سینیئر صحافی روؤف کلاسرا عمران خان کے ناقد کیوں ہیں؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار رووف کلاسرا نے کہا ہے کہ اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ عمران خان کے خلاف کیوں ہیں؟ ایسے لوگوں کے لیے جواب یہ ہے کہ میں عمران خان کا نہیں بلکہ ان کی غلط پالیسیوں کا ناقد ہوں جن سے نہ صرف انکی سیاست خراب ہوئی بلکہ پاکستان کا بھی نقصان ہوا۔
اپنی تازہ تحریر میں روؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ مجھے 2018ء میں عمران خان کو ایک دھاندلی زدہ الیکشن کے نتیجے میں وزیراعظم بنوائے جانے کے بعد احساس ہو گیا تھا کہ خان نے جو بھی باتیں کی تھیں وہ ملک یا عوام کی خدمت کیلئے نہیں بلکہ محض وزیراعظم بننے کیلئے تھیں۔ 2018 میں ابھی انہوں نے وزارت عظمی کا حلف نہیں اٹھایا تھا اور علیم خان کے جہاز پر سعودی عرب عمرہ کرنے جارہے تھے۔ ان کے ساتھ بشریٰ صاحبہ کے علاوہ زلفی بخاری بھی موجود تھے۔ امیگریشن کے وقت ایئرپورٹ پر پتہ چلا کہ زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں ہے۔ عمران نے ایئر پورٹ سے نگران حکومت کے وزیر داخلہ اور سیکرٹری داخلہ کو فون کر کے کہا کہ اس کا نام فوراً بلیک لسٹ سے نکالو۔ انہیں بتایا گیا کہ اس کام کیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس کا اجلاس بلانا پڑے گا اور پھر فیصلہ ہو گا۔ اس میں کچھ دن لگ جائیں گے۔ لیکن خان صاحب نے حکم دیا کہ نہیں‘ سب کچھ ابھی کر کے دیں۔ ذہن میں رکھیں کہ عمران خان ابھی وزیراعظم نہیں بنے تھے۔ زلفی بخاری کیلئے فوری طور پر اجلاس بلایا گیا۔ اس اجلاس کی فوری سمری تیار ہوئی اور زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکال دیا گیا اور یوں جہاز روانہ ہوا۔ اس عمل میں ڈھائی گھنٹے لگے اور خان صاحب اور ان کے ساتھی ڈھائی گھنٹے تک ایئر پورٹ پر رہے۔
روؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ مجھے اسی دن مجھے احساس ہو گیا تھا کہ خان صاحب کے نزدیک انصاف وہی ہے جو مخالفوں پر اپلائی ہو۔ اپنے اور اپنے ڈونرز کیلئے ان کا انصاف الگ ہے۔ زلفی بخاری کا نام چند گھنٹوں میں بلیک لسٹ سے نکلوا دیا گیا، جو قانوناً ایک دو ہفتے کا عمل تھا۔ خان کو اس معاملے میں اپنی تقریریں‘ اپنے حلف اور اپنے وعدے یاد نہیں رہے۔ اس کے بعد عمران نے وزیراعظم بن کر ہر اس بات کی خلاف ورزی کی جس کا وعدہ وہ بائیس سال کرتے رہے۔ وہ ہر بات سے مکرے۔ جب وہ وزیراعظم تھے اُس دور میں ان کے وڈیو کلپس ہی عوام کی تفریح کا ذریعہ تھے۔ تازہ صورتحال دیکھ لیں۔ پارلیمنٹ میں بلوچستان کے ایشو پر سیاسی جماعتوں کو بریفنگ کا انتظام کیا گیا جس میں تمام پارٹیوں کو دعوت دی گئی تاکہ مشترکہ پالیسی بنائی جا سکے۔ پہلے تو پی ٹی آئی نے ہامی بھر لی اور اپنے چودہ پارلیمنٹرینز کے نام بھی منظور کرکے دے دیے‘ لیکن پھر پی ٹی آئی رہنماؤں نے یہ شرط رکھ دی کہ وہ اس اجلاس سے پہلے عمران خان سے جیل میں ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ان کی ملاقات عمران خان سے نہ کرائی گئی تو وہ اس اجلاس میں شریک نہ ہوں گے۔ کچھ تو یہ کہہ رہے تھے کہ عمران خان کو پروڈکشن آرڈر پر جیل سے اسمبلی لایا جائے۔ اس پر مجھے پی ٹی آئی کے ایک پارلیمنٹرین کو یاد دلانا پڑا کہ عمران خان اس وقت اسمبلی کے رکن نہیں ہیں لہٰذا سپیکر قومی اسمبلی ان کے قانونی طور پر پروڈکشن آرڈر ایشو نہیں کر سکتا۔ ہاں انہیں پیرول پر رہا کر کے لایا جا سکتا ہے۔
سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ اس وقت بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کے چیئرمین‘ سلمان اکرم راجہ سیکرٹری جنرل اور عمر ایوب اپوزیشن لیڈر ہیں۔ کیا انہیں علم نہیں کہ اس ایشو پر پارٹی کا کیا مؤقف ہے یا کیا ہونا چاہیے؟ کیا پارٹی کے لوگ سیاسی لحاظ سے باشعورنہیں ہیں کہ اگر عمران خان سے ملاقات نہیں ہو گی تو وہ اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے اور بائیکاٹ کریں گے؟ اس بائیکاٹ کا فائدہ حکومت کو ہو گا جو بار بار یہ بات کہتی ہے کہ پی ٹی آئی نیشنل سکیورٹی کے ایشوز میں دلچسپی نہیں دکھاتی جو کہ اس بڑی پارٹی کو دکھانی چاہیے۔
رووف کلاسرا کہتے ہیں کہ میں حیران ہوں کہ آج عمران خان انہی چور ڈاکوؤں کے ساتھ کیوں بیٹھنا چاہتے ہیں جن کے ساتھ وہ FATF کے حوالے سے اجلاس میں نہ بیٹھے تھے۔ چند برس قبل جب عمران خان وزیراعظم تھے تو اس وقت ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ سنگین ہو گیا تھا۔ پاکستان گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں شامل ہونے کے قریب تھا۔ پاکستان کو کہا گیا کہ اگر بلیک لسٹ سے بچنا ہے تو پھر آپ کو قوانین میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ اس قانون سازی کیلئے عمران کے پاس اکثریت نہ تھی۔ اپوزیشن جماعتوں سے مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے بریفنگ دینی تھی۔ جب اپوزیشن ارکان‘ جن میں شہباز شریف‘ مولانا فضل الرحمن‘ بلاول بھٹو‘ خواجہ آصف اور دیگر شامل تھے‘ پہنچے تو پتہ چلا وزیراعظم عمران خان موجود نہیں ہیں۔ وزیراعظم کا پوچھا گیا تو علم ہوا انہوں نے ”چور ڈاکوؤں‘‘ کے ساتھ بیٹھ کر بریفنگ دینے یا سننے سے انکار کر دیا ہے۔ سب حیران ہوئے کہ اگر ملک کا وزیراعظم اس اہم ایشو پر بھی اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں تو پھر وہ ملک کیسے چلائے گا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کو ہٹانے کا فیصلہ کرانے میں اس بریفنگ کا بھی کچھ رول تھا جس میں خان نے شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔
اس حرکت نے فوجی قیادت کو یہ احساس دلایا کہ یہ بندہ کیا ملک چلائے گا۔ خان وزیراعظم تھا تب بھی اہم قومی معاملات پر بریفنگ کا بائیکاٹ کیاتھا‘ آج خان جیل میں ہے تو بھی اسنے اپنی جماعت سے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کروایا ہے۔ مختصر یہ کہ ہمارا خان واقعی ایک دلچسپ کردار ہے۔
