ایران سے معاہدہ طے، ناکہ بندی ختم، آبنائے ہرمز کھول دی: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ مکمل ہو گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو عالمی بحری آمدورفت کے لیے کھولتے ہوئے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے بعد ایک جامع مفاہمتی فریم ورک طے پا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں فریق فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر متفق ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان سمیت تمام متعلقہ محاذوں پر ہوگا۔امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو فوری طور پر مکمل تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھول دیا جائے گا، جبکہ امریکا اپنی بحری ناکہ بندی بھی فوری طور پر ختم کر رہا ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔
اپنے پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ "معاہدہ مکمل ہو گیا ہے، مبارک ہو۔ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کی اجازت دی جاتی ہے اور امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کی جاتی ہے۔”اعلامیے کے مطابق دنیا بھر کے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کے لیے سمندری راستے دوبارہ کھول دیے جائیں گے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی معمول پر آنے کی توقع ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جہاز روانہ ہوں اور تیل کی ترسیل دوبارہ پوری رفتار سے شروع ہو۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ ابتدائی فریم ورک کی صورت میں طے پایا ہے اور آئندہ چند روز کے دوران تکنیکی مذاکرات کے ذریعے اس کے مختلف پہلوؤں کو حتمی شکل دی جائے گی۔ معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے کا امکان ہے جہاں دونوں ممالک کے نمائندے اور ثالثی کے عمل میں شریک ممالک کے وفود بھی موجود ہوں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم پیش رفت ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی سمندری راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں اور عالمی سپلائی چین کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے پر مکمل عمل درآمد ہوتا ہے تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، سمندری تجارت اور سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت کو خطے میں جاری بحران کے خاتمے اور سفارتی حل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں اب اس معاہدے کے عملی نفاذ اور آئندہ مراحل پر مرکوز ہیں۔
