اسرائیلی وزیراعظم نے پاکستان پر کونسی سازش کا الزام عائد کر دیا؟

 

 

 

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی پر آمادہ کرنے والے پاکستان پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ انہیں عوام خصوصاً نوجوانوں میں غیر مقبول بنانے کے لیے ایک منظم سازش پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی تہہ خانوں سے کام کرنے والے بوٹ فارمز، جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور فرضی ایڈریسز کے ذریعے انکے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ کہ انکے حامی انکے خلاف ہو جائیں اور امریکہ اور اسرائیل کے درمیان سٹریٹجک اتحاد کمزور ہو جائے۔

 

یہ دعویٰ اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی نشریاتی ادارے CBS News⁠ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا، جس میں انہوں نے غزہ جنگ، لبنان کی صورتحال، ایران کے خلاف کارروائی، سوشل میڈیا پر اسرائیل کے خلاف بڑھتی تنقید اور امریکہ میں بدلتی رائے عامہ پر کھل کر گفتگو کی۔

پروگرام کے میزبان نے نیتن یاہو سے سوال کیا کہ امریکہ میں نوجوان نسل سوشل میڈیا پر غزہ اور لبنان کی جنگ سے متعلق سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز سے شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر اسرائیل کے اقدامات کو بعض اوقات غیر انسانی، وحشیانہ اور غیر مہذب قرار دیا جا رہا ہے، جس کے باعث امریکہ میں اسرائیل کے لیے حمایت کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

 

میزبان نے نیتن یاہو پوچھا کہ کیا اسرائیل سوشل میڈیا کی اس جنگ میں اپنی پوزیشن کھو رہا ہے؟ جواب میں اسرائیلی وزیراعظم نے پہلے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے شہری آبادی کو محفوظ رکھنے کے لیے “غیر معمولی اقدامات” کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاکھوں افراد کو ٹیکسٹ میسجز، فون کالز، پمفلٹس اور اشتہاری مواد کے ذریعے متنبہ کیا گیا تاکہ وہ جنگی علاقوں سے نکل کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

 

نیتن یاہو نے الزام لگایا کہ حماس اور حزب اللہ اپنے شہریوں کو محفوظ بنانے کے بجائے انہیں جان بوجھ کر خطرے میں رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کے باوجود شہری اموات مکمل طور پر روکی نہیں جا سکتیں، تاہم جدید شہری جنگوں کے مقابلے میں اسرائیل کے خلاف “نسل کشی” کے الزامات بے بنیاد ہیں کیونکہ ان کے بقول جنگجو اور عام شہریوں کی اموات کا تناسب دیگر شہری جنگوں کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہے۔

اس کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے احتیاطی اقدامات سوشل میڈیا کے منفی بیانیے کے نیچے دب جاتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ میں اسرائیل کے لیے حمایت میں جتنی تیزی سے کمی آئی ہے، وہ تقریباً اسی رفتار سے ہوئی جس رفتار سے سوشل میڈیا پھیلا۔

 

اسرائیلی وزیراعظم نے الزام لگایا کہ متعدد ممالک بشمول پاکستان بوٹ فارمز اور جعلی ایڈریسز کے ذریعے امریکہ میں اسرائیل مخالف جذبات کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممالک سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اتحاد کو کمزور کرنا ان کے مفاد میں ہے۔ اپنے دعوے کی مثال دیتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک سازش کے تحت ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ اب تو امریکی شہری بھی اسرائیل سے مایوس ہو رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اس انفارمیشن کی مثال دی اور بتایا کہ امریکی ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کا پیغام سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہے۔ اس پیغام میں نوجوان نے کہا کہ میں نے ہمیشہ اسرائیل کی حمایت کی، لیکن اسرائیل کے ہاتھوں ہزاروں لوگوں کے مارے جانے کے بعد میں اسکے خلاف ہو گیا ہوں۔

 

نیتن یاہو کے مطابق جب سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایسے پیغامات کی حقیقت جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ان کا ایڈریس “پاکستان کی کسی بیسمنٹ” سے نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ حربے ہیں جو اسرائیل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ تاہم پاکستان کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم کے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

 

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ایک وقت میں سات محاذوں پر روایتی فوجی جنگ لڑ رہا تھا جبکہ آٹھواں محاذ “میڈیا اور سوشل میڈیا کی جنگ” تھی، جہاں اسرائیل مکمل طور پر غیر محفوظ تھا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اسرائیل کے خلاف مہمات انتہائی منظم انداز میں چلائی جا رہی ہیں۔ نیتن یاہو نے اس صورتحال کو جنگی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مخالف قوتیں اسرائیل پر “ایف 35 طیاروں” جیسی طاقت سے حملہ آور ہیں جبکہ اسرائیل ان کا مقابلہ گھڑ سوار فوجی کے انداز میں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو سوشل میڈیا کے اس محاذ پر بھی منظم انداز میں اترنا ہوگا، تاہم یہ کام سنسرشپ کے ذریعے نہیں بلکہ جمہوری طریقوں سے کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کے خلاف بھارت اور اسرائیل کی خفیہ سازش بے نقاب

انہوں نے کہا کہ اسرائیل آمرانہ حکومتوں کی طرح سوشل میڈیا کو کنٹرول نہیں کر سکتا، لیکن اسے ایسے طریقے ضرور تلاش کرنا ہوں گے جن کے ذریعے نوجوان امریکیوں کے “دل و دماغ کی جنگ” لڑی جا سکے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اسرائیل کو اس معاملے میں ایک سنجیدہ مسئلہ درپیش ہے اور اسے اپنی حکمت عملی بہتر بنانا ہوگی۔ اس موقع پر میزبان نے وضاحت طلب کی کہ آیا اسرائیلی وزیراعظم غیر ملکی حکومتوں کے زیر انتظام بوٹ فارمز کی بات کر رہے ہیں؟ اس پر نیتن یاہو نے جواب دیا کہ یہ بہت بڑے بوٹ فارمز ہیں جو نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ یونیورسٹیوں اور تعلیمی نصاب تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق بوٹ فارمز ایسے جدید سافٹ ویئر نیٹ ورکس ہوتے ہیں جنکے ذریعے سوشل میڈیا پر ہزاروں جعلی اکاؤنٹس بنائے جا سکتے ہیں۔ ان میں مصنوعی ذہانت بھی شامل کی جاتی ہے تاکہ تصاویر اور متن خودکار انداز میں تیار کیا جا سکے۔ سادہ الفاظ میں، بوٹ فارمز ایسے منظم نیٹ ورکس ہوتے ہیں جہاں ہزاروں جعلی یا خودکار اکاؤنٹس ایک ہی ہدایت کے تحت کسی مخصوص بیانیے، خبر یا ہیش ٹیگ کو مصنوعی طور پر مقبول بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

Back to top button