پاکستان سے شکست کے بعد مودی مسلسل زوال پذیر کیوں ہیں؟

پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد سے بھارتی اپوزیشن کی تنقید کا نشانہ بننے والے وزیر اعظم مودی اب راہول گاندھی کی جانب سے الیکشن 2024 میں ہونے والی ننگی دھاندلی کے ثبوت پیش کیے جانے کے بعد شدید دباؤ میں ہیں اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

کانگریس رہنما راہول گاندھی کی جانب انڈیا میں 2024 میں ہونے والے الیکشن میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو جتوانے کے لیے کیے گئے فراڈ اور جعلی ووٹرز کے اندراج کے ثبوت  سامنے آنے کے بعد سے یہ معاملہ مزید سنگین رُخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ انڈین اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن پر ووٹرز لسٹوں میں بڑے پیمانے پر فراڈ کرنے کا سنگین الزام عائد کر رہی ہیں۔اپوزیشن کا الزام ہے کہ گذشتہ انتخابات اور ریاستی الیکشنز میں ووٹرز لسٹوں میں یوں ہیرا پھیری اور دھاندلی کی گئی کہ جس سے حکمراں جماعت کو انتخابی فائدہ ہوا۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے اُن 65 لاکھ لوگوں کی لسٹ مانگی تھی جن کے نام ووٹرز لسٹ سے نکال دیے گئے ہیں، لیکن الیکش کمیشن نے قانون کا حوالہ دے کر ووٹرز کی تفصیل سپریم کورٹ کو بھی دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس انکار کے بعد اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے ایک نیوز کانفرنس میں کرناٹک کی صرف ایک اسمبلی حلقے کی ووٹرز لسٹ کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ اس کی ووٹرز لسٹ میں ایک لاکھ جعلی ووٹرز شامل کیے گئے۔ راہول نے دعویٰ کیا کہ اس لسٹ میں کم ازکم ایسے 30 ہزار ووٹرز ہیں، جن کے پتے کے خانے میں کچھ نہیں لکھا گیا۔ انھوں نے کہا کہ 18 سال کی عمر کو پہنچنے والے ایسے لوگ جو پہلی مرتبہ ووٹ دینے کا حق استعمال کرتے ہیں، ان کی لسٹ میں ہزاروں نام ایسے ہیں جن کی عمریں 80 اور 90 برس کے درمیان ہیں۔

راہول گاندھی نے ایسی مثالیں بھی پیش کیں کہ جن میں ایک کمرے کے مکان پر 80 رجسٹرڈ ووٹرز کو دکھایا گیا۔ راہول نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کی جانب سے یہ عمل گذشتہ کئی انتخابات میں منظم طریقے سے جاری ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ‘الیکشن کمیشن بی جے پی کے ساتھ ووٹوں کی چوری میں ملوث ہے۔’ اسی دھاندلی کے خلاف 11 اگست کو متحدہ اپوزیشن کے ارکان پارلیمان نے الیکشن کمیشن کے دفتر تک احتجاجی مارچ کیا۔ اپوزیشن رہنما کمیشن کے ذمہ داران سے ملنا چاہتے تھے، مگر اس سے قبل انھیں حراست میں لے لیا گیا۔

اب اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ میں ووٹر لسٹوں میں دھاندلی کے الزامات پر بحث چاہتی ہیں لیکن مودی حکومت کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن سے متعلق سوال پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہو سکتی۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ ان کی جانب سے جو اقدامات اٹھائے جاتے ہیں وہ طے شدہ ضابطوں کے تحت ہوتے ہیں۔ لیکن الیکشن کمیشن نے ابھی تک راہول گاندھی کی جانب سے لگائے گئے دھاندلی سے متعلق الزامات کا جواب نہیں دیا ہے۔

دوسری جانب حکمراں جماعت بی جے پی نے اپوزیشن پر الزام لگایا ہے کہ وہ عوام کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد کبھی الزام ووٹنگ مشینوں پر عائد کرتی ہے اور کبھی الیکشن کمیشن پر۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ ‘راہول گاندھی انتخابی عمل کے بارے میں بے بنیاد الزامات لگا کر جمہوری اداروں کو کمزور کر رہے ہیں۔’ دراصل الیکشن کمیشن کے خلاف انتخابی دھاندلی کے الزامات میں اُس وقت شدت آئی جب کمیشن کی جانب سے ریاست بہار میں ہونے والے انتخابات سے محض تین ماہ قبل ووٹر لسٹوں پر نظر ثانی کے خصوصی عمل کا آغاز کیا گیا تھا۔

بھارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹروں کی جامع نظرِ ثانی کا خصوصی عمل 25 جون سے 26 جولائی تک جاری رہا تھا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، اس دوران اہلکاروں نے ریاست بہار کے درج شدہ 7 کروڑ 89 لاکھ ووٹرز کے گھروں میں جا کر اُن کا ڈیٹا چیک کیا۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ آخری بار ووٹر لسٹوں پر اس نوعیت کی نظرِ ثانی 2003 میں ہوئی تھی اور اب انھیں اپ ڈیٹ کرنا ضروری تھا۔ تاہم کمیشن کی جانب سے جاری نئی عبوری فہرست میں 7 کروڑ 24 لاکھ نام ہیں، یعنی پچھلی فہرست سے 65 لاکھ کم۔

نظر ثانی کے اس عمل کے تحت بہار میں رجسٹرڈ کروڑوں ووٹرز سے شہریت کی تصدیق کے لیے پاسپورٹ، برتھ سرٹیفیکیٹ اور رہائشی سرٹیفیکٹ جیسی دستاویزات مانگی گئی ہیں۔اپوزیشن کو خدشہ ہے کہ کروڑوں غریب اور ناخواندہ شہری، جن کے نام ووٹرز لسٹوں سے نکال دیے گئے ہیں، یہ دستاویز جمع نہیں کروا سکیں گے۔ اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی لسٹوں سے نکالے گئے 65 لاکھ ووٹرز کی لسٹ مانگی تھی، لیکن الیکشن کمیشن نے قانون کا حوالہ دے کر یہ لسٹ شیئر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

چنانچہ یہ معاملہ اب طول پکڑ چکا ہے۔

امریکہ کی پاکستان میں انڈین دہشت گردنیٹ ورک کی تصدیق

راہول گاندھی کی زیر قیادت بھارتی اپوزیشن الیکشن 2024 میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کے الزام پر متحد ہے اور نریندر مودی کا استعفی مانگ رہی ہے۔ راہول کا کہنا ہے کہ اگر الزامات کی اعلی سطحی تحقیقات نہیں کی جاتیں تو وہ بہار کے الیکشن کا بائیکاٹ بھی کر سکتے ہیں۔

Back to top button