لیے بھی غیر معمولی اثرات رکھتی ہیں۔ انکا کہنا یے کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم بظاہر عدلیہ، وفاقی ڈھانچے اور قومی مالیاتی کمیشن سے متعلق ہے، لیکن اصل بحث اب اس نکتے کے گرد سمٹ رہی ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دیا جائے گا اور ممکنہ طور پر اس کے اختیارات میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جو اس ترمیم کو صرف ایک آئینی ترمیم نہیں بلکہ طاقت کے جاری کھیل میں بنیادی تبدیلی کا اشارہ بناتا ہے۔

عباس ناصر کے مطابق اس ترمیم کی تیاری کئی ماہ سے خفیہ طور پر جاری تھی۔ نہ صرف عوام بلکہ کابینہ کے اکثر اراکین اور ارکانِ پارلیمان بھی اس سے لاعلم ہیں۔ مجوزہ ترمیم اسی ہائبرڈ حکمرانی کے تسلسل کی عکاس ہے جہاں حساس ترین فیصلے پارلیمان کے باہر ہوتے ہیں اور منتخب ادارے محض ان پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ عباس ناصر کے مطابق مجوزہ ترمیم کا سب سے اہم پہلو آرٹیکل 243 میں مجوزہ تبدیلی ہے۔ یہ وہ شق ہے جو مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری، ان کی مدتِ ملازمت اور ان کے اختیارات سے متعلق ہے۔ اگر واقعی ترمیم کے ذریعے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی سطح پر تسلیم کر لیا جاتا ہے، تو یہ پاکستان کی عسکری ساخت میں ایک نئی اور غیر معمولی پیش رفت ہوگی۔

یاد رہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو انڈیا کے خلاف جنگ میں بے مثال کامیابی کے بعد وفاقی حکومت نے فیلڈ مارشل کا اعزازی عہدہ دے دیا تھا جسے اب آئینی تحفظ دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہو گیا تو نہ صرف یہ عہدہ ایک مستقل آئینی ادارہ بن جائے گا بلکہ اس کے تحت ملنے والے اختیارات عسکری قیادت کو پارلیمانی احتساب سے بالکل آزاد کر دیں گے۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آرمی چیف کے اختیارات میں اضافے کے ساتھ فیلڈ مارشل کو چیف آف ڈیفنس سٹاف بھی بنایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا عہدہ ہو گا جو آئین کے تحت کسی کہ تابع نہیں ہو گا۔

عباس ناصر نے نشاندہی کی ہے کہ مجوزہ ترمیم میں ایک علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ عدالت بظاہر آئینی معاملات دیکھنے کے لیے بنائی جائے گی، مگر یہ اقدام سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کر دے گا۔
اگر آئینی مقدمات سپریم کورٹ سے ہٹا کر ایک نئی عدالت کے سپرد کر دیے گئے تو عدلیہ کی بالادستی اور آزادی کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ اس سے وہ نظام تشکیل پائے گا جس میں اعلیٰ عدلیہ کی تقرری، تبادلے اور کارروائیوں پر ایگزیکٹو اور طاقتور اداروں کا اثر مزید بڑھ جائے گا۔

مجوزہ ترمیم میں قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبوں کو ملنے والے حصے پر بھی نظرِ ثانی کی بات کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام صوبائی خود مختاری کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہو گا۔ اگر این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کے مالی وسائل کم کیے گئے تو اس کے نتیجے میں وفاقی اکائیوں کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ ہو گا۔ پیپلز پارٹی، جو سندھ کی سب سے بڑی جماعت ہے، پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ صوبائی حصے میں کسی کمی کو قبول نہیں کرے گی۔ اگر حکومت نے اس نکتے کو نظرانداز کیا تو ترمیم کی منظوری کے باوجود سیاسی تصادم اور آئینی بحران کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

عباس ناصر نے یہ نکتہ اجاگر کیا ہے کہ گزشتہ 26ویں ترمیم کے موقع پر بھی آئین میں تبدیلی پارلیمان کے بجائے کہیں اور طے کی گئی تھی۔ یہی سلسلہ اب ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں آئینی فیصلے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر کیے جاتے ہیں اور پارلیمنٹ ایک ربڑ سٹیمپ بن چکی ہے۔ ترمیم کی تیاری میں منتخب نمائندوں کی بے بسی، اس بات کا ثبوت ہیں کہ جمہوری ادارے رفتہ رفتہ علامتی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔

عباس ناصر کہتے ہیں کہ اگر 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی حیثیت دے دی جاتی ہے تو یہ پاکستان کے آئینی اور عسکری نظام میں ایک بنیادی تبدیلی ہوگی جس سے صدر مملکت کا ادارہ بھی کمزور ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف کمانڈ اینڈ کنٹرول کا ڈھانچہ متاثر ہوگا بلکہ سول ملٹری تعلقات کا توازن بھی مستقل طور پر بدل جائے گا۔ عباس ناصر کا کہنا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم سے ایک ایسا قانونی فریم ورک وجود میں آ جائے گا جو مستقبل میں کسی بھی طاقتور فوجی شخصیت کو منتخب پارلیمنٹ سے بالاتر حیثیت فراہم کر دے گا۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ یہ ترمیم موجودہ نظامِ اقتدار کی تشکیلِ نو کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔

عباس ناصر کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم خفیہ طریقے سے پیش کرنے کی بجائے بحث کے لیے پارلیمنٹ میں رکھی جانی چاہیے۔ انکے مطابق جمہوریت کی روح یہ تقاضا کرتی ہے کہ آئین میں کوئی بھی تبدیلی عوامی بحث، سیاسی شفافیت اور پارلیمانی اتفاقِ رائے کے ذریعے ہو۔ بصورتِ دیگر یہ ترمیم ملک کے وفاقی ڈھانچے، عدلیہ کی آزادی اور جمہوریت کے بقاء تینوں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دے گی۔

Back to top button