آئینی ترمیم سے ملٹری میں طاقت کا توازن کیوں بگڑنے والا ہے؟

 

 

 

 

اگرچہ وفاقی حکومت نے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل کا عہدہ رکھنے والے جنرل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفینس فورسز بنانے کو تینوں مسلح افواج کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن کی کوشش قرار دیا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ہی شخص کے پاس سارے اہم ترین عسکری عہدے ہونے سے ملٹری میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا اور بری فوج بحریہ اور فضائیہ پر حاوی ہو جائے گی۔

 

خیال رہے کہ سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کا متنازع بل دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا ہے جس کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے چیف آف ڈیفینس فورسز کا نیا عہدہ تخلیق کیا گیا ہے۔ سینیٹ میں اس بل کے حق میں 64 سینیٹرز نے ووٹ دیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس دوران شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ اب یہ ترمیم قومی اسمبلی سے پاس ہونے جا رہی ہے۔ اس ترمیم کے تحت آرٹیکل 243 میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان ترامیم کے بعد اب صدر مملکت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر چیف آف ڈیفینس فورسز اور آرمی چیف کا تقرر کریں گے۔ ساتھ ہی 27 نومبر 2025 کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ اسی ترمیم کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف، جو اب چیف آف ڈیفینس فورسز بھی ہوں گے، نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کا سربراہ مقرر کرنے کے مجاز ہوں گے۔

 

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق کے مطابق ان ترامیم سے تینوں مسلح افواج میں ہم آہنگی بڑھے گی اور فیصلہ سازی کے عمل میں ربط پیدا ہو گا۔ تارڑ نے سینیٹ میں بتایا کہ فیلڈ مارشل کا خطاب تاحیات ہوگا اور اس عہدے کو قومی ہیرو کے طور پر آئینی تحفظ حاصل ہوگا۔ ان کے مطابق یہ کوئی تعیناتی نہیں بلکہ ایک اعزازی درجہ ہے جس کا مواخذہ صرف پارلیمان کر سکتی ہے، وزیراعظم نہیں۔

 

لیکن دفاعی ماہرین کی آراء میں تقسیم پائی جاتی ہے۔ بعض ریٹائرڈ فوجی افسران اور تجزیہ کار اس فیصلے کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہیں۔ بریگیڈیئر (ر) حارث نواز کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا دفتر محض رابطہ کار ادارہ بن چکا تھا اور عملی طور پر اس کا کوئی بڑا کردار باقی نہیں رہا تھا۔ ان کے بقول ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کے پیش نظر ’یونٹی آف کمانڈ‘ ضروری تھی تاکہ وزیراعظم کو بریفنگ یا دفاعی فیصلوں میں ایک متحدہ مؤقف پیش کیا جا سکے۔ کرنل (ر) انعام الرحیم بھی اس عہدے کے حق میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا عہدہ برسوں سے علامتی حیثیت اختیار کر چکا تھا اور قومی خزانے پر بوجھ بن گیا تھا۔ ان کے مطابق 2011 میں انہوں نے سپریم کورٹ میں اس عہدے کو ختم کرنے کی پٹیشن بھی دائر کی تھی کیونکہ آرمی ایکٹ میں بھی اسے کوئی واضح اختیارات نہیں دیے گئے تھے۔

 

تاہم اس فیصلے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ چیف آف ڈیفینس فورسز کا عہدہ آرمی کے اختیارات کو مزید بڑھا دے گا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کے مطابق یہ عہدہ ضرور ہونا چاہیے مگر اسے آرمی چیف کے پاس رکھنا غلط ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک میں چیف آف ڈیفنس فورسز الگ تعینات ہوتے ہیں تاکہ کسی ایک فوج کی اجارہ داری نہ ہو۔ ان کے مطابق پاکستان میں ایئر فورس اور نیوی کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جدید جنگوں میں ایئر پاور، میزائل ٹیکنالوجی اور بحری دفاع کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

 

سینیئر صحافی ماجد نظامی بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کو ختم کرنا اور نیا عہدہ صرف آرمی کے لیے مخصوص کرنا مسلح افواج کے اندر عدم توازن پیدا کرے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ 1971 کی جنگ کے بعد حمودالرحمان کمیشن نے سفارش کی تھی کہ افواج کے درمیان بہتر رابطہ کاری کا نظام قائم کیا جائے تاکہ کسی جنگی صورتحال میں فیصلے باہمی مشاورت سے ہوں، اور اسی مقصد کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ وجود میں آیا تھا۔

 

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کے مطابق بہتر ہوتا کہ چیف آف ڈیفینس فورسز کے لیے الگ فور اسٹار جنرل تعینات کیا جاتا تاکہ ادارہ جاتی توازن قائم رہتا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ساری عسکری قیادت ایک ہی شخص کے ماتحت ہو جائے تو فیصلوں میں تنوع ختم ہو جاتا ہے، جو قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

 

اس کے برعکس بریگیڈیئر (ر) حارث نواز کا خیال ہے کہ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی چونکہ زمینی نوعیت کی ہے اس لیے یہ فطری بات ہے کہ چیف آف ڈیفینس فورسز کا عہدہ بری فوج کے پاس ہو۔ ان کے مطابق یہ کوئی طاقت کے ارتکاز کا معاملہ نہیں بلکہ قومی دفاع کو زیادہ مربوط بنانے کی کوشش ہے۔

 

اس آئینی ترمیم میں چیف آف ڈیفینس فورسز کے اختیارات کی تفصیل تاحال سامنے نہیں آئی۔ لہٰذا دفاعی مبصرین کے مطابق ممکن ہے کہ انہیں صرف کمانڈ اور پالیسی کی سطح پر اختیار حاصل ہو جبکہ ایئر فورس اور نیوی کے اندر ٹرانسفرز، پوسٹنگز اور انتظامی معاملات بدستور متعلقہ سروس چیفس کے پاس رہیں۔

 

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کا کہنا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز بنانے کی تجویز نئی نہیں ہے کیونکہ یہ 2005 میں بھی زیرِ غور آچکی تھی، اس لیے اسے صرف جلدبازی کہنا درست نہیں۔ بریگیڈیئر (ر) حارث نواز کا کہنا ہے کہ چونکہ موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کی مدتِ ملازمت 27 نومبر کو ختم ہو رہی تھی، اس لیے حکومت نے ان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی یہ آئینی تبدیلیاں متعارف کروانے کا فیصلہ کیا۔

عاصم منیر اورجنرل باجوہ سمیت کئی جرنیلوں کے استاد:عرفان صدیقی

لیکن ناقدین کے مطابق اگرچہ حکومت اس اقدام کو ادارہ جاتی اصلاحات کے طور پر پیش کر رہی ہے لیکن حقیقت میں یہ عسکری طاقت کو ایک ہی مرکز میں مرکوز کر دے گا۔ ان کے بقول جب ایک ہی شخص بیک وقت آرمی چیف، چیف آف ڈیفینس فورسز اور فیلڈ مارشل کے عہدوں پر فائز ہو تو کسی بھی سطح پر توازن اور احتساب کا نظام مؤثر نہیں رہتا۔

Back to top button