پی ٹی آئی باجوڑ آپریشن میں طالبان کے ساتھ کیوں کھڑی ہے ؟

عمران خان کی جماعت تحریک انصاف نے باجوڑ میں طالبان دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے حوالے سے دوغلی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ وزیراعلی گنڈاپور کبھی تو آپریشن کی حمایت میں بولتے ہیں اور کبھی اس کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔ گنڈاپور وفاق اور فوجی قیادت کے سامنے فوجی آپریشن کی حمایت کرتے ہیں لیکن جب وہ عمران سے جیل میں ملتے ہیں تو اس آپریشن کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل ماموند میں طالبان شدت پسندوں کا قبضہ ختم کرنے کے لیے ’ٹارگٹڈ آپریشن‘ جاری ہے۔ ماموند میں مکمل کرفیو نافذ ہے جبکہ ضلع بھر میں تمام شاہراؤں کے لیے سیکشن 144 نافذ کرتے ہوئے مقامی آبادی سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔اگرچہ آپریشن پہلے ماموند کے مختلف دیہاتوں میں شروع کیا گیا تھا لیکن اب اطلاعات ہیں کہ اسکا دائرہ کار پورے ضلع میں پھیلا دیا گیا ہے کیونکہ باجوڑ میں داخلی راستے بند کر دیے گئے ہیں، شاہراہوں پر مکمل ویرانی ہے اور بیشتر اہم بازار بھی بند پڑے ہیں۔ یہ آپریشن مقامی عمائدین اور سیاسی رہنماؤں پر مشتمل ایک جرگے کے طالبان سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد شروع کیا گیا ہے۔

اس جرگے میں مقامی سیاسی اور قبائلی رہنما شامل تھے جن میں سابق رکن قومی اسمبلی ہارون رشید، تحریک انصاف کے سابق رکن قومی اسمبلی گل ظفر خان، رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر حمید، ڈاکٹر خلیل، ملک خالد اور دیگر شامل ہیں۔ جرگہ اراکین نے شدت پسندوں سے لغڑی ماموند کے علاقے میں ملاقاتیں کیں اور ان سے کہا ہے کہ وہ آبادی سے نکل جائیں کیونکہ ان کی موجودگی سے عام شہری بری طرح متاثر ہو رہے ہیں لیکن کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے جرگے کے ایک رکن نے بتایا کہ اگر طالبان آبادی سے نکل کر پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں اور وہاں جنگ ہوتی ہے تو وہ جنگ بھی آبادی میں ہی واپس آئے گی، یہی وجہ ہے کہ جرگہ اراکین اس جنگ کے ہی خلاف ہیں۔

تاہم عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف جنگ کی نہیں بلکہ طالبان کے خلاف آپریشن کی مخالفت کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایسے وقت میں جب کہ ریاست پاکستان باجوڑ میں طقلبان کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ٹارگٹڈ آپریشن کر رہی ہے، پی ٹی آئی اور اسکی صوبائی حکومت طالبان کی حمایت میں سرگرم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کی نفرت میں ٹی آئی کا رویہ ملک دشمنی اور کھلی بغاوت کے مترادف ہے۔

عسکری ذرائع کے مطابق باجوڑ میں نہ صرف تحریک طالبان سرگرم عمل ہے بلکہ افغان طالبان کی ایک بڑی تعداد بھی وہاں موجود ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ باجوڑ افغان سرحد سے متصل ہے، جہاں سے عسکریت پسند تنظیموں کے عناصر کی آمد و رفت آسان ہے۔ یہاں تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان کے علاوہ خراسان کے جنگجو بھی ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں، حالیہ مہینوں میں ان کی کارروائیاں ایک بار پھر زور پکڑ چکی ہیں۔رواں ماہ کے آغاز میں ایک بم دھماکے میں باجوڑ کے اسسٹنٹ کمشنر فیصل اسماعیل، ایک تحصیلدار اور دو پولیس والوں کی شہادت کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ایک محدود آپریشن شروع کیا تھا تاکہ مقامی آبادی کو شدت پسندوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

تاہم تحریک انصاف نے آپریشن شروع ہونے کے بعد احتجاجی طرز سیاست اپناتے ہوئے طالبان کی پشت پناہی شروع کر دی۔ بجائے اس کے کہ پی ٹی آئی عوام کو دہشتگردی کے خلاف ریاستی موقف پر متحد کرے، ادکی مقامی قیادت تحصیل ماموند میں جاری آپریشن کے خلاف مظاہروں کی قیادت کر رہی ہے۔

باجوڑ آپریشن کی وجہ سے قبائلی عوام نقل مکانی پر مجبور

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مشتاق یوسفزئی نے بتایا کہ کچھ عرصے کے دوران باجوڑ میں شدت پسندوں کی ایک بڑی تعداد واپس آ گئی تھی۔ اندازے کے مطابق ان کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ان میں افغان شہری بھی شامل ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ شدت پسند آبادی میں شامل ہو گئے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی میں فوج کو مشکلات کا سامنا ہے۔  لوگوں کا کہنا ہے کہ عام شہری مشکل صورت حال میں ہیں کیونکہ مسلح کارروائیوں میں نقصان عام شہریوں کا ہوتا ہے جس وجہ سے لوگوں نے نقل مکانی بھی شروع کر دی ہے۔

Back to top button