شہباز شریف کے سیاسی جانشین کی دوبارہ سیاست میں انٹری

بالآخر وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی وارث اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے طویل خاموشی توڑتے ہوئے دوبارہ میدان سیاست میں انٹری ڈال دی ہے۔ تاہم اس مرتبہ انہوں نے پنجاب کی بجائے وفاقی سطح پر کردار ادا کرنے کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق انہیں وزیراعظم آفس میں دفتر اور عملہ فراہم کر دیا گیا ہے، جہاں وہ حکومتی ارکانِ اسمبلی، مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور مختلف سیاسی شخصیات سے رابطہ رکھ کر وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی ٹیم کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں گے۔ سیاسی حلقے اس پیش رفت کو حمزہ شہباز کی وفاقی سیاست میں باقاعدہ واپسی قرار دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز کو اگرچہ ابھی تک کوئی آئینی یا انتظامی عہدہ نہیں دیا گیا، تاہم وزیراعظم آفس میں دفتر کی فراہمی کو ان کے بڑھتے ہوئے وفاقی کردار کی واضح علامت سمجھا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی ارکانِ قومی اسمبلی اور مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی اراکین کے ساتھ رابطہ کاری کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد حکومتی ارکانِ اسمبلی کے مسائل، ترقیاتی منصوبوں، حلقوں سے متعلق معاملات اور عوامی شکایات کو مؤثر انداز میں وزیراعظم آفس تک پہنچانا اور ان کے فوری حل کے لیے ایک مربوط نظام قائم کرنا ہے تاکہ ارکانِ اسمبلی کو براہِ راست وزیراعظم تک رسائی میں پیش آنے والی مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنی سرکاری، انتظامی اور سفارتی مصروفیات کے باعث اکثر اراکینِ اسمبلی کو مطلوبہ وقت نہیں دے پاتے، جس کی وجہ سے کئی سیاسی اور ترقیاتی معاملات تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی صورتحال کے پیش نظر یہ ذمہ داری حمزہ شہباز کو سونپنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے تاکہ حکومت اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان رابطے مزید مؤثر اور منظم بنائے جا سکیں۔
وزیراعظم آفس کے چھٹے فلور پر حمزہ شہباز کے لیے باقاعدہ دفتر، معاون عملہ اور ایک علیحدہ میٹنگ روم بھی مختص کیا گیا ہے، جہاں وہ حکومتی ارکان، پارٹی رہنماؤں، مختلف وفود اور دیگر سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے اور ان کے مسائل اور تجاویز وزیر اعظم تک پہنچائیں گے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز اس نوعیت کی سیاسی رابطہ کاری کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ شہباز شریف کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب دور میں بھی وہ حکومتی ارکانِ صوبائی اسمبلی، پارٹی رہنماؤں اور تنظیمی معاملات میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے تھے، اسی تجربے کی بنیاد پر انہیں وفاق میں بھی اہم رابطہ کار کی حیثیت دی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو آئینی طور پر مشیروں اور معاونینِ خصوصی کی تقرری کا اختیار حاصل ہے۔ اس وقت وزیراعظم کے مشیروں میں رانا ثناء اللہ، ڈاکٹر توقیر شاہ، محمد علی اور پرویز خٹک شامل ہیں جبکہ ایک نشست خالی بھی موجود ہے، تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز کو فوری طور پر مشیر یا معاونِ خصوصی بنانے کے بجائے "کوارڈی نیٹر” جیسا انتظامی کردار دینے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ اپوزیشن کی جانب سے اقربا پروری یا سیاسی تنقید سے بچا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم آفس میں دفتر کی فراہمی اس بات کا اشارہ ہے کہ حمزہ شہباز کو مستقبل میں وفاقی سطح پر مزید نمایاں سیاسی اور انتظامی کردار دیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول اگر آنے والے دنوں میں انہیں کوئی باضابطہ عہدہ بھی دے دیا جاتا ہے تو مسلم لیگ (ن) کی وفاقی سیاسی حکمت عملی میں ان کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔
یاد رہے کہ الیکشن 2024ء کے بعد شہباز شریف کے وزیر اعظم اور مریم نواز کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد حمزہ شہباز تقریباً سیاسی منظرنامے سے غائب دکھائی دیے۔ اگرچہ وہ قومی اسمبلی کے رکن تھے، تاہم نہ انہیں کوئی نمایاں حکومتی ذمہ داری دی گئی اور نہ ہی وہ اہم سیاسی فیصلوں میں نمایاں نظر آئے۔ حمزہ شہباز نے عام انتخابات میں لاہور سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، تاہم حکومت سازی کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست برقرار رکھی جبکہ عملی طور پر وہ حکومتی ڈھانچے میں کوئی مؤثر عہدہ حاصل نہ کر سکے، جس کے باعث ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں بھی ہوتی رہیں۔
نون لیگ کے اندرونی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی تشکیل کے بعد حمزہ شہباز کو وزیراعظم کے پبلک افیئرز یونٹ کا چیئرمین بنانے اور وفاقی وزیر کا درجہ دینے کی تجویز بھی زیر غور آئی تھی۔ اس مقصد کے لیے لاہور کے سٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں دفتر کی تیاری بھی مکمل کر لی گئی تھی، تاہم یہ منصوبہ آخری مرحلے میں عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تقرری کی حتمی منظوری مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے دینی تھی۔ اسی دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ حمزہ شہباز کو مسلم لیگ (ن) پنجاب کا صوبائی صدر بنانے کی تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا گیا، کیونکہ پنجاب پارٹی کی سیاست کا سب سے اہم مرکز سمجھا جاتا ہے اور اس عہدے کو مستقبل کی قیادت کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ان فیصلوں میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے اندر مختلف آراء اور سیاسی ترجیحات بھی رہی ہیں۔ بعض اندرونی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز اپنے فرسٹ کزن حمزہ شہباز کو پنجاب کی تنظیمی قیادت سونپنے کے حق میں نہیں تھیں، اگرچہ اس حوالے سے پارٹی کی جانب سے کبھی کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اندر مستقبل کی قیادت، اختیارات کی تقسیم اور سیاسی طاقت کے توازن سے متعلق مختلف آراء کافی عرصے سے زیر بحث رہی ہیں۔ ان کے مطابق حمزہ شہباز کو پنجاب کے بجائے وفاق میں متحرک کرنے کی حکمت عملی بھی اسی وسیع سیاسی تناظر کا حصہ سمجھی جا رہی ہے، جہاں وہ براہِ راست وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ کام کریں گے۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اپنے صاحبزادے کو وزیراعظم ہاؤس میں دفتر اور اہم رابطہ کاری کی ذمہ داریاں سونپنا مسلم لیگ (ن) کے اندر ایک نئی سیاسی صف بندی کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق چونکہ حمزہ شہباز ماضی میں پنجاب کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اور پارٹی کے اندر اپنا سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں، اس لیے ان کی وفاقی سطح پر دوبارہ سرگرمی مستقبل میں پارٹی کے اندر طاقت کے توازن اور قیادت کی سیاست پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں اور پارٹی قیادت کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔
