دودھ سے شیمپو تک،بجٹ کے بعد مہنگی ہونے والے عام استعمال کی 36اشیا کونسی؟

وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کے ٹیکس محصولات کا ہدف حاصل کرنے کی غرض سے ٹیکسیشن، نفاذ قانون اور انتظامی اصلاحات پر مشتمل ایک جامع حکمت عملی متعارف کرائی ہے، جس کے نتیجے میں عام استعمال کی کم از کم 36 اشیا مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نئے مالی سال میں مجموعی طور پر 650 ارب روپے کے اضافی محصولات حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جن میں سے 250 ارب روپے ٹیکس اقدامات جبکہ 400 ارب روپے نفاذ قانون اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔
نئے ٹیکس اقدامات کے تحت دودھ، ڈیری مصنوعات، مٹھائیاں، جام، جیلی، کیچپ، مصالحہ جات، خوردنی تیل، گھی، کراکری، ہیئر آئل، شیمپو، جوتے، پرفیوم، باڈی اسپرے، بیکری مصنوعات، پلاسٹک کی گھریلو اشیا، سینیٹری مصنوعات، باتھ روم فٹنگز، سینٹری ویئر، واش روم کے لوازمات، سوٹ کیس، سفری بیگ، کچن ویئر، کیمرے، زرعی ادویات اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہو جائیں گی۔
ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کے تھرڈ شیڈول کی فہرست میں توسیع کرتے ہوئے مزید 36 اشیا شامل کی ہیں، جس سے حکومت کو تقریباً 70 ارب روپے کی اضافی آمدن متوقع ہے۔ ان اشیا پر ریٹیل قیمتوں کی بنیاد پر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
حکومت نے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے آمدن حاصل کرنے والے افراد کیلئے بھی نیا ٹیکس نظام متعارف کرایا ہے۔ یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز سے آمدن حاصل کرنے والے ڈیجیٹل کریئیٹرز اور انفلوئنسرز کی آمدنی پر ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوگا، جس کی کٹوتی بینک اور مالیاتی ادارے کریں گے۔اسی طرح ای سگریٹ کے ای لیکوئیڈ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 16 ہزار 500 روپے فی کلوگرام کر دی گئی ہے، جبکہ نیفتھا، سالوینٹ آئل، تارپین آئل، بیس آئل اور لیوبریکینٹس پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کی گئی ہے۔پرتعیش الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر لگژری گاڑیوں پر بھی اضافی ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جس سے حکومت کو تقریباً 25 ارب روپے اضافی حاصل ہونے کی توقع ہے۔
دوسری جانب حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو نمایاں ریلیف فراہم کیا ہے۔ مختلف انکم ٹیکس سلیبز میں شرحوں کو کم کیا گیا ہے جبکہ 35 فیصد کی بلند ترین ٹیکس شرح کا اطلاق اب 70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن پر ہوگا۔ اس کے علاوہ تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے بھی اہم ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے۔ پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی شرحیں کم کر دی گئی ہیں جبکہ غیر منقولہ جائیداد سے مفروضہ آمدن پر عائد ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم نان فائلرز کیلئے موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رہیں گی۔
برآمدی شعبے کو سہولت دینے کیلئے برآمدی آمدن پر ٹیکس کی شرح 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دی گئی ہے جبکہ بیرون ملک ترسیلات زر پر ایڈوانس ٹیکس بھی 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق بجٹ میں مجموعی طور پر 39 ٹیکس اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جن میں 11 ریلیف اقدامات، 10 ریشنلائزیشن اقدامات، متعدد انتظامی اصلاحات اور کسٹمز قوانین میں ترامیم شامل ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، محصولات میں اضافہ کرنا اور معیشت کو دستاویزی شکل دینا ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق اگرچہ تنخواہ دار طبقے، برآمدکنندگان اور بعض صنعتی شعبوں کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے، تاہم روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا پر ٹیکسوں کے باعث عام صارفین کو مہنگائی کے مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
