حکومت کے خاتمے اور صدر زرداری کی چھٹی بارے جھوٹی خبریں کون پھیلا رہا ہے؟

پاکستانی سیاست میں جب بھی کوئی معاشی دباؤ، سیاسی تناؤ یا اہم تقرریاں قریب آتی ہیں تو سوشل میڈیا پر “اندر کی خبریں” دینے والے ڈیجیٹل نجومی اور یوٹیوبرز اچانک متحرک ہو جاتے ہیں۔ کبھی حکومت کے خاتمے کی پیش گوئیاں، کبھی صدر کے گھر بھیجے جانے کی خبریں اور کبھی خفیہ سیاسی ڈیلز کے دعوے کر کے ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جس سے عوامی بے چینی کے ساتھ ساتھ سیاسی ہیجان میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان دنوں بھی سوشل میڈیا پر یہی منظرنامہ دوبارہ سامنے آ رہا ہے۔ مختلف یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ستمبر تک موجودہ حکومت ختم ہو جائے گی، صدر آصف علی زرداری کو عہدے سے ہٹا دیا جائے گا فیلڈ مارشل عاصم منیر اگلے صدر ہونگے اور تحریک انصاف کے ساتھ کسی بڑی ڈیل کے بعد ملکی سیاست میں ڈرامائی تبدیلی آئے گی۔
تاہم وفاقی دارالحکومت کے سیاسی حلقوں اور باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اس بیانیے سے خاصے مختلف نظر آتے ہیں۔ موجودہ سیٹ اپ کو نہ فوری طور پر کوئی سیاسی خطرہ لاحق ہے اور نہ ہی کسی بڑی تبدیلی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں آنے والے چند سالوں تک یہی سسٹم چلتا رہے گا۔ تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر کچھ عرصے بعدآخر ایسی افواہیں کیوں گردش کرتی ہیں، ان کا مقصد کیا ہوتا ہے، اور کیا واقعی پاکستان ایک بار پھر سیاسی غیر یقینی کی طرف بڑھ رہا ہے؟
مبصرین کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا کے بڑھتے اثر و رسوخ نے سیاسی تجزیے اور افواہوں کے درمیان فرق کو مزید دھندلا دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں مختلف یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر یہ دعوے گردش کر رہے ہیں کہ ستمبر تک موجودہ حکومت کی بساط لپیٹ دی جائے گی، صدر آصف علی زرداری کو ایوانِ صدر سے رخصت کیا جا سکتا ہے، جبکہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان کسی ممکنہ مفاہمت یا ڈیل کی خبریں بھی زیر گردش ہیں۔تاہم سیاسی اور حکومتی حلقوں سے وابستہ ذرائع ان دعوؤں کو محض “ڈیجیٹل پروپیگنڈا” اور “سیاسی سنسنی خیزی” قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حکومتی سیٹ اپ کو فی الحال کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں، بلکہ اگر کوئی غیر معمولی صورتحال پیدا نہ ہوئی تو موجودہ نظام آئندہ کئی برس تک جاری رہ سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ستمبر کا مہینہ اکثر سیاسی افواہوں کا مرکز اس لیے بنتا ہے کیونکہ اسی عرصے میں اہم معاشی فیصلے، آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف، بجٹ کے اثرات اور بعض اہم تقرریاں سامنے آتی ہیں۔ یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا تجزیہ کار انہی عوامل کو بنیاد بنا کر حکومت کی تبدیلی کے امکانات سے متعلق کہانیاں گھڑتے ہیں جبکہ آج کل مہنگائی، بجلی کے بلوں میں اضافے اور عوامی دباؤ کو بھی حکومت مخالف بیانیے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ تاثر دیا جاریا ہے کہ معاشی مشکلات کے باعث عوامی غصہ حکومت کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ تاہم حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ پارلیمنٹ میں عددی اکثریت، اتحادیوں کی حمایت اور عالمی مالیاتی اداروں کے اعتماد کے باعث حکومت فی الحال مستحکم پوزیشن میں ہے۔خاص طور پر آئی ایم ایف کے ساتھ جاری طویل المدتی پروگرام کو سیاسی استحکام سے جوڑا جا رہا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے اور دوست ممالک اس وقت پاکستان میں پالیسی تسلسل اور سیاسی استحکام کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ معاشی اصلاحات کا عمل متاثر نہ ہو۔ذرائع کے مطابق موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی بھی حکومت کے استحکام کا ایک اہم عنصر سمجھی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوری طور پر کسی بڑی سیاسی تبدیلی یا سیٹ اپ کی تبدیلی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری جانب صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں کو بھی سیاسی پراپیگنڈا قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ اتحادی حکومت میں زرداری نہ صرف ایک آئینی سربراہ ہیں بلکہ ایک اہم سیاسی طاقتور ترن شخصیت بھی ہیں۔پارلیمانی معاملات، اتحادی سیاست اور اہم قانون سازی میں ان کا کردار کلیدی سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر حکومتی اتحاد کیلئے بڑے فیصلے کرنا مشکل تصور کیا جاتا ہے۔
اسی طرح عمران خان کی ممکنہ رہائی اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی مفاہمت سے متعلق خبروں پر بھی شکوک کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق مستقبل قریب میں ایسی کسی بڑی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے، جبکہ تحریک انصاف کے خلاف جاری مقدمات اور قانونی کارروائیاں بدستور سیاسی منظرنامے پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سنسنی خیز سیاسی دعوے اکثر ویوز، ریٹنگ اور سیاسی جذبات کو بھڑکانے کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایسی اطلاعات عوام میں بے یقینی پیدا کرتی ہیں اور سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا سکتی ہیں۔موجودہ صورتحال میں پاکستان کو معاشی چیلنجز، سیاسی تقسیم اور علاقائی دباؤ جیسے کئی مسائل کا سامنا ہے، جس کے باعث سیاسی استحکام کو حکومت اور ریاستی اداروں کی اولین ترجیح قرار دیا جا رہا ہے۔ اس لئے لگتا نہیں کہ آنے والے دنوں میں حکومت یا صدر زرداری کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
