MQM میں اختلافات عروج پر، خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کے درمیان لفظی جنگ تیز

ایم کیو ایم پاکستان ایک بار پھر اندرونی اختلافات اور قیادت کے بحران کی زد میں آتی دکھائی دیتی ہے۔جہاں پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ پارٹی کے دو اہم رہنما، چیئرمین خالد مقبول صدیقی اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال، ایک مرتبہ پھر کھل کر ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئے ہیں۔ حالیہ بیانات نے نہ صرف پارٹی کے اندر جاری کشمکش کو بے نقاب کیا ہے بلکہ تنظیمی استحکام اور مستقبل کی قیادت کے حوالے سے کئی سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔

اختلافات کی تازہ لہر اس وقت سامنے آئی جب مصطفیٰ کمال نے پارٹی چیئرمین شپ کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن سے خفیہ طور پر چیئرمین شپ میں توسیع مانگی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو شخص اپنے عہدے کے لیے توسیع کا محتاج ہو، وہ قوم کے حقوق کی مؤثر جنگ نہیں لڑ سکتا۔ انہوں نے پارٹی میں باقاعدہ انتخابات نہ کرانے، مشاورت کے فقدان اور تنظیمی اجلاسوں کی عدم موجودگی پر بھی سوالات اٹھائے۔

مصطفیٰ کمال کے بیانات محض انتظامی معاملات تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے پارٹی کے اندر احتساب، فیصلہ سازی اور قیادت کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر پارٹی کے اندر جمہوری روایات کمزور ہوں گی تو کارکنوں اور عوام کا اعتماد بھی متاثر ہوگا۔

دوسری جانب خالد مقبول صدیقی نے نام لیے بغیر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایم کیو ایم کسی فرد کے گرد نہیں بلکہ ایک نظریے اور اجتماعی جدوجہد کے گرد قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جبر اور دباؤ سے نہ ڈرنے والی جماعت کسی کے ذاتی حملوں سے بھی مرعوب نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ چیئرمین کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا رہے ہیں، وہ خود تنظیمی اصولوں سے انحراف کر چکے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تنازع صرف دو شخصیات کے درمیان اختلاف نہیں بلکہ پارٹی کے مستقبل، قیادت کے ڈھانچے اور اختیارات کی تقسیم سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ مصطفیٰ کمال تنظیمی اصلاحات اور اندرونی احتساب کی بات کر رہے ہیں جبکہ خالد مقبول صدیقی پارٹی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی استحکام پر زور دے رہے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ اس لفظی جنگ کے اثرات اب نچلی سطح تک پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کارکنوں کے درمیان مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں اور بعض حلقے اسے پارٹی کے اندر نئی صف بندی کی ابتدا قرار دے رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب ایم کیو ایم شہری سندھ کے مسائل، بلدیاتی اختیارات اور سیاسی نمائندگی کے سوالات پر اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے، اندرونی اختلافات اس کی سیاسی طاقت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ماضی میں بھی ایم کیو ایم مختلف بحرانوں اور تقسیم کے مراحل سے گزر چکی ہے، لیکن موجودہ صورتحال اس لیے زیادہ اہم ہے کیونکہ یہ اختلافات پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت کے درمیان براہ راست سامنے آ رہے ہیں۔ اگر قیادت اس بحران کو مذاکرات اور تنظیمی اصلاحات کے ذریعے حل کرنے میں کامیاب نہ ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف پارٹی کے اندرونی اتحاد بلکہ آئندہ انتخابی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ فی الحال سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا ایم کیو ایم پاکستان ان اختلافات کو داخلی جمہوری عمل کے ذریعے حل کرے گی یا یہ تنازع مزید بڑھ کر پارٹی کے اندر ایک نئی سیاسی صف بندی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

Back to top button