اسلام آباد اکارڈ کی منظوری، ایران نے بھی معاہدے کی تصدیق کر دی

وزیر اعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد ایران نے بھی امن معاہدہ طے پانے کی تصدیق کر دی۔ ایران نے امریکا کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کے متن کی حتمی منظوری دے دی گئی ہے اور معاہدے پر باضابطہ دستخط آئندہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں کیے جائیں گے۔
نائب ایرانی وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد تیار کیے گئے مفاہمتی مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کے متن کی منظوری مکمل ہو چکی ہے اور اب دونوں فریق دستخطی مرحلے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ’’اسلام آباد اکارڈ‘‘ کے نام سے موسوم اس مفاہمتی معاہدے پر جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کا خواہاں ہے، تاہم اگر کسی فریق نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو تہران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
خیال رہے کہ ایران کی جانب سے یہ تصدیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اعلان کر چکے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے مستقل خاتمے پر اتفاق کر لیا ہے۔امریکی صدر کے مطابق معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو عالمی بحری تجارت کے لیے فوری طور پر کھول دیا جائے گا جبکہ امریکی بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی جائے گی۔ انہوں نے اس پیش رفت کو عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور علاقائی استحکام کے لیے ایک تاریخی موقع قرار دیا۔
دوسری جانب عرب میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے امن معاہدے کو ملک کی سفارت کاری، دفاعی حکمت عملی اور سیاسی استقامت کی کامیابی قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ کسی دباؤ، دھمکی یا مجبوری کے نتیجے میں نہیں بلکہ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے پیچیدہ مذاکرات اور سفارتی رابطوں کا ثمر ہے۔ایرانی حکام کے مطابق مذاکراتی عمل میں پاکستان نے کلیدی ثالثی کردار ادا کیا جبکہ قطر نے بھی دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی اور رابطوں کو برقرار رکھنے میں اہم معاونت فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران ایک مشترکہ مفاہمت تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
حکام نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے حالیہ بحران کے دوران اپنے دفاع کو مؤثر انداز میں یقینی بنایا اور مخالف فریقوں کو یہ واضح پیغام دیا کہ ملک کی خودمختاری، قومی سلامتی اور ریاستی تشخص ناقابلِ سمجھوتہ ہیں۔ایرانی ذرائع کے مطابق معاہدے سے چند گھنٹے قبل خطے میں کشیدگی انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی تھی اور ایران مختلف عسکری آپشنز پر غور کر رہا تھا۔ تاہم آخری لمحات میں فوجی ردعمل کے بجائے سفارتی راستے کو ترجیح دی گئی جس سے امن معاہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار ہوئی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس مرحلے پر کسی بڑے فوجی ردعمل کا فیصلہ کیا جاتا تو نہ صرف امن عمل متاثر ہو سکتا تھا بلکہ ثالثی کی جاری کوششیں بھی خطرے میں پڑ جاتیں۔ ان کے مطابق سفارت کاری کو ترجیح دینے کے فیصلے نے دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کو ممکن بنایا۔مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام پیدا کرنے اور خطے میں ایک نئے سفارتی باب کے آغاز کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ تمام نظریں اب سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی دستخطی تقریب اور معاہدے پر عمل درآمد کے اگلے مراحل پر مرکوز ہیں۔
