115پرانے سرکاری ہسپتال، مریم نواز کے نام سے منسوب

پنجاب حکومت نے صحت کے شعبے میں ایک بڑی انتظامی تبدیلی کرتے ہوئے 2506 مریم نواز ہیلتھ کلینکس کو آؤٹ سورس کر دیا ہے جبکہ کمزور کارکردگی کے حامل 115 دیہی مراکزِ صحت کو ازسرِ نو منظم کر کے "مریم نواز ہسپتال” کے طور پر فعال بنا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام صوبے میں بنیادی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی سرکاری منصوبوں کو سیاسی شخصیات کے نام سے منسوب کرنے پر نئی بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔

پاکستان اکنامک سروے 2026 کے مطابق پنجاب حکومت نے بنیادی صحت کے نظام میں اصلاحات کے تحت ہزاروں ہیلتھ کلینکس نجی یا غیر سرکاری انتظام کے سپرد کیے ہیں تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ آؤٹ سورسنگ سے انتظامی کارکردگی بہتر ہوگی، طبی عملے کی دستیابی میں اضافہ ہوگا اور دور دراز علاقوں میں صحت کی خدمات مزید مؤثر بنائی جا سکیں گی۔ اقتصادی سروے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے نام سے متعدد عوامی صحت منصوبے متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں مریم نواز ہیلتھ کلینکس اور مریم نواز ہسپتال نمایاں ہیں۔ اس کے نتیجے میں مریم نواز ملک کی واحد موجودہ وزیراعلیٰ یا وزیراعظم بن گئی ہیں جن کے نام سے سرکاری سطح پر متعدد بڑے فلاحی منصوبے چل رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین اس رجحان کا موازنہ ماضی میں بینظیر بھٹو کے نام سے شروع کیے گئے سماجی بہبود کے منصوبوں سے کر رہے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، بینظیر نشوونما پروگرام، بینظیر تعلیمی وظائف اور دیگر فلاحی سکیموں نے ایک وسیع ادارہ جاتی شناخت اختیار کی۔ اب پنجاب میں مریم نواز کے نام سے شروع ہونے والے منصوبوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔تاہم اس معاملے پر رائے منقسم ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری خزانے سے چلنے والے منصوبوں کو کسی سیاسی شخصیت کے نام سے منسوب کرنا مناسب نہیں کیونکہ ریاستی وسائل عوام کی ملکیت ہوتے ہیں اور انہیں غیر جانبدار شناخت کے ساتھ چلایا جانا چاہیے۔ ناقدین کے مطابق اس سے سیاسی تشہیر کا تاثر پیدا ہوتا ہے اور ریاستی منصوبوں کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے۔دوسری جانب حامی حلقے استدلال دیتے ہیں کہ اگر کسی منتخب حکومت کی قیادت عوامی فلاح کے لیے مؤثر منصوبے متعارف کرا رہی ہے تو ان منصوبوں کو اس قیادت کے نام سے منسوب کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ ان کے مطابق اصل پیمانہ منصوبوں کی کامیابی، عوامی فائدہ اور خدمات کے معیار میں بہتری ہونا چاہیے۔

تاہم صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل سوال منصوبوں کے نام نہیں بلکہ ان کی کارکردگی ہے۔ اگر آؤٹ سورس کیے گئے ہیلتھ کلینکس اور نئے فعال کیے گئے ہسپتال عوام کو معیاری علاج، ادویات اور طبی سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ پنجاب کے صحت نظام میں ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر ان اقدامات کے باوجود بنیادی صحت کی سہولیات میں خاطر خواہ بہتری نہ آئی تو سیاسی برانڈنگ کی بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ناقدین کے مطابق پنجاب حکومت کے اس فیصلے نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا ریاستی فلاحی منصوبوں کو سیاسی شخصیات کے نام سے منسوب کیا جانا چاہیے یا انہیں غیر سیاسی اور ادارہ جاتی شناخت کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ آنے والے برسوں میں ان منصوبوں کی کامیابی یا ناکامی ہی اس بحث کا حتمی جواب فراہم کرے گی۔

Back to top button