نواز شریف پاکستانی سیاست سے مائنس کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟

 

 

 

وفاق میں وزیرِاعظم شہباز شریف اور پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کے برسرِاقتدار ہونے کے باوجود یہ تاثر تیزی سے مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ تین مرتبہ وزیرِاعظم رہنے والے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف آہستہ آہستہ سیاست سے مائنس ہوتے جا رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے رکن اور نون لیگ کے سربراہ ہونے کے باوجود نواز شریف کی قومی سطح پر اہم سیاسی اور ریاستی معاملات میں براہِ راست موجودگی کم ہی دکھائی دیتی ہے۔

 

موجودہ حکومت اپنے قیام کے دو سال مکمل کر چکی ہے۔ حکومت کی قیادت بظاہر سابق وزیراعظم نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے، تاہم عملی سطح پر اقتدار کی باگ ڈور وزیرِاعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ہاتھ میں نظر آتی ہے۔ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف نہ صرف قومی اسمبلی کے رکن ہیں بلکہ پارٹی کے صدر بھی ہیں۔ عام انتخابات 2024 کے بعد وہ منتخب ہونے کے باوجود چوتھی مرتبہ وزارتِ عظمیٰ حاصل نہ کر سکے۔ پارٹی قیادت کا مؤقف تھا کہ چونکہ مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی، اس لیے شہباز شریف کو وزیرِاعظم نامزد کیا گیا تاکہ وہ اتحادی حکومت تشکیل دے سکیں۔

 

اگرچہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ وفاق اور پنجاب میں ہونے والے ہر بڑے حکومتی فیصلے میں نواز شریف کی مشاورت اور رہنمائی شامل ہوتی ہے، تاہم عملی سیاست میں ان کی سرگرمی محدود دکھائی دیتی ہے۔ خاص طور پر ریاستی اور قومی نوعیت کے معاملات پر نواز شریف کی جانب سے براہِ راست مؤقف یا بیانات کم کم ہی سامنے آتے ہیں۔ 2025 کے دوران نواز شریف کی سیاسی سرگرمیاں زیادہ تر پنجاب تک محدود رہیں۔ وہ کئی مرتبہ پنجاب کابینہ کے اجلاسوں میں شریک ہوئے، بجٹ سے قبل مشاورتی اجلاسوں میں شرکت کی اور میگا ترقیاتی منصوبوں پر بھی بریفنگ لی۔ لاہور میں واقع اپنی رہائش گاہ جاتی امرا میں انہوں نے شہباز شریف، مریم نواز اور اسحاق ڈار سے ملاقاتیں کیں، جن میں انہیں بھارت اور افغانستان کے ساتھ کشیدگی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، توانائی بحران اور سکیورٹی معاملات پر بریفنگ دی گئی۔ تاہم کئی اہم ملکی آئینی و سیاسی معاملات پر نواز شریف کی واضح پوزیشن سامنے نہیں آئی حالانکہ وہ اپنی پارٹی کے صدر ہیں۔

 

نواز شریف کی خاموشی بارے ان کے سابق قریبی ساتھی اور سابق سینیٹر آصف کرمانی کا کہنا ہے کہ میاں صاحب نے خود کو سیاسی طور پر غیر متعلق کر لیا ہے۔ خیال رہے کہ کرمانی اب نواز شریف کے ساتھ نہیں اور ان کی جماعت کو چھوڑ چکے ہیں۔ وہ 18 برس تک نواز شریف کے پولیٹکل سیکریٹری اور پھر وزارت عظمی کے دور میں نواز شریف کے سیاسی امور کے سپیشل اسسٹنٹ رہے۔ آصف کرمانی کے خیال میں نواز شریف اور ان کی جماعت کی سیاست جس مقام پر آن کھڑی ہے اس کی چند وجوہات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف ہمیشہ دوتہائی اکثریت یا اکثریت کے ساتھ حکومتیں بناتے رہے، چاروں صوبوں میں بھی حتیٰ کہ گلگت بلتستان میں بھی۔ سنہ 2018 میں بھی جب انھوں نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگایا تو عوام میں ان کی مقبولیت بہت زیادہ تھی۔لیکن لندن میں جب ان کو ووٹ کو عزت دو کے نعرے سے ان کی پارٹی نے دستبردار کروا دیا تو ان کی مقبولیت اور ریلیوینس میں کمی آئی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کے لندن میں چار سالہ طویل قیام کی وجہ سے ان کا رابطہ اپنے پارٹی ورکر سے اور حلقوں کے کارکنوں سے کٹ چکا ہے۔ ان کے خیال میں نون لیگ کی جانب سے اتحادی حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کا بھی انھیں نقصان ہوا ہے۔ آصف کرمانی کے بقول عمران کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ تک تو ٹھیک تھا لیکن اس کے بعد ان کی خواہش تھی اور وہ یہ چاہتے تھے کہ جلد از جلد الیکشن کروا دیے جائیں۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ دوسرا نواز شریف پی ڈی ایم کیبجانب سے عمران کی فراغت کے بعد حکومت لینے کے خلاف تھے۔ آصف کرمانی کہتے ہیں کہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پی ڈی ایم کی حکومت ک ناقص کارکردگی کا ملبہ بھی نواز شریف اور ان کی جماعت پر آن گرا۔ اس کا نتیجہ 8 فروری 2024 کے الیکشن میں سامنے آیا۔آصف کرمانی کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ دو ایسے صدمات تھے جن کی وجہ سے ’نواز شریف ذاتی طور پر بھی دل چھوڑ بیٹھے۔ ان میں ان کی والدہ اور ان کی اہلیہ کا دنیا سے چلے جانا تھا۔ وہ ان سے مشاورت بھی کرتے تھے اور ان کے ہمیشہ مشورے میاں صاحب کے شامل حال ہوتے تھے۔‘ ان کی رحلت کے بعد نواز شریف سیاسی طور پر خاموش ہو گئے ہیں۔

عمران خان چھوٹی کے علاوہ بڑی عید بھی جیل میں ہی گزاریں گے

دوسری جانب سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار کھوسہ بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ نواز شریف اب پارٹی میں عملی طور پر مؤثر کردار ادا نہیں کر رہے۔ ان کے بقول، پالیسی سازی اور ریاستی معاملات اب شہباز شریف کے ہاتھ میں ہیں اور نواز شریف کا کردار محض علامتی رہ گیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق نواز شریف اس وقت ایک ایسے ہائبرڈ نظام میں غیر مؤثر ہو چکے ہیں جہاں فوجی اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف کو زیادہ قابلِ قبول سمجھتی ہے۔  ان کے مطابق پارٹی کے اندر بھی دو مضبوط مراکز یعنی شہباز شریف اور مریم نواز اب سامنے آ چکے ہیں، جس کی وجہ سے نواز شریف کے لیے عملی سیاست میں گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر اور سابق وفاقی وزیر پرویز رشید اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اندر حتمی لیڈر نواز شریف ہی ہیں اور وزیراعظم اور وزیراعلیٰ دونوں ان سے مشاورت کرتے ہیں۔ تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق نواز شریف کی خاموش موجودگی، جو کبھی جارحانہ اور مزاحمتی سیاست کی علامت سمجھے جاتے تھے، اب ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ آیا یہ خاموشی ایک حکمتِ عملی ہے یا عملی سیاست سے تدریجی کنارہ کشی—اس کا حتمی جواب شاید آنے والا وقت ہی دے سکے گا۔

Back to top button