ایران امریکہ امن معاہدہ چند روز میں جنیوا میں طے پانے کا امکان

اسلام آباد میں باخبر سفارتی حلقوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بالآخر کئی مہینوں کی کوششوں کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ آئندہ 48 سے 76 گھنٹوں کے دوران سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں طے پا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاہدے کو ’’اسلام آباد امن اکارڈ‘‘ کا نام دینے کی تجویز ہے کیونکہ پس پردہ سفارت کاری اور رابطوں میں پاکستان نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی جمعرات کے روز ایک اہم بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدہ اب پہلے سے کہیں زیادہ قریب آ چکا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ کئی ماہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے، پیغامات کے تبادلے اور اعتماد سازی کے لیے خاموش سفارت کاری کے تحت اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کو سبوتاژ کرنے اور مذاکراتی پیش رفت کو نقصان پہنچانے کی متعدد کوششیں بھی کی گئیں، تاہم تمام رکاوٹوں کے باوجود فریقین معاہدے کے متن پر اتفاق رائے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ شہباز شریف کے بقول اب ہم اعتماد کے ساتھ یہ تصدیق کر سکتے ہیں کہ مجوزہ امن معاہدے کے بنیادی خدوخال اور متن پر اتفاق ہو چکا ہے اور اگر آخری مرحلے میں کوئی غیر معمولی رکاوٹ پیدا نہ ہوئی تو آئندہ چند روز کے دوران اس تاریخی پیش رفت کو عملی شکل دی جا سکتی ہے۔
وزیراعظم نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور اقتصادی بحالی کی راہ بھی ہموار کرے گا۔ سفارتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کئی ہفتوں سے جاری خفیہ اور اعلانیہ رابطوں کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان بیشتر بنیادی نکات پر اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے اور اب مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر کسی غیر متوقع پیش رفت یا علاقائی کشیدگی نے مذاکراتی عمل کو متاثر نہ کیا تو اتوار یا پیر تک کسی نہ کسی شکل میں مفاہمتی دستاویز پر دستخط کیے جا سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں دونوں فریقین کے درمیان اعتماد سازی، پیغامات کی ترسیل اور ثالثی کے متعدد غیر اعلانیہ اقدامات کیے ہیں۔ اسی تناظر میں اسلام آباد کو اس ممکنہ سفارتی کامیابی کا ایک اہم شراکت دار قرار دیا جا رہا ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق یہی وجہ ہے کہ مجوزہ معاہدے کو علامتی طور پر ’’اسلام آباد امن اکارڈ‘‘ کا نام دینے کی تجویز زیر بحث ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ دنوں میں متعدد بار یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدہ طے پانے کے قریب ہے اور معاہدے پر دستخط یورپ میں رواں ہفتے کے اختتام تک ہو سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کی بحالی اور جنگ بندی کے تسلسل کو بھی ممکنہ معاہدے کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام بشمول وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی مذاکرات میں پیش رفت کی تصدیق کی ہے، تاہم تہران نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ابھی کسی حتمی معاہدے یا مفاہمتی یادداشت کی منظوری نہیں دی گئی۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق کئی نکات پر ابھی بھی بات چیت جاری ہے اور حتمی فیصلے سے قبل بعض حساس معاملات کو طے کرنا باقی ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ عباس عراقچی ہفتے کے روز پاکستانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ جنیوا میں متوقع مذاکرات کے حوالے سے مغربی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے، جنگ بندی کے نظام کو مضبوط بنانے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق آئندہ مذاکرات کے لیے ایک مخصوص مدت مقرر کرنے جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران کو بعض اقتصادی مراعات اور منجمد اثاثوں تک محدود رسائی دینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، تاہم ان اقدامات کو ایران کی جانب سے طے شدہ شرائط پوری کرنے سے مشروط کیا جا سکتا ہے۔
مغربی ذرائع کے مطابق واشنگٹن اب بھی ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل سرگرمیوں کے حوالے سے سخت ضمانتیں چاہتا ہے۔
اسلام آباد میں سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورۂ پاکستان بھی اسی وسیع تر سفارتی سرگرمی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق تہران اور اسلام آباد کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے تیزی سے جاری ہیں اور آئندہ چند دنوں میں کئی اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگر جنیوا میں معاہدے پر دستخط کی تاریخ حتمی ہو جاتی ہے تو پاکستان سے بھی ایک اعلیٰ سطحی وفد سوئٹزرلینڈ روانہ ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر اہم شخصیات ممکنہ طور پر اس موقع پر موجود ہوں، تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔
سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی بڑا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔ خاص طور پر تیل کی عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل معمول پر آنے کے امکانات روشن ہوں گے۔ حالیہ دنوں میں معاہدے کی خبروں کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور توانائی کے ماہرین بھی جنیوا مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاہدے کی کامیابی سے عالمی سپلائی چین کو استحکام مل سکتا ہے جبکہ خلیجی خطے میں فوجی تصادم کے خدشات میں بھی کمی آئے گی۔ متعدد ماہرین کے مطابق اگر ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو عالمی منڈیوں میں توانائی کی فراہمی بہتر ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں جس سے کئی ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا۔
اس تمام پیش رفت کے باوجود سفارتی ماہرین احتیاط برتنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی ایران اور امریکہ کے درمیان متعدد مرتبہ معاہدوں کے قریب پہنچنے کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں لیکن آخری مرحلے میں اختلافات دوبارہ ابھر آئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار بھی حتمی دستخط ہونے تک کسی نتیجے کو یقینی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ادھر اسرائیلی حلقوں کی جانب سے بھی ان مذاکرات کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔ بعض بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق تل ابیب مجوزہ معاہدے کی بعض شقوں پر تحفظات رکھتا ہے جبکہ مذاکراتی عمل کے دوران خطے میں کسی بھی نئی فوجی کشیدگی کو سب سے بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہی وہ عنصر ہے جو مذاکرات کے آخری مرحلے میں سب سے زیادہ حساس سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنیوا میں متوقع ملاقاتیں کامیاب رہتی ہیں تو آئندہ چند روز نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیاسی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔ سفارتی حلقوں کے مطابق دنیا کی نظریں اس وقت جنیوا، واشنگٹن، تہران اور اسلام آباد پر مرکوز ہیں جہاں آنے والے 48 گھنٹے خطے کی تاریخ کا رخ موڑ سکتے ہیں۔
