امریکاایران 14 نکاتی امن معاہدےکی تفصیلات منظر عام پر

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مجوزہ امن معاہدے اور 14 نکاتی مفاہمتی مسودے کی مزید تفصیلات منظر عام پر آ گئی ہیں، جن کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی، جوہری سرگرمیوں پر پابندیوں، معاشی رعایتوں اور علاقائی استحکام سے متعلق اہم نکات پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا ہے۔

برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق عبوری معاہدے کے تحت ایران حتمی معاہدے تک اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ حیثیت برقرار رکھنے کا پابند ہوگا۔ ایران یورینیم کی افزودگی میں مزید توسیع اور نئی جوہری تنصیبات کے قیام یا موجودہ تنصیبات کی توسیع سے گریز کرے گا، جبکہ امریکا ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی لانے یا انہیں ختم کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تمام تجارتی اور تیل بردار جہازوں کے لیے بحال کیا جائے گا تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔ اس کے علاوہ امریکا ایران کے تقریباً 25 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثوں کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کرے گا۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی معاہدے کے بعد آئندہ 60 روز کے دوران فریقین ایک جامع اور حتمی معاہدے کی تیاری کے لیے مذاکرات جاری رکھیں گے۔ اس عرصے میں ایران پر کوئی نئی اقتصادی یا مالی پابندی عائد نہ کرنے کی یقین دہانی بھی مجوزہ معاہدے کا حصہ ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن اپنے علاقائی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی معاشی بحالی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کرے گا تاکہ خطے میں پائیدار استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

دوسری جانب ایرانی ذرائع نے 14 نکاتی مفاہمتی مسودے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی 30 دن کے اندر مرحلہ وار ختم کر دی جائے گی جبکہ ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے پر عائد پابندیاں بھی معطل کی جائیں گی۔مسودے کے مطابق لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی نافذ کی جائے گی۔ اس کے علاوہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی بحالی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے تعاون پر غور کریں گے۔دستاویز کے مطابق حتمی معاہدے میں ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی یا مزاحمتی گروہوں کی حمایت جیسے حساس معاملات شامل نہیں ہوں گے، بلکہ ان موضوعات کو مستقبل کی بات چیت کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔مجوزہ مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذاکراتی عمل کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے جاری کیے جائیں گے، جبکہ بعض ذرائع کے مطابق امریکا ابتدائی اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر 12 ارب ڈالر کے اثاثے مذاکرات سے قبل بحال کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔معاہدے کی ایک اہم شق کے تحت حتمی امریکا۔ایران معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کرانے کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ معاہدے کو بین الاقوامی قانونی اور سفارتی حمایت حاصل ہو سکے۔

سیاسی اور سفارتی مبصرین کے مطابق اگر یہ مجوزہ نکات حتمی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو یہ نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت ہوگی بلکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، توانائی کی عالمی منڈیوں کے استحکام اور علاقائی سلامتی کے لیے بھی اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم معاہدے کی متعدد شقوں کی باضابطہ تصدیق اور نفاذ اب بھی آئندہ مذاکرات اور دستخطی عمل سے مشروط ہے۔

Back to top button