سپریم جوڈیشل کونسل : ججز کے ضابطہ اخلاق میں ترامیم کی منظوری

سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی۔ ججز کی سماجی اور ثقافتی تقریبات میں شرکت پر عائد پابندی بھی ختم کردی گئی ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل کے اعلامیے کے مطابق ضابطہ اخلاق میں وفاقی آئینی عدالت کا نام شامل کردیا گیا ہے،جس کےبعد یہ ضابطہ وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز پر لاگو ہوگا۔
ترمیم شدہ ضابطہ اخلاق کے تحت ججز کی سماجی اور ثقافتی تقریبات میں شرکت پر عائد پابندی ختم کردی گئی ہے،شق 12 میں ترمیم کےبعد ججز متعلقہ چیف جسٹس کی پیشگی اجازت سے سیاسی اور سفارتی تقریبات میں بھی شرکت کرسکیں گے تاہم ایسی تقریبات میں شرکت کےلیے چیف جسٹس سے اجازت لینا لازمی قراردیا گیا ہے۔
ججز پر دباؤ،شکایت یا عدلیہ میں مداخلت سے متعلق ترامیم کی بھی منظوری دی گئی،شکایت کی صورت میں ہائی کورٹ کے ججز متعلقہ چیف جسٹس کو تحریری طور پر آگاہ کریں گے۔
سپریم کورٹ،آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور دونوں عدالتوں کے دو دو سینئر ترین ججز کو بھی آگاہ کیا جائے گا،ججز کمیٹی شکایات پر 14 روز میں کارروائی مکمل کرےگی۔
وزیر اعظم کی اپوزیشن کو میثاق جمہوریت کی دعوت
اعلامیہ کےمطابق مقررہ مدت میں کارروائی نہ ہوتو سپریم کورٹ اور آئینی عدالت خود معاملہ دیکھیں گے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ججز اپنے چیف جسٹس اور چار سینئر ججز کو تحریری طور پر آگاہ کریں گے۔
