عالمی برادری کا ایران-امریکا معاہدے کا خیرمقدم، پاکستان کی ثالثی پر تعریف

 

 

 

 

عالمی برادری نے ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طےپانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امن معاہدے پر امریکا اور ایران کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ مستقل جنگ بندی،آبنائے ہرمز کھلنے کی جانب اہم قدم ہے۔

انتونیو گوتریس کاکہنا تھاکہ مذاکراتی عمل میں پاکستان، قطر،سعودی عرب اور دیگر ممالک کا کردار قابل قدر ہے۔

قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یاد داشت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر ان تمام علاقائی و بین الاقوامی فریقوں کا شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے اس سمجھوتے تک پہنچنے کےلیے سازگار حالات پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔

قطری وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ تمام فریق آئندہ ہونےوالے مذاکرات میں مثبت اور تعمیری انداز اپنائیں گے تاکہ اس پیش رفت کو مزید مستحکم کیا جاسکے۔ریاستِ قطر ہمیشہ ان کوششوں کی مضبوط حامی رہےگی اور ہر اس اقدام کی حمایت جاری رکھےگی جو خطے اور دنیا میں امن و استحکام کو مکالمے اور پر امن ذرائع سے فروغ دیتا ہو۔

برطانوی وزیر اعظم نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں جنگ کے خاتمے اور استحکام کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔برطانوی وزیرِاعظم نے امریکا ایران معاہدے کےلیے ثالثی کے عمل میں کردار ادا کرنےوالے ممالک پاکستان، قطر اور دیگر کو سراہا۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان نے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہےکہ یہ پیش رفت خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کے قیام کی راہ ہموار کرےگی۔ترک صدر نے تمام فریقوں پر زور دیاکہ وہ معاہدے پر دستخط سے قبل ایسے بیانات،اشتعال انگیزیوں اور اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہوں،تمام متعلقہ فریقوں کو ممکنہ تخریب کاری یا امن عمل کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کےخلاف بھی ہوشیار اور محتاط رہنا چاہئے۔

جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے اس معاہدے کو بڑی پیش رفت قراردیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مفاہمتی یادداشت پر مستقل اور مؤثر انداز میں عملدرآمد کیاجائے گا۔

نیوزی لینڈ کے وزیرخارجہ ونسٹن پیٹرز نے معاہدے پر تیزی سے عملدرآمد کی امید ظاہر کرتےہوئے آبنائے ہرمز کی بحالی کو اہم قراردیا اور کہا کہ تمام فریقوں پر زور دیتےہیں کہ وہ اس مثبت پیش رفت کو برقرار رکھیں،اگرچہ صورت حال اب بھی نازک ہے۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طےپانے والے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہےاور کہا ہےکہ آبنائے ہرمز کو فوری اور بغیر کسی شرط کے دوبارہ کھولا جانا چاہئے۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے ایران امریکا معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتےہوئے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ پائیدار اور دیرپا امن کا باعث بنے گا۔انہوں نے کہاکہ آبنائے پرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی مکمل بحالی میں وقت لگےگا، آبنائے ہرمز کی بحالی توانائی کی قیمتوں اور معیشتوں پر دباؤ کم کرنے کےلیے نہایت ضروری ہے۔

 

اسلام آباد اکارڈ کی منظوری، ایران نے بھی معاہدے کی تصدیق کر دی

دوسری جانب برطانیہ،جرمنی، فرانس اور اٹلی نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا خیر مقدم کرتےہوئے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔چاروں یورپی ممالک نے واضح کیا ہےکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یورپی ممالک نے کہا ہےکہ اگر ایران کی جانب سے قابلِ تصدیق اقدامات کیےجاتے ہیں تو اس کے بدلے میں پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جاسکتا ہے۔یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز کے فوری اور غیر مشروط کھولنے کو عالمی معیشت کےلیے ناگزیر قراردیا۔

بیان میں یورپی ممالک نے لبنان کی خودمختاری اور استحکام کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا، جب ک ہ خطے میں دیرپا امن کےلیے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے پر زور دیاگیا ہے۔

 

 

 

Back to top button