ایران سے معاہدے پر دستخط کب ہونگے؟ امریکی صدر ٹرمپ نے بتا دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان زیرِ غور معاہدے پر رواں ہفتے کے اختتام یا پیر تک دستخط کیے جا سکتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی عمل ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
معروف امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دئیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ جلد ہی معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ بیان کو بھی حوصلہ افزا قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ عباس عراقچی کی سوشل میڈیا پوسٹ انتہائی مثبت تھی اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان اتفاق رائے پہلے کے مقابلے میں زیادہ قریب آ چکا ہے۔ امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے نجی سطح پر بعض غلط معلومات کے اجرا پر معذرت کی ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کی شام تک ایرانی قیادت کی اعلیٰ سطح پر معاہدے کی منظوری حاصل ہو چکی تھی، تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی حتمی منظوری کا مرحلہ ابھی باقی ہو سکتا ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذاکرات میں شامل فریقین معاہدے کی آخری قانونی اور سفارتی تفصیلات کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں اور اگر کوئی غیر متوقع رکاوٹ پیش نہ آئی تو چند روز میں دستخط کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والی مبینہ معاہدے کی تفصیلات پر برہمی کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے ان رپورٹس کو "جعلی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ میڈیا میں گردش کرنے والی شرائط اور فریقین کے درمیان تحریری طور پر طے پانے والی شقوں میں کوئی مطابقت نہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ قبل از وقت معلومات کے افشا ہونے سے مذاکراتی عمل متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے معاہدے کی اصل تفصیلات صرف باضابطہ اعلان کے وقت سامنے لائی جائیں گی۔
امریکی صدر نے حال ہی میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ایک بیان بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے فریقین پہلے کبھی اتنے قریب نہیں آئے جتنے اس وقت ہیں۔عباس عراقچی کے مطابق مذاکرات میں کئی اہم نکات پر پیش رفت ہوئی ہے، اگرچہ بعض معاملات پر ابھی مزید مشاورت درکار ہے۔
سیاسی اور سفارتی مبصرین کے مطابق اگر معاہدے پر آئندہ چند روز میں دستخط ہو جاتے ہیں تو یہ حالیہ برسوں میں امریکا اور ایران کے تعلقات میں سب سے اہم پیش رفت تصور کی جائے گی۔ اس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، بحری تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔تاہم حتمی دستخط اور باضابطہ اعلان تک دونوں ممالک کی جانب سے محتاط سفارتی رویہ برقرار ہے، جبکہ عالمی برادری اس ممکنہ معاہدے کی تفصیلات اور اس کے عملی اثرات کا انتظار کر رہی ہے۔
