پیپلزپارٹی گلگت میں حکومت کیسے بنائے گی؟بڑافیصلہ ہو گیا

گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کے بعد ملکی سیاست میں ایک اہم اور غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان میں حکومت سازی کی باضابطہ دعوت دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپوزیشن میں بیٹھے گی، جبکہ اس کے منتخب اراکین حکومت سازی کے مرحلے میں پیپلز پارٹی کی حمایت کریں گے۔ یہ فیصلہ نہ صرف گلگت بلتستان کی سیاست بلکہ وفاقی سطح پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے تعلقات کے تناظر میں بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ چونکہ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، اس لیے جمہوری اصولوں کے تحت حکومت بنانے کا حق بھی اسی جماعت کو حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اکثریتی جماعت کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دے گی اور حکومت سازی کے عمل میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ماضی میں گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں میں حکومت سازی کے دوران سیاسی جوڑ توڑ اور آزاد ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں معمول کا حصہ رہی ہیں۔ اس پس منظر میں اکثریتی جماعت کو بلاشرکت غیرے حکومت بنانے کی دعوت دینا ایک مثبت جمہوری اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی وزیراعظم کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ردعمل میں شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی اکثریت کو تسلیم کرنا جمہوری روایت کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق عوامی مینڈیٹ کا احترام ہی جمہوری نظام کی اصل روح ہے۔

گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کو پارٹی قیادت کی بھرپور انتخابی مہم، منظم تنظیمی ڈھانچے اور متحرک سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری نے انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا اور متعدد حلقوں میں عوامی رابطہ مہم چلائی، جس کا فائدہ پارٹی کو انتخابی نتائج کی صورت میں ملا۔اس کے برعکس مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم نسبتاً محدود رہی۔ پارٹی کی مرکزی قیادت کی کم موجودگی اور کمزور انتخابی سرگرمیوں کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکی۔ یہی وجہ ہے کہ نتائج سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ (ن) نے سیاسی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔

سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو وفاقی حکومت میں شامل دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی اعتماد کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں بجٹ، این ایف سی ایوارڈ اور دیگر اہم قومی معاملات پر دونوں جماعتوں کے درمیان مسلسل مشاورت جاری رہی ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے معاملے پر تعاون نے اس تعلق کو مزید مضبوط بنانے کا تاثر دیا ہے۔

تاہم بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ صرف جمہوری روایت کا اظہار نہیں بلکہ ایک وسیع سیاسی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ وفاق میں اتحادی تعاون کو برقرار رکھنے اور مستقبل کے سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے ساتھ تصادم کے بجائے مفاہمت کی سیاست کو ترجیح دے رہی ہیں۔بہرحال گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت سازی اور مسلم لیگ (ن) کا اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ ملکی سیاست میں ایک نئی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ یہ سیاسی ہم آہنگی محض ایک انتخابی مرحلے تک محدود رہتی ہے یا مستقبل میں بھی دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون کا یہی ماحول برقرار رہتا ہے۔

Back to top button