ایم کیو ایم نے وفاقی حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دے دی

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی حکومت سے علیحدگی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کی دھمکی دے دی۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر رہنما ایم کیو ایم ڈاکٹر فاروق ستار نے واضح کیا کہ اگر مطالبات پر عملدرآمد نہ ہوا تو ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرے گی بلکہ حکومت سے علیحدہ ہوکر اپوزیشن میں بیٹھنے کا آپشن بھی استعمال کرسکتی ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف معاہدے کے ضامن ہیں،اس لیے وہ معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کےلیے اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ مارچ 2022ء میں پیپلزپارٹی کے ساتھ ہونے والا 18 نکاتی معاہدہ دونوں جماعتوں کے درمیان آخری معاہدہ تھا،تاہم اس کے کسی ایک نکتے پر بھی عمل نہیں کیاگیا۔ایم کیو ایم نے نہ سندھ حکومت میں شمولیت کا مطالبہ کیا اور نہ صوبے کے وسائل پر اختیار مانگا،بلکہ صرف عوام سے کیےگئے وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ کیا۔
فاروق ستار نے دعویٰ کیاکہ بلاول بھٹو زرداری کو متعدد بار یاد دہانی کرائی گئی، لیکن انہوں نے اس حوالے سے کوئی ملاقات نہیں کی، جب کہ سپریم کورٹ کے بلدیاتی نظام سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد بھی نہ ہوسکا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ کی گورنر شپ دوبارہ ایم کیو ایم پاکستان کے حوالے کی جائے یہ بھی اتحادی جماعتوں کے درمیان ہونے والی مفاہمت کا حصہ تھا۔اگر ہمارے کے مطالبات پورے نہ کیےگئے تو پارٹی کو حکومت میں رہنے کا کوئی جواز نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہاکہ اپوزیشن میں بیٹھنا ہمارا آئینی اور جمہوری حق ہے اور اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو ہم یہ حق استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر معاہدے کے 18 نکات پر عملدرآمد نہ ہوا تو ایم کیو ایم پاکستان احتجاجی تحریک کا اعلان بھی کرے گی، جس کے بعد حالات کو قابو میں رکھنا مشکل ہوگا۔
ہائی کورٹس میں ججز کی تعیناتی کےلیے پہلی بار انٹرویو کیے جائیں گے: وفاقی وزیر قانون
انہوں نے کہاکہ پارٹی احتجاجی تحریک کے حوالے سے عوام سے مسلسل رابطے میں ہے اور بعد میں وفاق کو اسے روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
