بھارت کے نیوکلئیر وارہیڈز 190 ہو گئے، پاکستان کے 170

سویڈن کے معروف تحقیقی ادارے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ نے جنوبی ایشیا میں جوہری توازن، اسلحہ کی دوڑ اور خطے کے مستقبل کے سکیورٹی منظرنامے کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 تک بھارت کے جوہری وارہیڈز کی تعداد بڑھ کر 190 ہو گئی ہے جبکہ پاکستان کے جوہری وارہیڈز 170 پر برقرار ہیں۔ لیکن پاکستان نے نئے میزائلوں اور ڈیلیوری سسٹمز کی ترقی کا عمل تیز تر کر دیا یے۔
سپری کے مطابق بھارت نے گزشتہ سال کے دوران اپنے ذخیرے میں تقریباً 10 نئے وارہیڈز شامل کیے اور پہلی مرتبہ محدود تعداد میں جوہری وارہیڈز کو عملی تعیناتی کی حالت میں بھی رکھا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی دہائیوں کے بعد ایک سنگین فوجی بحران پیدا ہوا تھا جسے سپری نے "غیر معمولی طور پر شدید فوجی بحران” قرار دیا ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بحران نے دونوں ممالک کو اپنی دفاعی حکمت عملیوں کا ازسرنو جائزہ لینے پر مجبور کیا، تاہم اس کے بعد جوہری توسیع کے حوالے سے دونوں ممالک کے راستے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔
سپری اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق بھارت نے گزشتہ برس اپنے جوہری ذخیرے کو تقریباً 180 وارہیڈز سے بڑھا کر 190 وارہیڈز تک پہنچا دیا۔ اگرچہ بعض میڈیا رپورٹس میں 12 وارہیڈز کے اضافے کا ذکر کیا گیا، لیکن سپری کے بنیادی تخمینے کے مطابق مجموعی تعداد میں تقریباً 10 وارہیڈز کا اضافہ ہوا ہے جبکہ 12 وارہیڈز کی تعیناتی ایک الگ پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی جوہری حکمت عملی اب صرف پاکستان تک محدود نہیں رہی۔ سپری کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کی جدید کاری کا بڑا حصہ چین کو مدنظر رکھ کر کیا جا رہا ہے۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، MIRV ٹیکنالوجی، کینسٹرائزڈ میزائل اور سمندر سے جوہری حملے کی صلاحیت رکھنے والے نظام اس پالیسی کا حصہ ہیں۔
اس رپورٹ کا سب سے اہم پہلو بھارت کی ممکنہ جوہری تعیناتی میں تبدیلی ہے۔ سپری کے مطابق بھارت نے پہلی مرتبہ تقریباً 12 جوہری وارہیڈز کو آپریشنل حیثیت میں رکھا ہے، جن میں سے بعض کے جوہری آبدوزوں یا دیگر فوری استعمال کے نظاموں سے منسلک ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ اقدام بھارت کی "سیکنڈ اسٹرائیک کیپیسٹی” کو مزید مضبوط بناتا ہے، یعنی اگر اس پر جوہری حملہ بھی ہو جائے تو وہ سمندر سے جوابی کارروائی کی صلاحیت برقرار رکھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان نے اپنے جوہری وارہیڈز کی تعداد میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا۔ سپری کے مطابق پاکستان نے 2025 کے دوران اپنے جوہری ذخیرے کو 170 وارہیڈز پر برقرار رکھا، اگرچہ اس نے نئے میزائلوں اور ڈیلیوری سسٹمز کی ترقی کا عمل جاری رکھا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے تعداد میں اضافہ نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ اس کی "کم از کم قابلِ اعتماد روک تھام” کی پالیسی ہے۔ پاکستان کی حکمت عملی روایتی طور پر ہتھیاروں کی تعداد میں برابری حاصل کرنے کے بجائے ایسی صلاحیت برقرار رکھنے پر مرکوز رہی ہے جو کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روک سکے۔ اسی لیے اسلام آباد نے نئے وارہیڈز بنانے کے بجائے موجودہ صلاحیت کی بقا، میزائل ٹیکنالوجی اور ردعمل کی رفتار پر زیادہ توجہ دی ہے۔
اگرچہ پاکستان نے تعداد میں اضافہ نہیں کیا، لیکن سپری کا کہنا ہے کہ پاکستان اب بھی فِسل میٹیریل یعنی جوہری ایندھن جمع کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مستقبل میں سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو اسلام آباد نسبتاً کم وقت میں اپنے جوہری ذخیرے میں اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے بھارتی جوہری توسیع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے جوہری اور میزائل صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ خطے کے تزویراتی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ بھارت کی بعض پیش رفتیں اس کی جائز دفاعی ضروریات سے کہیں زیادہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کے اثرات جنوبی ایشیا سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہ مؤقف پاکستانی حکام متعدد بین الاقوامی فورمز پر دہراتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں بھی اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ متعدد تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جوہری جدید کاری کا بڑا محرک چین ہے، تاہم پاکستان کے ساتھ دیرینہ رقابت بھی نئی دہلی کی منصوبہ بندی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ مبصرین کے مطابق چین، بھارت اور پاکستان تینوں کی صلاحیتوں میں بیک وقت اضافہ جنوبی ایشیا کو ایک زیادہ پیچیدہ جوہری ماحول کی طرف دھکیل رہا ہے۔
سپری نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں پر انحصار دوبارہ بڑھ رہا ہے اور جوہری طاقتیں اپنے ذخائر کو جدید بنانے میں مصروف ہیں۔ ادارے کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان گزشتہ سال کا فوجی بحران اس بات کا ثبوت ہے کہ جوہری روک تھام کا نظریہ ہمیشہ استحکام کی ضمانت نہیں دیتا اور غلط اندازوں یا غلط حساب کتاب کے خطرات بدستور موجود ہیں۔
اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو بھارت اس وقت تقریباً 190 جوہری وارہیڈز کے ساتھ پاکستان پر 20 وارہیڈز کی برتری رکھتا ہے، جبکہ پاکستان 170 وارہیڈز کے ساتھ دنیا کی بڑی جوہری طاقتوں میں شامل ہے۔ تاہم عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف تعداد ہی فیصلہ کن عنصر نہیں ہوتی بلکہ میزائلوں کی رینج، جوہری آبدوزوں کی دستیابی، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور سیکنڈ اسٹرائیک صلاحیت زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر سب سے تیز رفتار جوہری توسیع چین میں دیکھی جا رہی ہے، جس کے باعث بھارت اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ پاکستان بھارت کی پیش رفت پر نظر رکھتے ہوئے اپنی روک تھام کی حکمت عملی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یوں جنوبی ایشیا میں جوہری توازن اب دوطرفہ کے بجائے ایک وسیع تر سہ فریقی تزویراتی مساوات کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
سپری کی تازہ رپورٹ کے بعد ایک بار پھر یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا جنوبی ایشیا ایک نئی جوہری اسلحہ دوڑ کی طرف بڑھ رہا ہے یا دونوں ممالک محدود لیکن مؤثر روک تھام کی پالیسی پر قائم رہیں گے۔ موجودہ رجحانات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو مزید جدید بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ پاکستان فوری طور پر تعداد بڑھانے کے بجائے تزویراتی توازن برقرار رکھنے اور قابلِ اعتماد جوابی صلاحیت پر انحصار کر رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں یہی پالیسیاں خطے کے امن، استحکام اور سکیورٹی کے مستقبل کا تعین کریں گی۔
