پاکستان کے خلاف بھارت اور اسرائیل کی خفیہ سازش بے نقاب

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کے فعال سفارتی کردار نے جہاں کئی عالمی قوتوں کو متاثر کیا، وہیں پاکستان کی ثالثی پر اسرائیل اور بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے دونوں ممالک نے پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانے کیلئے منظم مہم شروع کردی ہے جبکہ موساد اور را نے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کیلئے مختلف تنظیموں کی فنڈنگ میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے خلاف خفیہ سرگرمیوں، پروپیگنڈا مہمات اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے، داخلی انتشار پیدا کرنے اور اس کی سفارتی کامیابیوں کو سبوتاژ کرنے کیلئے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ موساد اور را پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ افغان سرزمین کے ذریعے دہشت گرد تنظیموں کو لاجسٹک سپورٹ، فنڈنگ اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہیں تاکہ پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم رکھا جا سکے۔صرف یہی نہیں بلکہ ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور عالمی میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان کے خلاف ایک نفسیاتی اور اطلاعاتی جنگ بھی جاری ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان خطے میں ابھرتے ہوئے اپنے سفارتی کردار کو برقرار رکھ پائے گا یا دشمن قوتیں اسے ایک نئی غیر یقینی صورتحال کی طرف دھکیلنے میں کامیاب ہو جائیں گی؟
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں پاکستان کے ابھرتے ہوئے کردار نے خطے کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں اور عالمی سطح پر بڑھتی اہمیت کے بعد بھارت اور اسرائیل کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ مختلف علاقائی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں ممالک پاکستان کو سفارتی، سیاسی اور داخلی سطح پر دباؤ میں لانے کیلئے مشترکہ حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔حالیہ دہشت گرد حملوں، سوشل میڈیا مہمات اور عالمی سطح پر پاکستان مخالف بیانیے کو اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کی خفیہ ایجنسی “را” اور اسرائیلی خفیہ ادارہ “موساد” پاکستان میں بدامنی پھیلانے کیلئے دہشت گرد عناصر کو لاجسٹک سپورٹ، مالی وسائل اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کے مطابق ہزاروں شدت پسند عناصر افغانستان میں تربیت حاصل کر رہے ہیں جبکہ ان کی پشت پناہی میں بھارت اور اسرائیل شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ سوشل میڈیا بوٹ فارمز کے ذریعے امریکی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اسرائیل کیلئے امریکی حمایت کمزور کی جا سکے۔ بھارتی میڈیا نے ان الزامات کو بھرپور انداز میں اچھالا اور پاکستان مخالف بیانیے کو مزید تقویت دی۔ایکس (ٹوئٹر) کی ایگزیکٹو نکیتا بیئر کے مبینہ بیان کو بھی اسی تناظر میں پیش کیا گیا، جس میں پاکستان سے چلنے والے بعض اکاؤنٹس پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے جنگی ویڈیوز پھیلانے کا الزام لگایا گیا۔ اسی طرح امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی پاکستان کے کردار پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے نور خان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق سوالات اٹھائے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض امریکی حلقوں میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان ایران کے مؤقف کو واشنگٹن کے سامنے نرم انداز میں پیش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ “ڈبل گیم” جیسے پرانے الزامات کو ایک بار پھر زندہ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تمام سرگرمیاں دراصل پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں پاکستان کے کردار کو چین، قطر اور ترکی سمیت کئی ممالک کی حمایت حاصل ہے، جس نے بھارت اور اسرائیل کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔اس تمام صورتحال کے ساتھ ساتھ پاکستان کو داخلی سطح پر بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات، فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کی کوششیں، مذہبی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے سیاسی پولرائزیشن جیسے عوامل ملک کے امن و استحکام کیلئے خطرہ بن رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق عسکریت پسند گروہوں کو جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی کی فراہمی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کو کمزور کرنے کیلئے منظم ڈیجیٹل مہمات چلائی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب بھارت اور اسرائیل دونوں پر مسلمانوں کے خلاف سخت پالیسیوں کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں، مساجد کی تباہی، فلسطینی آبادی کی بے دخلی اور غیر قانونی بستیوں کی تعمیر پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل تشویش ظاہر کر رہی ہیں۔اسی طرح بھارت میں مودی حکومت کے دور میں بابری مسجد کیس، مسلم علاقوں کے انہدام، کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور مسلمانوں کے خلاف مبینہ امتیازی پالیسیوں پر عالمی اداروں کی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اس وقت ایک ایسے حساس مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اسے نہ صرف سفارتی محاذ پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے بلکہ داخلی استحکام کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دینا ہو گی۔ کیونکہ عالمی طاقتوں کی اس نئی سرد جنگ میں پاکستان کا کردار جتنا اہم ہو رہا ہے، اس کے خلاف سازشوں اور دباؤ میں بھی اسی قدر اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
