ایران میں زمینی افواج بھیجے بغیر ریجیم چینج ممکن کیوں نہیں؟

 

 

 

معروف تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا اصل مقصد اس کے نیوکلیئر اور میزائل پروگرام کا خاتمہ نہیں بلکہ وہاں ریجیم چینج کرنا ہے، تاہم انکے مطابق ایسا تب تک ممکن نہیں جب تک اسرائیل اور امریکی بری افواج ایران میں داخل نہ ہو جائیں، جو بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔

 

اپنے سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ محض فضائی حملوں اور دور مار میزائلوں کے ذریعے ایران میں حکومت کی تبدیلی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن اور تل ابیب واقعی تہران میں اقتدار کا توازن بدلنا چاہتے ہیں تو انہیں زمینی افواج اتارنا ہوں گی، جس کے لیے نہ صرف خطے بلکہ خود امریکہ میں بھی سیاسی و عسکری آمادگی دکھائی نہیں دیتی۔

 

نصرت جاوید کے مطابق ایران پر حملوں کا سلسلہ ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں طاقت کا نیا توازن قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفارت کاری کا ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے وہ کبھی اس خوش فہمی کا شکار نہیں ہوئے کہ امریکہ اور ایران کے مابین معاملات محض مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائیں گے، کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں طاقت کی سیاست زیادہ غالب ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگر واقعی مشرق وسطیٰ کو مستقل امن کی طرف لے جانا مقصود ہوتا تو امریکی صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو غزہ سے متعلق تشکیل دیے گئے ’بورڈ آف پیس‘ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت پر آمادہ کرتے۔ ان کے بقول نیتن یاہو نے اس اجلاس سے تقریباً ایک ہفتہ قبل واشنگٹن کا دورہ تو کیا اور دستاویزات پر دستخط بھی کیے، تاہم پہلے اجلاس میں شریک نہ ہو کر ایک واضح پیغام دیا۔

 

نصرت جاوید کے مطابق عالمی امور پر نظر رکھنے والے کئی حلقوں کا خیال تھا کہ ٹرمپ نے جان بوجھ کر نیتن یاہو کو افتتاحی اجلاس سے دور رکھا تاکہ پاکستان سمیت ان اسلامی ممالک کے رہنماؤں کو سبکی سے بچایا جا سکے جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔ تاہم سینئیر صحافی کے نزدیک یہ بھی ممکن ہے کہ ’بورڈ آف پیس‘ کا تصور محض ایک سفارتی چال ہو، جسکے ذریعے دنیا کو یہ تاثر دیا گیا کہ امریکہ غزہ میں مستقل امن اور معمولات زندگی کی بحالی کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے معاملے میں تہران نے غیرمعمولی لچک کا مظاہرہ کیا۔ ایرانی قیادت نے بارہا واضح کیا کہ اس کے روحانی رہنما خامنہ ای نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کو حرام قرار دیا ہے۔ ایران نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ یورینیم کی افزودگی توانائی اور صحت کے شعبوں میں استعمال کے لیے ہے اور عالمی اعتماد کی بحالی کے لیے افزودگی کی سطح کم کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی گئی۔

 

نصرت جاوید کے مطابق ایران نے مہارت کے ساتھ مذاکرات کا محور اپنے جوہری پروگرام تک محدود رکھا اور اپنے میزائل پروگرام کو زیر بحث آنے سے بچایا۔ ان کے بقول اسرائیل کے لیے ایران کا میزائل پروگرام قلیل مدتی تناظر میں زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ اسی لیے نیتن یاہو نے کھلے عام عندیہ دیا کہ اگر امریکہ ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنے میں ناکام رہا تو اسرائیل خود کارروائی کر سکتا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کانگریس سے خطاب میں ایران کے میزائل پروگرام کو نہ صرف یورپ اور مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کے لیے خطرہ قرار دیا بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران مستقبل میں امریکہ تک مار کرنے والے میزائل بنانے کی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے۔

 

نصرت جاوید کے مطابق اس بیان کو سنجیدگی سے نہ لینے کے باعث خطے میں حالیہ حملوں پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سینئیر صحافی نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے چند گھنٹوں بعد ٹرمپ کی ریکارڈ شدہ تقریر جاری ہونا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ واشنگٹن اس پیش رفت سے لاعلم نہیں تھا۔ ان کے مطابق امریکی بیانیہ یہ رہا کہ ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ مخالف نعروں اور اقدامات میں ملوث ہے، لہٰذا موجودہ کشیدگی کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی حالیہ تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ امریکی قیادت عالمی نظام کو طاقتور ممالک کے حلقہ ہائے اثر میں تقسیم کرنے کی سوچ رکھتی ہے۔ ان کے بقول روس اور چین کے ساتھ مسابقت اور اشتراک کے تناظر میں ایک نئے طرز کے عالمی بندوبست کی بات کی جا رہی ہے، جس میں مشرق وسطیٰ کی سیاست کلیدی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر حملے کا ہدف محض جوہری یا میزائل پروگرام نہیں بلکہ ’ریجیم چینج‘ بھی ہے۔ ان کے مطابق ایسے اشاروں کے بعد ایرانی قیادت خود کو بقا کی جنگ میں سمجھتے ہوئے اپنے دستیاب وسائل استعمال کرنے پر مجبور ہوسکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ اس کے ہمسایہ ممالک تک پھیل سکتے ہیں۔

خامنہ ای کے قتل کے منصوبے کی خفیہ تفصیلات سامنے آ گئیں

نصرت جاوید نے 2003 میں عراق پر امریکی حملے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تب صدر جارج بش کی قیادت میں امریکی افواج نے کویت کے راستے بصرہ سے بغداد تک پیش قدمی کی تھی اور صدام حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔ ان کے مطابق ایران کا رقبہ عراق سے کہیں زیادہ وسیع ہے اور وہاں زمینی مداخلت کے لیے بھاری فوجی نفری درکار ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بری افواج کے استعمال کے بغیر ایران میں پھیلائی گئی تباہی نہ صرف اس ملک بلکہ پورے خطے میں طویل مدتی عدم استحکام اور انتشار کو جنم دے سکتی ہے۔

 

Back to top button