بجٹ کے بعد کون کون سی گاڑیاں مہنگی ہونے والی ہیں؟

وفاقی بجٹ 2026-27 میں آٹو سیکٹر کے حوالے سے حکومت نے ایک ایسی حکمت عملی اختیار کی ہے جس کا بنیادی مقصد عام صارف کے بجائے مہنگی اور لگژری گاڑیوں پر اضافی ٹیکس عائد کرکے ریونیو میں اضافہ کرنا ہے۔ اس بجٹ میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی گاڑیوں کے لیے کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی، جبکہ بڑی ایس یو ویز، لگژری گاڑیوں اور مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) میں نمایاں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق حکومت نے 2000 سی سی سے بڑی درآمدی گاڑیوں اور دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر اضافی ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایک طرف ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرنا ہے جبکہ دوسری جانب آئی ایم ایف پروگرام کے تحت زیادہ آمدنی رکھنے والے طبقے پر ٹیکس کا بوجھ ڈالنا بھی حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔

بجٹ تجاویز کے مطابق 2000 سی سی سے 3000 سی سی انجن رکھنے والی درآمدی گاڑیوں اور ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 30 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے مارکیٹ میں موجود متعدد معروف گاڑیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان میں فارچیونر، ہائی لکس، پراڈو، لینڈ کروزر، سورینٹو، پیلی سیڈ اور ڈی میکس جیسی گاڑیاں شامل ہیں، جن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اس کے علاوہ 3000 سی سی سے زائد انجن والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 40 فیصد سے بڑھا کر 81 فیصد تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے بڑی لگژری ایس یو ویز اور اعلیٰ درجے کی درآمدی گاڑیوں کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی، جس سے یہ گاڑیاں عام خریدار کی پہنچ سے مزید دور ہو جائیں گی۔

حکومت نے پہلی مرتبہ مہنگی الیکٹرک گاڑیوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دو کروڑ روپے سے کم قیمت والی الیکٹرک گاڑیوں پر موجودہ رعایت برقرار رہے گی، تاہم دو کروڑ سے تین کروڑ روپے مالیت کی لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے ای ٹرون، زیکر سیون ایکس، زیکر زیرو زیرو نائن، ای وی فائیو، آئی ایکس اور سائبرسٹر جیسی مہنگی الیکٹرک گاڑیاں متاثر ہو سکتی ہیں، جن کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے چھوٹی گاڑیوں، کم قیمت الیکٹرک گاڑیوں، الیکٹرک موٹر سائیکلوں، رکشوں اور بسوں کے لیے موجودہ رعایتی نظام برقرار رکھا ہے۔ اسی طرح درآمدی الیکٹرک ٹرکوں پر سیلز ٹیکس 18 فیصد سے کم کرکے صرف ایک فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جسے کاروباری اور صنعتی شعبے کے لیے ایک اہم سہولت قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بجٹ سے زیادہ اہم حکومت کی نئی آٹو موٹیو پالیسی ہوگی، جس پر اس وقت وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی غور کر رہی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ نئی پالیسی میں مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری، پرزہ سازی کی صنعت کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور نئی آٹو کمپنیوں کے لیے مراعات جیسے اہم معاملات شامل ہوں گے۔آٹو سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی گاڑیوں کی صنعت کا اصل مسئلہ صرف ٹیکس نہیں بلکہ مقامی پیداوار میں کمی، درآمدی پرزوں پر انحصار اور برآمدات کی محدود صلاحیت ہے۔ اگر نئی آٹو پالیسی ان مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو آنے والے برسوں میں صارفین کو بہتر معیار کی گاڑیاں نسبتاً مناسب قیمتوں پر دستیاب ہو سکیں گی۔

مبصرین کے بقول مجموعی طور پر بجٹ 2026-27 کا پیغام واضح ہے کہ حکومت عام صارف کی چھوٹی گاڑیوں پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے مہنگی ایس یو ویز، لگژری گاڑیوں اور قیمتی الیکٹرک گاڑیوں سے زیادہ ٹیکس وصول کرنا چاہتی ہے۔ اس فیصلے سے اعلیٰ آمدنی والے طبقے پر مالی بوجھ بڑھے گا جبکہ عام خریدار فوری طور پر کسی بڑے اضافی ٹیکس سے محفوظ رہے گا۔ تاہم آٹو سیکٹر کا حقیقی مستقبل نئی آٹو پالیسی کے اعلان کے بعد ہی واضح ہو سکے گا۔

Back to top button