صدر ٹرمپ مجتبی خامنہ ای سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟

 

 

 

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کیے جانے کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو جانشین کے طور پر قبول نہ کرنے کے اعلان کے پیچھے یہ خوف پنہاں ہے کہ اگر مجتبیٰ نئے رہبرِ اعلیٰ بنتے تو وہ اپنے والد کی طرح امریکہ مخالف سخت گیر پالیسیوں کو جاری رکھیں گے۔

ویسے بھی ایک ایسا شخص جس نے اپنے والد، والدہ اور بیوی کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں کھو دیا ہو، اس کے مغربی دباؤ کے سامنے جھکنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔ اسی وجہ سے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ٹرمپ انہیں بطور جانشین قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

 

امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں کہا ہے کہ ایرانی رہبر اعلیٰ خامنہ ای کے جانشین کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب ان کے لیے ناقابل قبول ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ کے انتخاب میں امریکہ کا کردار ہونا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے کہ وینزویلا میں نئی قیادت کا فیصلہ کرتے وقت امریکہ نے کردار ادا کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس منصب کے لیے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ ان کی نامزدگی کو قبول نہیں کریں گے۔

 

آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ابتدائی دنوں میں یہ کہا گیا کہ کیا انکے بیٹے مجتبیٰ بھی حملوں میں مارے گئے ہیں۔ کئی دنوں تک اس حوالے سے کوئی واضح اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم 3 مارچ کو ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور اہم ملکی معاملات پر فیصلہ سازی میں مصروف ہیں، اگرچہ وہ اب تک عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کے نئے رہبر اعلیٰ کے لیے مضبوط ترین امیدوار سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی تصدیق کرنا ابھی مشکل ہے۔

 

اس سلسلے میں  88 ارکان پر مشتمل مذہبی ادارے اور رہبر اعلیٰ کے انتخاب کا اختیار رکھنے والی مجلسِ خبرگانِ رہبری کے اجلاس کو فیصلہ کن مرحلے کے قریب قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم نئے رہبر اعلیٰ کے اعلان کا امکان آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد ہی ظاہر کیا جا رہا ہے جسے وقتی طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔

 

یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای 8 ستمبر 1969 کو ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم تہران کے معروف مذہبی تعلیمی ادارے علوی اسکول تہران سے حاصل کی۔ ایرانی ذرائع کے مطابق 17 سال کی عمر میں انہوں نے ایران عراق جنگ کے دوران مختصر مدت کے لیے کئی بار فوجی خدمات انجام دیں۔ یہ آٹھ سالہ جنگ ایرانی قیادت کے لیے انتہائی اہم تجربہ ثابت ہوئی جس نے حکومت کو امریکہ اور مغربی ممالک کے بارے میں مزید بداعتماد بنا دیا، کیونکہ اس تنازع کے دوران مغربی ممالک کو عراق کی حمایت کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

 

سنہ 1999 میں مجتبیٰ خامنہ ای مذہبی تعلیم کے لیے ایران کے مقدس شہر قم منتقل ہوئے، جو شیعہ دینی تعلیم کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت تک انہوں نے مذہبی لباس اختیار نہیں کیا تھا۔ وہ تیس برس کی عمر میں مدرسے میں داخل ہوئے۔ اسوقت انہیں درمیانے درجے کا عالم دین سمجھا جاتا ہے، جو ان کے لیے رہبر اعلیٰ بننے کی راہ میں ایک ممکنہ رکاوٹ بھی بن سکتا ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ اپنے والد خامنہ ای کی زندگی میں سیاسی فیصلہ سازی میں اہم ترین کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ خامنہ ای کی شہادت کے بعد سے ایرانی میڈیا نے مجتبی کو “آیت اللہ” کہہ کر پکارنا شروع کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام ان کی مذہبی حیثیت کو بلند کرنے اور انہیں ملک کی اعلیٰ قیادت کے لیے ایک قابل قبول امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔

 

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران میں آیت اللہ کا رتبہ دینی علمی مقام کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اسے اعلیٰ قیادت کے لیے اہم شرط قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم اس کی ایک مثال خود آیت اللہ علی خامنہ ای کی صورت میں موجود ہے، جنہیں 1989 میں رہبر اعلیٰ منتخب کیے جانے سے قبل جلدی میں آیت اللہ کے درجے پر فائز کیا گیا تھا۔ اپنے والد کے برعکس مجتبیٰ خامنہ ای ہمیشہ نسبتاً غیر نمایاں اور پس منظر میں رہنے والی شخصیت رہے۔ انہوں نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا اور نہ ہی عوامی تقاریر یا انٹرویوز دیے۔ ان کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بہت محدود تعداد میں سامنے آئی ہیں۔ اس کے باوجود ان کے سیاسی اثر و رسوخ کے بارے میں طویل عرصے سے افواہیں گردش کرتی رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای تک رسائی اکثر مجتبیٰ کے ذریعے ہی ممکن ہوتی تھی اور وہ پس پردہ کئی اہم سیاسی معاملات میں اثر انداز ہوتے تھے۔

 

وکی لیکس کی جاری کردہ امریکی سفارتی کیبلز میں مجتبیٰ خامنہ ای کو “عبا کے پیچھے موجود طاقت” قرار دیا گیا تھا۔ انہیں حکومت کے اندر ایک قابل اور طاقتور شخصیت قرار دیا گیا تھا۔ مجتبیٰ پہلی مرتبہ 2005 کے صدارتی الیکشن کے دوران عوامی توجہ کا مرکز بنے جب محمود احمدی نژاد صدر منتخب ہوئے۔ اصلاح پسند امیدوار مہدی کروبی نے خامنہ ای کو لکھے ایک خط میں الزام لگایا تھا کہ مجتبیٰ نے پاسداران انقلاب کے ذریعے انتخابی عمل میں مداخلت کی اور احمدی نژاد کی کامیابی کے لیے مذہبی حلقوں میں پیسے تقسیم کروائے۔ چار سال بعد 2009 کے صدارتی انتخابات کے دوران بھی ان پر اسی نوعیت کے الزامات سامنے آئے۔ ان انتخابات میں احمدی نژاد کی دوبارہ کامیابی کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع ہوئی جسے گرین موومنٹ ایران کہا جاتا ہے۔ اس دوران بعض مظاہرین نے اس امکان کے خلاف بھی نعرے لگائے کہ مجتبیٰ اپنے والد کی جگہ رہبر اعلیٰ بن سکتے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ عالمی ناانصافی کیوں ہے؟

ایسے میں امریکی صدر ٹرمپ کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اگر مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے رہبر اعلیٰ منتخب ہوتے ہیں تو وہ اپنے والد کی سخت گیر امریکہ مخالف خارجہ اور داخلی پالیسیوں کو جاری رکھیں گے۔ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر مجتبی اپنے والد کے جانشین مقرر ہوتے ہیں تو ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی جان بچانا ہوگا۔ ان کے سامنے دوسرا بڑا چیلنج ایران اور اسکے نظام کی بقا کو یقینی بنانا اور عوام کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ وہ ان کے ملک کو سیاسی اور معاشی بحران سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر مجتبی رہبر اعلیٰ منتخب ہوتے ہیں تو یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ ایران ایک موروثی نظام کی جانب بڑھ رہا ہے، جو عوامی بے چینی میں اضافہ کر سکتا ہے۔

Back to top button