خیبرپختونخوا میں خون خرابے کی ذمہ دار تحریک انصاف کیوں ہے؟

خیبرپختونخوا میں خون خرابے کی ذمہ دار تحریک انصاف کیوں ہے؟حالیہ برسوں میں پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی بنیادی وجہ سال 2021 میں عمران خان حکومت کی جانب سے تحریک طالبان کے جنگجوؤں کو افغانستان سے پاکستان سے واپس لا کر ازسرنو آباد کرنا یے۔ بعد میں جب آنے والی فوجی قیادت نے طالبانی دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا تو انہوں نے ردعمل میں حملے اور بھی تیز کر دیے، تاہم خیبر پختون خواہ اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکامی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی گنڈاپور حکومت خود طالبان سے ذہنی طور پر ہم آہنگ ہے اور اس کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران دہشتگردی کے واقعات اور ان کے اثرات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اگست 2024 میں بی ایل اے کے ہاتھوں موسٰی خیل میں پنجابی مسافروں کی شہادت ہو، کراچی میں چینی شہریوں پر حملے ہوں، ٹی ٹی پی کے سیکیورٹی فورسز پر حملے ہوں، یا کرم میں 48 اہل تشیع کی اموات ہوں، ایسے واقعات کی تعداد اور ان میں ہونے والی شہادتوں میں پہلے کی نسبت بہت ذیادہ اضافہ نظر آ رہا ہے۔

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بی ایل اے اور پشتون دہشتگرد تنظیم ٹی ٹی پی کا سامنا تو ہم پہلے سے پی کر رہے تھے لیکن گزشتہ چند ماہ سے کرم میں پاراچنار کے علاقے میں شیعہ سنی بنیادوں پر دہشت گردی بھی شروع ہو چکی تھی جو چند روز قبل اس قدر شدت اختیار کرگئی کے 48 قیمیتی جانوں کا ضیاع ہو گیا۔ یہ واقعہ پاکستان کے لیے ایک نیا سردرد بن چکا ہے۔

افغان امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسحاق احمد خٹک ماضی میں افغانستان میں پاکستان کے قونصلر رہے ہیں۔ حال ہی میں ان کی ایک کتاب ’دی لاسٹ وار‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے جو بنیادی طور پر افغانستان سے امریکی انخلا اور طالبان کی ایک بار پھر سے اقتدار میں واپسی سے متعلق ہے۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ خٹک نے کہا کہ جیسے آج کل ہم افغان عبوری حکومت سے شکایات کرتے ہیں کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کو کنٹرول نہیں کرتی اور دہشتگرد پاکستان کے اندر حملوں کے لیے افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہیں، بالکل ویسے ہی 2021 سے قبل افغان صدر حامد کرزئی اور امریکی فوج بھی ہم سے یہی شکایت کرتی تھی کہ پاکستان افغان حکومت اور ایساف فورسز پر طالبان کے حملے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کررہا۔

انکا کہنا یے کہ طالبان کرائے کے فوجی ہیں اور ان کی معیشت کا دارومدار اسی جنگ پر ہے۔ ان میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جنہیں سوائے بندوق چلانے کے اور کوئی کام نہیں آتا۔ اب بین الاقوامی قوتیں جن کا اس علاقے اور اس دہشتگردی سے مفاد جڑا ہے وہ ممکنہ طور پر ان کو استعمال کرتی ہیں۔ امریکا جس کے عالمی عزائم ہیں اور بھارت جس کے علاقائی عزائم ہیں وہ ایسی قوت کو خطے کا امن تباہ کرنے اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے کیوں استعمال نہیں کریں گے۔ بریگیڈیئر خٹک نے کہا کہ تحریک طالبان افغان طالبان کے ساتھ مل کر امریکیوں کے خلاف لڑتی رہی ہے، افغان طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا مذہب اور ثقافت اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ ٹی ٹی پی کی حمایت چھوڑ دیں یا ان کے خلاف آپریشن کریں،

مبصرین کے مطابق ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان نے اس مسئلے کو ہمیشہ فوجی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ضرب عضب کی وجہ سے یہ کوشش قدرے کامیاب بھی رہی جس کے نتیجے میں طالبان ادھر ادھر بھاگ گئے یا سلیپر سیلز میں چلے گئے، یہ ہماری ایجنسیوں کی ناکامی ہے کہ ہم ان کا پتا نہ لگا سکے۔

مبصرین کے مطابق جہاں اس معاملے میں وفاقی حکومت ذمہ دار ہے وہیں صوبائی حکومت کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا، انکا کہنا ہے کہ کے پی کی صوبائی حکومت کو بھی چاہیے کہ سیاست سے نکل کر عوام کی سیکیورٹی پر توجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نیشنل ایکشن پلان میں یہ طے کیا تھا کہ دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی کام کیے جائیں گے جو نہیں کیے گئے، اس کے علاوہ ایف سی جوانوں کی بڑی تعداد کو وی آئی پیز کی سیکیورٹی پر معمور کردیا گیا ہے جو ہماری ترجیحات کی غمازی کرتا ہے، ایف سی کو پارا چنار میں ہونا چاہیے تھا جہاں دہشتگردی کا بہت بڑا واقعہ پیش آیا لیکن وہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد میں بیٹھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن قائم کرنے کی صورت صرف یہی ہے کہ حکومت کی پوری توجہ اس مسئلے کو ختم کرنے پر مبذول ہونی چاہیے۔

اس سال بڑھتی ہوئی دہشتگردی میں اضافے کی اصل وجہ کیا ہے، اس سوال کے جواب میں سینیئر صحافی اور افغان امور کے تجزیہ نگار فخر کاکا خیل نے بتایا کہ بنیادی وجہ 2021 میں تحریک طالبان پاکستان کی پاکستانی علاقوں میں ازسرنو آباد کاری ہے جو تب کی تحریک انصاف کی حکومت اور اُس وقت کی فوجی قیادت کی بے وقوفی تھی جس کی جس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں، بعد میں آنے والی فوجی قیادت نے جب ان دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا تو اب وہ ردعمل میں حملے تیز کررہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت ہمیں اس معاملے سے بالکل لاتعلق نظر آتی ہے۔

اس حوالے سے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ کرم میں اتنا بڑا واقعہ ہوگیا، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو وہاں ہونا چاہیے تھا لیکن حالت یہ ہے کہ وزیراعلیٰ تو کیا کوئی وزیر تک وہاں نہیں گیا، ان کی ترجیح صرف اور صرف قیدی نمبر 804 ہے جس کے لیے وہ کانگ مارچ لے کر نکل پڑتے ہیں، انکا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی انتشار کی وجہ سے بھی دہشتگردی بڑھی ہے۔

سکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک چین سی پیک پراجیکٹ کی وجہ سے ماہ رنگ بکوچ، پی ٹی ایم اور بی ایل اے سب متحرک ہوگئے ہیں، اسکے علاوہ بنوں اور لکی مروت میں دہشتگردی کی وجہ حافظ گل بہادر گروپ ہے جس سے حکومت نے مذاکرات بھی کیے تھے جبکہ کرم میں دہشتگردی کی وجہ بین الاقوامی ہے کیونکہ شام اور عراق میں لڑنے والے لوگ یہیں سے جاتے تھے۔ انکے مطابق پاکستان کے تمام علاقوں میں دہشتگردی کی وجوہات گو کہ مختلف ہیں لیکن اگر کوئی مشترک شے ہے تو وہ افغانستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری اہم بات یہ ہے کہ وفاق نے خیبرپختونخوا کو بالکل آؤٹ سورس کردیا ہے، تحریک انصاف اور وفاقی وزیر دفاع کے بیانات اسکا ثبوت ہیں جو کہ ایک افسوس ناک صورتحال ہے۔

سکیورٹی امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ ماضی میں جب فوجی آپریشن کامیاب ہوئے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ سیاسی قیادت نے ان آپریشنز کی اونرشپ لی تھی، جیسا کہ اے این پی اور پیپلز پارٹی سوات آپریشن میں فوج کے ساتھ کھڑی تھی لیکن اس بار فوجی آپریشن کی کوئی سیاسی اونر شپ نہیں ہے۔

دہشتگردی ختم کرنے کے لیے سیاسی بے چینی ختم کرنے کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کی روک تھام کے لیے حکومت کو طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جن میں وفاق کے علاوہ صوبائی حکومت کا کردار بھی اہم ہو گا۔ لہذا ضروری ہے کہ علی امین گنڈا پور اہنے قائد عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج کرنے کی بجائے اپنے صوبے میں امن کی بحالی پر توجہ دیں۔

Back to top button