حکومت نے عوام دوست بجٹ پیش کیا : وفاقی وزراء

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود حکومت نے عوام دوست بجٹ پیش کیا، آئندہ مالی سال کے بجت میں عوامی ریلیف کےلیے 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔
وفاقی وزراء کے ہمراہ پوسٹ بجٹ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت نے بجٹ میں برآمدات اور ٹیکس نظام کی بہتری پر خصوصی توجہ دی ہے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ٹی برآمدات بڑھ کر 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچیں گی، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم سمیت سب نے اتفاق کیا کہ سپر ٹیکس ختم ہونا چاہیے، کسانوں کےلیے ذرخیزی سکیم متعارف کرائی گئی، جب کہ نوجوانوں کےلیے وزیراعظم یوتھ لان مختص کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی مشینری اور آلات پر کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کو زیرو کردیا گیا ہے، جب کہ زراعت کے شعبے میں آسانیاں فراہم کی گئی ہیں، زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کا حجم 20 ارب سے تجاوز کرگیا ہے۔معاشی ترقی میں تعمیرات کے شعبے کا اہم کردار ہے،ہم معاشی ترقی کے سفر پر چل پڑےہیں، محدود وسائل کے باوجود حکومت نے عوام دوست بجٹ پیش کیا، مشرق وسطیٰ کی جنگ سے معلوم ہوا کہ اپنا شپنگ فلیٹ ہونا کتنا اہم ہے۔
محمد اورنگزیب کاکہنا تھاکہ ایکسپورٹر انڈسٹری کی ڈیمانڈز سامنے رکھ کر اقدامات کیے ہیں، تنخواہ پر5 فیصد ٹیکس کو ایک فیصد کیا، 15 فیصد کو 13 فیصد کیا، بڑی تنخواہوں اور سرچارج اقدامات پر اچھا فیڈ بیک ملا ہے،غلط معلومات جن ذرائع سے موصول ہوتی ہیں ان کا احتساب خود کریں۔
وزیرخزانہ کاکہنا تھاکہ بجٹ کابینہ میں پیش کیاگیا تو کہاگیا سب ایکسپورٹرز کےلیے سپر ٹیکس ختم کیاجائے، آئی ٹی انڈسٹری اور فری لانسرز کےلیے ایف ٹی آر برقرار رکھا ہے،انرجی انفراسٹرکچر پر دباؤ ہے اور کچھ عرصہ آئندہ مالی سال بھی رہے گا۔
انہوں نے کہاکہ صوبوں کی جانب سے مرکز کی امداد پر شکر گزار ہوں،یہ سہولت آئندہ 3 مالی سال کےلیے جارہی رہے گی،معاشی استحکام کی کوئی منزل نہیں ہوتی، ترسیلات زر، پالیسیوں کا تسلسل ہوگا، تو لوکل انویسٹر پھر بیرون ملک کا سرمایہ کار آئے گا۔سرمایہ کاروں کا اعتماد آہستہ آہستہ بحال ہوتا ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کانفرنس کے دوران کہاکہ وزیر خزانہ نے کل ایک عوامی بجٹ پیش کیا،یہ تنخواہ دار،صنعتکار اور ایکسپورٹر کا بجٹ ہے،ترجیح تھی کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیاجائے،تاہم وزیراعظم نے تنخواہ دار طبقے سے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔بجٹ میں تنخواہ داروں کو ریلیف دیاگیا ہے، وزیر اعظم نے کاروباری برادری سے مسلسل رابطہ رکھا۔
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہاکہ بجٹ کی تیاری میں ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس سے مشاورت کی گئی، جب کہ برآمدی صنعت کی ضروریات کو مدنظر رکھتےہوئے مختلف اقدامات شامل کیےگئے،تنخواہ پر 5 فیصد ٹیکس کو ایک فیصد کیا، 15 فیصد کو 13 فیصد کیا،تاہم بڑی تنخواہوں اور سرچارج اقدامات پر اچھا فیڈ بیک ملا ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں ان طبقات کو بھی ریلیف دیا، جن کو گزشتہ مالی سال نہیں دیاگیا،کمزور طبقات اور خواتین کےلیے بھی بجٹ میں حصہ رکھا گیا،مڈل کلاس طبقات کےلیے اپنا گھر سکیم متعارف کی گئی،مڈل کلاس پلاٹ تو خرید لیتا ہے لیکن گھربنانے کے پیسے نہیں ہوتے ہیں۔
انہوں نےکہا کہ 6 لاکھ روپے سالانہ کمانے والے پر کوئی ٹیکس نہیں ہے، 6 سے 12 لاکھ سالانہ آمدنی والے پر ایک فیصد ٹیکس ہے، تاہم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 17 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہاکہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دیاگیا، وزیر اعظم کا وعدہ تھا جیسے ہی گنجائش پیدا ہوئی عوام کو ریلیف دیں گے،ایف بی آر کا کلچر تبدیل ہوچکا ہے،لیکج میں کمی کا آغاز شوگر انڈسٹری سے کیا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم عوام کو ریلیف دینے کےلیے مسلسل کوشش کرتے ہیں،تنکا تنکا کرکے عوام کے ریلیف کےلیے گنجائش پیدا کی گئی ہے،بجٹ میں وزیراعظم نے عوام سے کیا وعدہ وفا کیا،بجٹ میں سب سے پہلے تنخواہ دار کا خیال رکھا گیا ہے۔وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے ذریعے عوامی ریلیف کےلیے گنجائش پیدا کی گئی، تاہم بجٹ میں مڈل کلاس طبقے کےلیے بھی گنجائش پیدا کی گئی ہے، یہ مزدور، تنخواہ دار، صنعتکار اور ہر کسی کا بجٹ ہے۔
بجٹ کے بعد کون کون سی گاڑیاں مہنگی ہونے والی ہیں؟
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی پیش گوئیاں کی جارہی تھیں،لیکن حکومت اور عوام نے مشکل حالات کا صبر و استقامت سے مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں میکرواکنامک استحکام حاصل ہوا، دنیا نےتعریف کی۔
انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر اصلاحاتی ماڈل ورلڈ بینک کےسامنے پیش کیاگیا، رمضان پیکج میں لوگوں کو ڈیجیٹل والٹ بنا کردیے،یہ بجٹ عوامی ریلیف کی ایک مکمل دستاویز ہے،تاہم کم آمدن طبقے کےلیے اپنا گھر سکیم متعارف کرائی گئی۔ایف بی آرکی ڈیجیٹائزیشن وزیراعظم کی نگرانی میں ہوئی،ایف بی آر سے سفارش کلچر کا خاتمہ کردیا، جب کہ وزیراعظم کی معاشی ٹیم نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔
