بجٹ2026-27میں اوورسیز پاکستانیوں کو کیا ملا؟

پاکستان کی معیشت میں سمندر پار پاکستانیوں کا کردار ہمیشہ سے کلیدی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیتی ہیں اور معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے چند ایسی اہم قانونی اور ٹیکس اصلاحات متعارف کروائی ہیں جن کا مقصد ان کے اعتماد کو بحال کرنا اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق بجٹ میں سب سے اہم پیش رفت اوورسیز پاکستانیوں کو انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے اور لازمی ٹیکس رجسٹریشن سے مشروط استثنیٰ دینا ہے۔ نئی تجویز کے مطابق وہ غیر مقیم پاکستانی جن کی پاکستان میں آمدنی صرف روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور اس سے منسلک مخصوص سرمایہ کاری ذرائع تک محدود ہوگی، انہیں ایف بی آر کے پاس ریٹرن جمع کرانے یا سیکشن 181 کے تحت لازمی رجسٹریشن کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اسی طرح حکومت نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم کو مزید مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں کی شناخت کو صرف نائیکوپ یا پی او سی تک محدود رکھنے کے بجائے سٹیٹ بینک کے منظور شدہ مخصوص بینکاری اکاؤنٹس سے منسلک کر دیا ہے۔ اس اقدام سے غیر مقیم پاکستانیوں کو مالی معاملات میں زیادہ تحفظ اور سہولت حاصل ہوگی۔ نئے قانون کے تحت چار اہم ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کو خصوصی تحفظ دیا گیا ہے۔ ان میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس پر حاصل ہونے والا بینک منافع، نیا پاکستان سرٹیفکیٹس اور دیگر حکومتی سیکیورٹیز سے حاصل ہونے والا منافع، پاکستان سٹاک ایکسچینج اور میوچل فنڈز سے حاصل شدہ ڈیویڈنڈ، اور انہی اکاؤنٹس کے ذریعے خریدی گئی جائیداد کی فروخت سے حاصل ہونے والا کیپیٹل گین شامل ہیں۔ ان آمدنیوں کے حوالے سے اوورسیز پاکستانیوں کو اضافی ٹیکس فائلنگ یا قانونی پیچیدگیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

بجٹ میں ایک اور بڑا ریلیف بیرون ملک مالی لین دین کرنے والوں کیلئے دیا گیا ہے۔ حکومت نے بین الاقوامی ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ ٹرانزیکشنز پر عائد پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کو کم کر کے صرف 0.5 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس اقدام سے بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کی مالی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔

رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں بھی اوورسیز پاکستانیوں کیلئے مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ فائلر اوورسیز پاکستانیوں کیلئے پراپرٹی خریدنے پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد جبکہ فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے بیرون ملک پاکستانیوں کی پاکستان کے پراپرٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی متوقع ہے۔

اگرچہ اس بجٹ میں ترسیلاتِ زر بڑھانے کیلئے کسی نئے مراعاتی پیکیج، گاڑیوں اور الیکٹرانکس کی درآمد پر خصوصی رعایت یا نان فائلر اوورسیز پاکستانیوں کیلئے اضافی سہولتوں کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم ماہرین کے مطابق ٹیکس قوانین میں کی گئی یہ تبدیلیاں اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد کی بحالی اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بجٹ 2026-27 اوورسیز پاکستانیوں کیلئے کسی بڑے پیکیج کے بجائے قانونی تحفظ، ٹیکس آسانیوں اور سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

Back to top button