فضیلہ عباسی منی لانڈرنگ کیس، حمزہ عباسی بھی ریڈار پر آ گئے

معروف ڈرماٹالوجسٹ اور سوشل میڈیا سٹار فضیلہ عباسی کی مبینہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے ہائی پروفائل کیس میں سامنے آنے والے شواہد نے سیاسی، شوبز اور کاروباری حلقوں میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی فضیلہ عباسی کے گرد گھومنے والی تحقیقات اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں جہاں بڑی طاقتور شخصیات کے نام اور اہم مالیاتی روابط تفتیشی اداروں کی توجہ کا مرکزبن چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی تحقیقات میں اب فضیلہ عباسی کی معروف اداکار حمزہ علی عباسی اور ان کی والدہ، سابق رکن اسمبلی نسیمہ چوہدری، کے ساتھ ہونے والی مالیاتی ٹرانزیکشنز بھی سامنے آگئی ہیں، جس کے بعد انہیں شاملِ تفتیش کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے فضیلہ عباسی کے خلاف جاری تحقیقات میں ایک پیچیدہ مالیاتی نیٹ ورک کا سراغ لگایا ہے، جس کے ذریعے مبینہ طور پر اربوں روپے پاکستان سے بیرون ملک منتقل کیے گئے۔ ابتدائی طور پر درج مقدمے میں تقریباً ڈھائی ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز کی تحقیقات شروع کی گئی تھیں، تاہم اب تحقیقاتی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ حجم بڑھ کر 25 ارب روپے سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ فضیلہ عباسی اور ان سے منسلک 22 بینک اکاؤنٹس کا ریکارڈ حاصل کیا گیا، جن میں اربوں روپے کی غیر معمولی آمد و رفت سامنے آئی۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ان اکاؤنٹس کے ذریعے نہ صرف ملک کے مختلف کاروباری اداروں بلکہ کئی اہم شخصیات کے ساتھ بھی مالیاتی لین دین کیا گیا۔ انہی ٹرانزیکشنز میں حمزہ علی عباسی اور ان کی والدہ نسیمہ چوہدری کے ساتھ ہونے والے مالی معاملات بھی شامل ہیں۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اگرچہ حمزہ علی عباسی اور نسیمہ چوہدری کو تاحال باضابطہ ملزم قرار نہیں دیا گیا، تاہم ان کے ساتھ ہونے والی مالیاتی ٹرانزیکشنز کی بنیاد پر انہیں شاملِ تفتیش کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کسی زیرِ تفتیش فرد کے اکاؤنٹس سے مشکوک لین دین سامنے آنے پر متعلقہ افراد کو وضاحت کے لیے طلب کیا جا سکتا ہے۔

تحقیقات کے مطابق اوپن مارکیٹ سے امریکی ڈالرز اور یو اے ای درہم خرید کر مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیے گئے۔ ایف آئی اے حکام کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 14 لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی رقوم بیرون ملک بھجوائی گئیں، جبکہ انھی رقوم سے امریکا میں 5 سے 6 جائیدادوں کی خریداری کے شواہد بھی حاصل کیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق فضیلہ عباسی کی ایف بی آر میں ظاہر کردہ سالانہ آمدن چار لاکھ سے ساٹھ لاکھ روپے کے درمیان رہی، تاہم ان کے اکاؤنٹس میں اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز نے حکام کو حیران کر دیا۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق یہی تضاد اس کیس کی بنیاد بنا۔ ایف آئی اے مالیاتی ریکارڈ کا فرانزک آڈٹ کر رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ رقوم قانونی کاروباری ذرائع سے حاصل ہوئیں یا ان کے پیچھے حوالہ ہنڈی، بے نامی اکاؤنٹس اور منظم منی لانڈرنگ نیٹ ورک کارفرما تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں رائس ٹریڈرز، پولٹری کمپنی، الجحت کارپوریشن، الکا ٹریڈنگ اور فرینڈز آٹوز سمیت متعدد کمپنیوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ ایف آئی اے اب ان اداروں کے مالکان، ڈائریکٹرز اور متعلقہ افراد کے بینک ریکارڈ حاصل کر رہی ہے تاکہ رقوم کے اصل مالکان تک پہنچاجا سکے۔

ذرائع کے مطابق اگر تحقیقات مکمل طور پر کھولی گئیں تو یہ کیس ایک “پنڈورا باکس” ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں کئی بااثر شخصیات، کاروباری گروپس اور سیاسی حلقوں کے نام سامنے آنے کا امکان ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع ہونے کی صورت میں متعدد سیاست دان، بیوروکریٹس، کاروباری شخصیات اور ان کے اہل خانہ بھی شاملِ تفتیش ہو سکتے ہیں۔ ایف آئی اے مختلف بینکوں سے مزید ریکارڈ حاصل کر رہی ہے جبکہ بیرون ملک اثاثوں اور جائیدادوں کی تفصیلات کے لیے بین الاقوامی اداروں سے بھی رابطوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کیس صرف ایک مالیاتی اسکینڈل نہیں بلکہ پاکستان میں مالیاتی شفافیت، بے نامی اکاؤنٹس، ٹیکس نظام اور غیر قانونی رقوم کی بیرون ملک منتقلی جیسے بڑے سوالات کو بھی سامنے لا رہا ہے۔

خیال رہے کہ فضیلہ عباسی پاکستان کی معروف ڈرماٹالوجسٹ اور کاسمیٹک ایکسپرٹ سمجھی جاتی ہیں۔ ان کے کلینکس اسلام آباد، دبئی اور لندن میں موجود ہیں، جبکہ وہ مختلف ٹی وی پروگرامز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی متحرک رہی ہیں۔ حالیہ تحقیقات کے بعد یہ کیس ملک کے سب سے حساس مالیاتی مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں اس حوالے سے مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔

Back to top button