پاکستان کی کوششوں سے امریکہ ایران امن معاہدہ طے، شہباز شریف نے تصدیق کر دی

وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور دیگر دوست ممالک کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے، امن معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ طویل سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان ایک جامع امن معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر فوری اور مستقل عسکری کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کیا ہے، جس میں لبنان سمیت خطے کے دیگر متاثرہ علاقے بھی شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ پیش رفت خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کے حصول میں کردار ادا کرنے والے تمام ممالک اور قیادتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تنازع کے سفارتی حل کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوششیں کی گئیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

image 31

اعلامیے کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اور ثالثی کے عمل میں شریک ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں قطر کے کردار کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ برادر ملک قطر نے مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے میں اہم اور مؤثر کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ قطر کی قیادت نے مختلف مراحل پر دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں اور اعتماد سازی میں نمایاں معاونت فراہم کی۔اعلامیے میں سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ان ممالک نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔وزیراعظم کے مطابق معاہدہ طے پانے کے بعد ثالث ممالک آئندہ چند دنوں کے دوران متعدد مشاورتی اور تکنیکی اجلاسوں کی میزبانی کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینا، تکنیکی امور طے کرنا اور دستخطی تقریب کی تیاری مکمل کرنا ہوگا۔

سیاسی و سفارتی مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، تجارت اور علاقائی سلامتی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، فوجی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز کے بحران نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی تھی، تاہم مجوزہ امن معاہدہ ان خدشات کو کم کرنے اور سفارتی حل کو تقویت دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ معاہدے کے بعد خطے میں پائیدار امن، اقتصادی استحکام اور بین الاقوامی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ تمام فریق اپنے اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیں گے۔

Back to top button