امریکہ سے معاہدہ منظوری کے قریب، ابھی دستخط نہیں ہوئے: عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ مفاہمتی یادداشت حتمی منظوری کے قریب ہے،تاہم ابھی دستخط نہیں ہوئے۔ آبنائے ہرمز کھولنا اور امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ عبوری معاہدے کا حصہ ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان زیر غور عبوری معاہدہ مستقبل کے وسیع تر مذاکرات کی بنیاد ہے، تاہم اگر اس معاہدے پر مؤثر عمل درآمد نہ ہوا تو جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔
اپنے ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ موجودہ عبوری معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کا پہلا مرحلہ ہے اور اس کی کامیابی ہی آئندہ مذاکرات کی سمت کا تعین کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری معاملات فوری طور پر زیر بحث نہیں آئیں گے بلکہ انہیں بعد کے مراحل میں شامل کیا جائے گا۔ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ مجوزہ مفاہمتی یادداشت (MoU) پر ابھی باضابطہ دستخط نہیں ہوئے اور اس میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور مختلف نکات پر پیش رفت جاری ہے۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک الگ بیان میں کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت حتمی منظوری کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ مذاکرات سے متعلق غیر مصدقہ خبروں اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ حالیہ تنازع میں سیاسی اور سفارتی طور پر فاتح بن کر ابھرا ہے۔ ان کے مطابق جنگ اور دباؤ کے باوجود ایران کے مؤقف میں کوئی کمزوری نہیں آئی بلکہ ملک مزید مضبوط اور پراعتماد ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ تہران اپنی قومی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور تمام مذاکرات انہی اصولوں کے تحت آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔
عباس عراقچی کے مطابق عبوری معاہدے کے اہم نکات میں امریکا کی جانب سے عائد اقتصادی اور تجارتی پابندیوں میں نرمی، بحری نقل و حمل کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا کی ناکہ بندی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز میں معمول کی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی معاہدے کے بنیادی اجزا ہیں، تاہم ایران مستقبل میں بھی اس اہم بحری گزرگاہ کی سکیورٹی اور انتظامی معاملات میں اپنا کردار برقرار رکھے گا۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران بین الاقوامی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنائے گا، لیکن آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے کے نظام پر مکمل طور پر واپس نہیں جائے گی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ مجوزہ عبوری معاہدہ صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگ بندی اور استحکام کے اقدامات بھی اس عمل کا حصہ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ لبنان میں مکمل امن کے لیے اسرائیل کو متنازع اور قبضہ شدہ علاقوں سے انخلا کرنا ہوگا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اسرائیل ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی مفاہمت یا معاہدے کے حق میں نہیں ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے جوہری پروگرام کے حوالے سے کہا کہ ایران کے یورینیم ذخائر سے متعلق مسئلے کا حل مواد کی افزودگی کی سطح میں کمی کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صرف ملاقات یا معاہدے پر دستخط کرنے سے ایران کے منجمد مالی اثاثے بحال نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو معاشی فوائد اسی صورت حاصل ہوں گے جب وہ اپنی تمام ذمہ داریوں پر مکمل عمل درآمد کرے گا۔ جے ڈی وینس کے مطابق معاہدے سے متعلق سوشل میڈیا اور بعض ذرائع ابلاغ میں گمراہ کن اور غیر مصدقہ معلومات بھی پھیلائی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عباس عراقچی کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، تاہم ابھی کئی حساس معاملات پر حتمی اتفاق رائے درکار ہے۔ عالمی برادری اور خطے کے ممالک کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا عبوری معاہدہ عملی شکل اختیار کرتا ہے یا نہیں، کیونکہ اسی پر مستقبل کے جوہری مذاکرات اور علاقائی استحکام کا انحصار ہوگا۔
