کیڈٹ کالج میں پشاور سکول کی خونی تاریخ دہرانے کا پلان ناکام

جنوبی وزیرستان کے مرکزی قصبے وانا میں افغان سرحد کے قریب واقع وانا کیڈٹ کالج کو دہشت گردوں کے حملے کے بعد کلئیر کرانے میں دو روز اس لیے لگ گئے کہ حملہ آور پشاور آرمی پبلک سکول کی خونی تاریخ دہرانا چاہتے تھے جبکہ کمانڈوز طلبہ کی جانیں بچانا چاہتے تھے۔ کالج کی عمارت کے اندر موجود دہشت گردوں نے کچھ طلبہ کو یرغمال بنا رکھا تھا جن میں سے ایک خودکش بمبار بھی تھا لہٰذا سکیورٹی فورسز نہایت احتیاط سے اور کوئی جانی نقصان کیے بغیر آپریشن کرنا چاہتی تھیں جو گزشتہ رات کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا۔
عسکری ذرائع کے مطابق کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کرنے والے تمام خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے۔ مارے جانے والوں دہشت گردوں کی تعداد چار تھی جن میں سے ایک خودکش بمبار بھی تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ خودکش بمبار کو ایک سنائپر شوٹر یعنی ماہر نشانہ باز نے جہنم واصل کیا جس کے بعد باقی تین دہشت گردوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران کیڈٹ کالج کے کسی بھی طالب علم یا استاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ان کے مطابق یہ حملہ تحریک طالبان کی جانب سے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی اس حکمت عملی کا تسلسل ہے جس کا مقصد خوف پھیلانا اور ریاستی اداروں کو دباؤ میں لانا ہے۔ دہشت گرد کیڈٹ کالج وانا میں بھی پشاور آرمی پبلک سکول جیسی خون کی ہولی کھیلنا چاہتے تھے لیکن بروقت جوابی کارروائی سے وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ یاد رہے کہ دسمبر 2014 میں تحریک طالبان نے پشاور آرمی سکول پر حملہ کرتے ہوئے 100 سے زیادہ معصوم طالب علموں کو شہید کر دیا تھا۔
عسکری ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے پیر کی شام تقریباً 6 بجے بارود سے بھری ایک گاڑی کالج کے مرکزی دروازے سے ٹکرا دی تھی۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دروازہ اور قریبی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ ابتدائی دھماکے کے بعد پانچ سے چھ مسلح شدت پسند خودکار ہتھیاروں کے ساتھ اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔فوجی ترجمان کے مطابق فورسز کی بروقت جوابی کارروائی میں دو دہشت گرد گیٹ کے قریب ہی مارے گئے، تاہم چار حملہ آور عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق حملے کے وقت وانا کیڈٹ کالج میں 525 کیڈٹس، 40 اساتذہ اور 85 عملے کے دیگر افراد موجود تھے، یوں مجموعی طور پر 650 افراد عمارت کے اندر تھے جنہیں کامیابی کے ساتھ بازیاب کروا لیا گیا ہے۔ تاہم کیڈٹ کالج کی عمارت کو کلیئر کروانے اور دہشت گردوں کو جہنم رسید کرنے میں دو روز اس لیے لگے کہ کچھ طالب علم یرغمالی بن چکے تھے جنہیں کوئی نقصان پہنچائے بغیر ریسکیو کرنا تھا۔
یاد رہے کہ وانا کیڈٹ کالج زڑے نور کے گنجان آباد علاقے میں واقع ہے، جو وانا بازار سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
یہ علاقہ پاک افغان سرحد کے قریب ہونے کے باعث سٹریٹجک طور پر انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ کالج کے مغرب میں آرمی کالونی ہے جبکہ شمال کی سمت ایک گرلز اور بوائز کالج، ضلعی اسپتال، پولیس لائنز اور دیگر سرکاری عمارتیں واقع ہیں۔یہ علاقہ ماضی میں تحریک طالبان کے شدت پسندوں کی سرگرمیوں کا مرکز رہ چکا ہے۔
اسلام آباد خودکش حملہ افغانستان کی جوابی کارروائی قرار
دفاعی ماہرین کے مطابق وانا کیڈٹ کالج پر دہشت گرد حملہ اور اسلام آباد کچہری کے اندر خودکش دھماکہ پاکستان کو درپیش سنجیدہ سیکیورٹی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، اور تحریک طالبان کی مسلسل دہشت گرد سرگرمیاں تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد افغانستان میں فضائی کارروائی کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے حملوں کی مذمت یا افسوس کا اظہار سراسر منافقت ہے اور افغان طالبان کی پناہ میں رہنے والے طالبان دہشت گرد بار بار ہم پر حملے کر رہے ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وانا کیڈٹ کالج پر ہونے والے حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب تحریک طالبان نے اسلام آباد کچہری میں خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایسے مزید حملوں کی بھی دھمکی دی ہے۔ یاد رہے وفاقی دارالحکومت جی الیون کچہری کے باہر خود کش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید ہو گئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ انڈین اور افغان طالبان کی پشت پناہی سے ہی ممکن ہوا۔
