ایران کے منجمد اثاثوں پر متضاد دعوے، حقیقت کیا ہے؟

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور سفارتی معاہدے کی خبروں کے درمیان ایرانی منجمد اثاثوں کی رہائی سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایک جانب بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا کہ متحدہ عرب امارات ایران کے لیے اربوں ڈالر کے منجمد فنڈز جاری کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے، جبکہ دوسری جانب اماراتی حکام نے ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں علاقائی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر جاری کرنے پر اصولی اتفاق کیا ہے، جن میں سے 3 ارب ڈالر سے زائد رقم پہلے ہی منتقل کی جا چکی ہے۔ بعض دیگر ذرائع نے یہ بھی کہا کہ مجموعی رقم 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مالیاتی انتظام ایک وسیع تر سفارتی سمجھوتے کا حصہ تھا، جس کے تحت ایران نے متحدہ عرب امارات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے روکنے اور دوطرفہ تعلقات کی بحالی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی تھی، خصوصاً ان واقعات کے بعد جن میں ایران نے مبینہ طور پر امارات میں موجود امریکی مفادات اور تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ اس صورتحال نے خلیجی خطے میں سلامتی کے خدشات کو بڑھا دیا تھا۔
تاہم بعد ازاں متحدہ عرب امارات نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے منجمد فنڈز نہ تو جاری کیے گئے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی مالی منتقلی عمل میں آئی ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق سوشل میڈیا اور بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی رپورٹس درست نہیں ہیں اور ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق کسی بھی مالی لین دین کی خبریں بے بنیاد ہیں۔اماراتی بیان میں واضح کیا گیا کہ نہ تو ایران کو کوئی رقم منتقل کی گئی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کسی باضابطہ معاہدے کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں منجمد ایرانی اثاثوں، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے جیسے اہم معاملات زیر غور ہیں۔ ذرائع کے مطابق بیرون ملک بینکوں میں موجود ایرانی تیل کی آمدنی اور دیگر مالی اثاثوں تک رسائی کے طریقہ کار پر بھی بات چیت جاری ہے۔مغربی اور ایرانی ذرائع کے مطابق سیاسی سطح پر بعض معاملات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم منجمد رقوم کی رہائی، ادائیگی کے نظام، بینکاری طریقہ کار اور پابندیوں میں نرمی جیسے معاملات پر ابھی تفصیلی مذاکرات جاری ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ان خبروں کی تردید کر چکے ہیں کہ ایران کو کسی معاہدے سے قبل یا بغیر شرائط کے مالی فوائد دیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدہ مکمل طور پر کارکردگی پر مبنی ہوگا اور ایران کو کسی بھی قسم کی معاشی رعایت یا منجمد اثاثوں تک رسائی اسی صورت حاصل ہوگی جب وہ معاہدے میں طے شدہ شرائط پر مکمل عمل درآمد کرے گا۔
ان متضاد اطلاعات کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں نے خلیجی مالیاتی منڈیوں پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ دبئی اور ابوظہبی کی اسٹاک مارکیٹوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی جبکہ سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ممکنہ اقتصادی استحکام کی امید پر سرمایہ کاری میں اضافہ کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق منجمد ایرانی اثاثوں کے حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اور حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ ایک طرف متعدد ذرائع اربوں ڈالر کے ممکنہ مالیاتی انتظامات کا ذکر کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب متحدہ عرب امارات اور امریکی حکام ان دعوؤں کی تردید کر رہے ہیں۔اس صورتحال میں ایران کے منجمد اثاثوں، پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور مالیاتی رعایتوں کی اصل نوعیت کا تعین آئندہ دنوں میں ہونے والے ممکنہ امریکا۔ایران معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی ہو سکے گا۔ فی الحال خطے اور عالمی مالیاتی منڈیوں کی نظریں ان مذاکرات کے نتائج پر مرکوز ہیں۔
