احتجاج ختم ہونے کے باوجود مودی حکومت خطرے میں کیوں؟

بھارتی وزیرِ اعظم مودی کی حکومت کے احتجاجی طلبہ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے ان کے مطالبات تسلیم کر لینے کے باوجود مودی حکومت کا مستقبل خطرے میں قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا حکومتی یقین دہانیاں، اعلانات اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ احتجاجی تحریک کی شدت کم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوں گے یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ محض ایک اور طلبہ احتجاج تھا یا پھر بھارت میں کسی بڑی سیاسی اور سماجی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یاد ریے کہ بھارت میں طلبہ تحریکوں کی ایک طویل تاریخ موجود ہے اور ماضی میں ایسی تحریکیں کئی مرتبہ ملکی سیاست کا رخ بدل چکی ہیں۔ 1970 کی دہائی میں گجرات کی مشہور نو نرمان تحریک نے سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے خلاف سینئر سوشلسٹ رہنما جے پرکاش نارائن کی عوامی تحریک کو نئی طاقت فراہم کی تھی۔ اسی تاریخی پس منظر کی وجہ سے موجودہ احتجاج کو بھی غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے اور اسے صرف تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ سیاسی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران مودی حکومت کے خلاف ہونے والے بڑے احتجاج، چاہے وہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہوں، زرعی اصلاحات سے متعلق ہوں یا دیگر حکومتی پالیسیوں پر مبنی، زیادہ تر نظریاتی یا سیاسی نوعیت کے تھے۔ اس کے برعکس موجودہ نوجوانوں کی تحریک کسی مخصوص نظریے، سیاسی جماعت یا مذہبی و سماجی شناخت کے گرد نہیں گھومتی تھی بلکہ اسکا بنیادی مطالبہ امتحانی نظام میں شفافیت، انصاف اور برابری کو یقینی بنانا تھا۔اس تحریک کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ کسی ایک طبقے، ذات، مذہب یا برادری کی نمائندگی نہیں کرتی تھی بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے اس مشترکہ خوف کی عکاس تھی کہ اگر وہ امتحانات، جن پر ان کے مستقبل کی بنیاد رکھی جاتی ہے، ہی قابلِ اعتماد نہ رہیں تو پھر ترقی اور میرٹ کا تصور کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ احتجاج کا دائرہ تعلیمی اصلاحات سے بڑھ کر حکومتی انتظامی صلاحیت پر سوالات تک جا پہنچا۔ یہ احتجاج تب شدت اختیار کر گیا جب امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے کے واقعات نے لاکھوں طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی۔ ہزاروں نوجوان مرد و خواتین نے بھارتی پارلیمان کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔ اس کے باوجود احتجاج ختم نہ ہوا بلکہ آنے والے دنوں میں مزید ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے۔ بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے نتیجے میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی "کاکروچ جنتا پارٹی” یعنی سی جے پی نامی احتجاجی تحریک بھارت کی حالیہ برسوں کی سب سے بڑی طلبہ تحریکوں میں شمار ہونے لگی۔ اس تحریک نے نہ صرف امتحانی نظام میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کیا بلکہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی تقاضا کیا، جس کے بعد 25 جولائی کو انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو احتجاجی تحریک کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت میں یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا جب دنیا بھر میں نوجوانوں کی قیادت میں احتجاجی تحریکیں تیزی سے ابھر رہی ہیں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ان کی سب سے مؤثر طاقت بن چکے ہیں۔ یاد رہے کہ 2025 احتجاجی تحریکوں کے اعتبار سے ایک اہم سال رہا، اس دوران دنیا کے 70 سے زائد ممالک میں مختلف نوعیت کی عوامی تحریکیں سامنے آئیں اور ان میں سے متعدد 2026 تک بھی جاری رہیں۔ عالمی سطح پر معاشی ناہمواری، نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، حکومتی احتساب کی کمی اور یوکرین و غزہ سمیت مختلف جنگوں کے اثرات نے احتجاجی رجحانات کو مزید تقویت دی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل اب روایتی سیاسی جماعتوں کے بجائے سوشل میڈیا، عوامی دباؤ اور ڈیجیٹل مہمات کے ذریعے اپنی آواز زیادہ مؤثر انداز میں بلند کر رہی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی تقریباً 52 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جبکہ دنیا بھر کی پارلیمانوں میں اس عمر کے نمائندوں کا تناسب صرف 2.8 فیصد ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق نمائندگی کے اسی فرق نے جین زی (Gen Z) کو احتجاج، آن لائن مہمات اور عوامی دباؤ کے ذریعے اپنے سیاسی مطالبات منوانے کی جانب راغب کیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد ممالک میں حکومتوں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑی۔
اسی عالمی رجحان کے تناظر میں بھارت میں بھی "کاکروچ جنتا پارٹی” ایک منفرد عوامی اور ڈیجیٹل مزاحمتی تحریک کے طور پر سامنے آئی۔ یہ تحریک 15 مئی 2026 کو تب شروع ہوئی جب ایک متنازع بیان میں بھارتی چیف جسٹس نے بے روزگار نوجوانوں کو "کاکروچ” قرار دیا۔ نوجوانوں نے اس اصطلاح کو توہین کے بجائے اپنی مزاحمتی شناخت بنا لیا اور "کاکروچ” کو اتحاد، مزاحمت اور احتجاج کی علامت میں تبدیل کر دیا۔
یہ تحریک کسی سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹرڈ نہیں بلکہ ایک عوامی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جسے 16 مئی 2026 کو بوسٹن یونیورسٹی کے طالب علم اور سابق سیاسی میڈیا حکمتِ عملی ساز ابھیجیت دیپکے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شروع کیا۔ مختصر وقت میں یہ مہم غیر معمولی مقبولیت حاصل کر گئی اور صرف چند دنوں کے دوران لاکھوں نوجوان اس سے منسلک ہو گئے جبکہ اس کی مجموعی رسائی کروڑوں افراد تک جا پہنچی۔ اپنے متنازع بیان میں چیف جسٹس سوریا کانت نے بے روزگار نوجوانوں کو "کاکروچوں جیسے” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ روزگار نہ ملنے پر وہ میڈیا ممبر یا سوشل میڈیا کارکن بن کر دوسروں پر تنقید کرتے ہیں۔ اگرچہ بعد میں اس بیان کی مختلف وضاحتیں سامنے آئیں، تاہم نوجوانوں کے غصے میں کمی نہ آئی اور "کاکروچ” احتجاجی تحریک کی سب سے طاقتور علامت بن گیا۔
اس احتجاجی تحریک کو جلد ہی بھارت کی متعدد اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور سماجی کارکنوں کی حمایت بھی حاصل ہو گئی۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے "بی جے پی بمقابلہ سی جے پی” کا نعرہ دیا، جبکہ اروند کیجریوال، منیش سسودیا، مہوا موئترا، کرتی آزاد اور کپل سبل سمیت کئی رہنماؤں نے مختلف انداز میں مظاہرین کی حمایت کی۔ دوسری جانب سماجی شخصیات انا ہزارے، یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے بھی اس تحریک کو صرف طلبہ احتجاج نہیں بلکہ تعلیمی، معاشی اور سیاسی اصلاحات کی وسیع جدوجہد قرار دیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ "کاکروچ جنتا پارٹی” کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے ایک توہین آمیز لفظ کو مزاحمت کی علامت میں تبدیل کر دیا اور سوشل میڈیا کی طاقت کے ذریعے مختصر عرصے میں ملک گیر عوامی حمایت حاصل کی۔ ان کے مطابق اگرچہ حکومت نے احتجاجی طلبہ کے کئی مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ اگر امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات نافذ نہ ہو سکیں اور نوجوانوں کا اعتماد بحال نہ کیا جا سکا تو یہ تحریک مستقبل میں بی جے پی حکومت کے لیے ایک بڑے سیاسی چیلنج میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
