مزاحمت یا مفاہمت، عمران خان کی رہائی کیسے ممکن ہے؟

پاکستان تحریک انصاف اس وقت ایک ایسے سیاسی موڑ پر کھڑی ہے جہاں اس کی تمام تر سیاسی توانائی بانی پی ٹی آئی کی رہائی، ملاقات اور ریلیف کے گرد سمٹتی دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی کے اندر بے چینی بڑھ رہی ہے، کارکن مایوسی کا شکار ہیں اور قیادت پر دباؤ ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر بڑے احتجاج کے ذریعے صورتحال کو بدلا جائے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف احتجاج سے سیاسی بند راستے کھل سکتے ہیں؟ کیا احتجاجی حکمت عملی عمران خان کی رہائی کی راہ ہموار کر سکتی ہے؟

مبصرین کے مطابق ایک طرف پی ٹی آئی قیادت اندرونی اختلافات اور انتشار کا شکار ہے ایسے میں بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کی جانب سے اڈیالہ جیل کے باہر دس ہزار کارکن جمع کرنے کی بات نے پارٹی قیادت کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پارٹی رہنماؤں نے مجبوراً اس مطالبے پر آمادگی تو ظاہر کر دی ہے، مگر حتمی فیصلہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے اشارے سے مشروط قرار دے دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ صورتحال خود اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پارٹی کی فیصلہ سازی مکمل طور پر یکسو نہیں اور مختلف دھڑوں کے درمیان اعتماد کا فقدان موجود ہے۔

تجزیہ کاروں کے بقول پی ٹی آئی کی سیاسی شناخت ہمیشہ جارحانہ احتجاجی سیاست رہی ہے۔ دھرنے، جلسے اور عوامی دباؤ اس جماعت کی طاقت سمجھے جاتے تھے، لیکن حالیہ برسوں میں مسلسل احتجاجی حکمت عملی کے باوجود مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد ریاستی اداروں کی سختی، مقدمات اور تنظیمی دباؤ نے پارٹی کی احتجاجی قوت کو کمزور کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب بار بار کال دینے کے باوجود بڑے پیمانے پر عوامی شرکت دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ یہ ایک دلچسپ تضاد ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمایاں اپوزیشن ہونے کے باوجود پی ٹی آئی سیاسی طور پر دفاعی پوزیشن میں نظر آتی ہے۔ اپوزیشن لیڈر کی تقرریوں اور پارلیمانی حکمت عملی سے بھی پارٹی کو وہ سیاسی فائدہ نہیں ملا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ پارٹی کے اندر یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ اگر پارلیمانی کردار سے نہ ریلیف ملا اور نہ سیاسی پیش رفت، تو پھر موجودہ حکمت عملی کی افادیت کیا ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کی سب سے بڑی کمزوری اس کی اندرونی تقسیم اور قیادت کا بحران ہے۔ جیل سے باہر ایسی مضبوط اور تجربہ کار قیادت دکھائی نہیں دیتی جو ایک طرف کارکنوں کو متحرک رکھ سکے اور دوسری طرف حکومت و ریاستی اداروں کے ساتھ مؤثر سیاسی رابطے بھی قائم کر سکے۔ خیبر پختونخوا حکومت سے بھی وہ جارحانہ سیاسی کردار سامنے نہیں آیا جو ماضی میں علی امین گنڈاپور کے دور میں دیکھا جاتا تھا۔

حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے مقدمات عدالتوں میں ہیں اور ان کا حل صرف قانونی عمل کے ذریعے ممکن ہے۔ تاہم پاکستانی سیاست کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بڑے سیاسی بحران اکثر صرف عدالتوں میں نہیں بلکہ سیاسی مفاہمت کی میز پر حل ہوتے رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں بھی یہی تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا راستہ صرف احتجاج سے نہیں بلکہ کسی نہ کسی سطح کی سیاسی مفاہمت اور مذاکرات سے نکل سکتا ہے۔ ایسے میں اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن بھی زیرِ بحث رہا، مگر پارٹی کے اپنے اراکین اس کے حق میں نظر نہیں آتے۔ وجہ واضح ہے: استعفے پارٹی کو پارلیمانی سیاست سے باہر دھکیل سکتے ہیں جبکہ حکومت پر فوری دباؤ ڈالنے کی ضمانت بھی موجود نہیں۔ اس لیے پارٹی کے اندر اب یہ بحث تیز ہو رہی ہے کہ آیا جذباتی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی سیاسی حکمت عملی اختیار کی جائے۔

مبصرین کے مطابق موجودہ سیاسی منظرنامے میں یہ حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا بڑے سیاسی ریلیف کا امکان صرف احتجاجی دباؤ سے پیدا نہیں ہوگا۔ پارٹی کو اندرونی اتحاد، مضبوط سیاسی قیادت، پارلیمانی حکمت عملی اور سب سے بڑھ کر سیاسی مفاہمت کی سمت میں پیش رفت کرنا ہوگی۔ بصورتِ دیگر احتجاجی سیاست کی تکرار وقتی شور تو پیدا کر سکتی ہے، مگر مستقل سیاسی حل نہیں۔

Back to top button