کیا ایران اور امریکہ معاہدہ فائنل ہے یا پھر اٹک جائے گا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کئی روز سے ایران کے ساتھ امن معاہدے کے حتمی مرحلے میں پہنچنے اور کسی بھی وقت دستخط ہونے کے دعوؤں کے بعد بالآخر اس حوالے سے اہم سفارتی پیشرفت سامنے آ گئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ امن معاہدے کے متن کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جبکہ معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہے۔ پاکستان اور ایران دونوں نے بھی معاہدے کے حوالے سے ٹھوس پیشرفت کی تصدیق کر دی ہے جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی امیدیں مزید مضبوط ہو گئی ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اگرچہ معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، تاہم آخری مرحلے میں بعض تکنیکی اور سیاسی معاملات پر یقین دہانیوں کا عمل جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاہدہ تقریباً تیار ہونے کے باوجود دستخطوں کے مرحلے تک پہنچنے میں وقت لگا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور اب سوال یہ نہیں کہ معاہدہ ہوگا یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد کب شروع ہوگا۔ دوسری جانب ایرانی حکام بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔معاہدے کے مجوزہ فریم ورک میں جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی، منجمد ایرانی اثاثوں کی مرحلہ وار واپسی اور آئندہ جوہری مذاکرات کے لیے 60 روزہ روڈ میپ شامل کیا گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہی وہ نکات ہیں جنہوں نے دونوں فریقوں کو ایک مشترکہ فریم ورک پر قریب لانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
آبنائے ہرمز کی بحالی کو معاہدے کا سب سے اہم معاشی اور تزویراتی پہلو قرار دیا جا رہا ہے۔ دنیا کی تیل سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے اور جنگ کے باعث اس کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کیا تھا۔ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران عالمی تجارتی جہازرانی کی بحالی یقینی بنائے گا جبکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں اور بحری سرگرمیوں سے متعلق بعض پابندیوں میں نرمی کرے گا۔
ذرائع کے مطابق معاہدے میں ایران کے تقریباً 25 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار واپسی بھی شامل ہے۔ تہران اس مالیاتی پیکیج کو جنگ کے بعد معیشت کی بحالی کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے جبکہ ایرانی قیادت کے نزدیک عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے معاشی فوائد کا فوری ظہور ضروری ہے۔
اگرچہ جوہری پروگرام عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، لیکن سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ مرحلے میں اصل مسئلہ یورینیم افزودگی نہیں بلکہ اعتماد کا فقدان ہے۔ ایران اب بھی اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ امریکہ مستقبل میں معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار نہیں ہوگا اور پابندیوں میں نرمی کے وعدوں پر عملی پیشرفت یقینی بنائی جائے گی۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اپنے وعدوں پر عمل درآمد کی خواہش یا صلاحیت نہیں رکھتا تو مذاکراتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا بحران مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
معاہدے کے راستے میں ایک اور اہم عنصر اسرائیل کے تحفظات ہیں۔ اسرائیلی قیادت مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ ایران کو یورینیم افزودگی اور میزائل پروگرام جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، تاہم موجودہ فریم ورک میں ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوئی شرط شامل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اس مجوزہ معاہدے پر مکمل اطمینان کا اظہار نہیں کر رہا۔
دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں نے بھی مذاکراتی ماحول پر اثر ڈالا۔ صدر ٹرمپ نے خود بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر حملے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کارروائی نے مذاکراتی فضا کو متاثر کیا اور معاہدے کے اعلان میں تاخیر کا باعث بنی۔
سفارتی مبصرین کے مطابق تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود معاہدہ اب اپنی تکمیل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ قطر، پاکستان، مصر اور ترکی سمیت مختلف ثالث ممالک پس پردہ رابطوں میں کردار ادا کرتے رہے ہیں جبکہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع دستخطی تقریب کو خطے میں ایک بڑی سفارتی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان یہ معاہدہ صرف جنگ بندی کا انتظام نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئے سیاسی اور سکیورٹی توازن کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فریقین معاہدے پر عمل درآمد، پابندیوں میں نرمی، معاشی مراعات اور باہمی اعتماد کی بحالی کے وعدوں کو کس حد تک پورا کرتے ہیں۔
