مجھ سے بھول ہوگئی؟

تحریر: سہیل وڑائچ
بشکریہ : روزنامہ جنگ
بھول چوک تو مذہب میں بھی معاف کردی جاتی ہے مگر حکومت کے بند کواڑ مذہب کےاونچے دروازوں سے بھی بلند تر اور مقفل ہوتے ہیں ،وہاں بھول چوک بھی ناقابل معافی ہوتی ہے مگر پھر بھی یہ بندہ عاصی عرف جھوٹا صحافی معذرت کاخواست گار ہے۔ گزشتہ کالم ’’خبردار ، ہوشیار، تیار‘‘ میں اس نگوڑے صحافی نے انتباہ کیا تھا کہ اگر معاشی پالیسیاں نہ بدلی گئیں تو مالی سال کے پہلے مہینے سے ہی زوال شروع ہوجائیگا۔ فہدحسین کے بقول یہ ’’ انتبا ہی نشانہ ‘‘ تھا۔مگر یہ نہ مجھے راس آیا اور نہ ہی حکومتی بزر جمہروں کو۔ سواب میں وضاحت کررہا ہوں کہ موجودہ حکومت نے نہ کبھی زوال پذیر ہونا ہے اور نہ اگلی صدی تک اسکے رخصت ہونے کا کوئی امکان ہے۔ میری آنکھوں پر پردہ پڑ گیا تھا کہ میں نے لکھ دیا کہ بے روزگاری اور مہنگائی بڑھ گئی ہے اور صنعتیں بند پڑی ہیں۔ اب حکومتی اشتہارات سے میری آنکھیں کھلی ہیں تو مجھے پتہ چلا ہے کہ ملک کی اقتصادیات تو Boomکررہی ہے ،ملک اُڑان میں ہے،بے روزگاری کانام ونشان تک مٹ چکا ہے، مہنگائی کارحجان پاکستان میں نہیں افغانستان میں ہے۔ یہ سب غلط فہمی تھی، صنعتیں بھی بھارت میں بندہورہی ہیں جہاں بجلی سستی ہے پاکستان میں تو صنعتوں کا دھواں پہلے سے بڑھ گیا ہے۔

میرے قابل احترام معاصرین ابن ایوب، ابن ضیا اور برادران مشرف نے مجھے بے پرکی اڑانے کا طعنہ دیا ہے میں اس طعنے کومِن و عَن قبول کرتے ہوئے اعلان کرتا ہوں کہ یہ حکومت تا قیامت جاری رہنی ہے۔75سال میں آج تک جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں ان میں یہ سب سے بہتر ہے۔ آج تک نہ ایسا کوئی وزیر اعظم آیا ہے اور نہ آج تک ان جیسے قابل وزیر بن سکے ہیں، یہ میری بھول تھی کہ میں ان جواہرِقابل کی پوشیدہ دانش اور انکے پس پردہ کارناموں کو نہ دیکھ سکا۔یہ میری بھول تھی کہ میں پاکستان کی اُڑان کو نہ دیکھ سکا ،دراصل میری کمزور نظر زمین پر مرکوز تھی مجھے خیال ہی نہیں آیا کہ ہم تو معاشی طور پر فضا میں چلے گئے ہیں۔

مجھے غلطی لگی تھی کہ ہماری معیشت مسائل کا شکار ہے فرنٹ صفحے پر اشتہار پڑھ کر یقین ہوگیا کہ صحافی اور ماہرین ِ معیشت کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہے، یہ حسد اور مخالفت میں حکومت کی معاشی کامیابیوں کو دیکھ ہی نہیں پا رہے۔ معاشی کارکردگی،حقائق کی زبانی دیکھ کر انکشاف ہواکہ زراعت کی شرح نمو 2.89ہے ۔حالانکہ گندم، چاول اورکپاس کی فصلوں میں تو سراسر کاشت کاروں کا نقصان ہوا ہے تو زراعت کی شرح نمو کیا مٹی کے نم ہونے سے طے ہوئی ہے۔اس اعتراض کے باوجود پھر اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے ملنے والے کاشت کار جھوٹے نکلے۔ ساری کاشت کار تنظمیں شاکی ہیں کہ حکومت کا زراعت سے سلوک سوتیلا ہے مگر اخبارات کے ذریعے پتہ چلا کہ زراعت تو حکومت کی لاڈلی ہے یہ الگ بات کہ زراعت بیٹی کواس پیار کی ابھی تک خبر تک نہیں ملی۔

حکومت کی طرف سے جاری اکنامک سروے آف پاکستان میں اعتراف کیا گیا ہے کہ2018-19ءمیں غربت کی شرح21.9فیصد تھی جو اب بڑھ کر28.9فیصد ہوگئی ہے گویاسرکاری اعدادوشمار میں بھی غربت میں اضافہ7فیصد مانا گیا ہے حالانکہ حقیقت اعدادوشمار سے بڑھ کر ہے۔ اگرچہ اکنامک سروے آف پاکستان میں یہ اعتراف موجود ہے مگر مجھے یقین ہے کہ میری طرح ، سرکاری سروےسے بھی بھول ہوگئی ہے، اس ملک میں تودولت کی ریل پیل ہے غربت کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ملتا۔عاصی کالم نگار سے یہ بھی غلطی ہوئی کہ اس نے لکھا کہ ملک معاشی جمود کا شکار ہے اور جس ملک کامعاشی سفر تحرک کی بجائے ساکت ہوجائے وہ زوال کی نشانی ہوتی ہے مگر یہ بھی بھول تھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنے ترقیاتی بجٹ منجمد کردئیے ہیں ترقیاتی بجٹ ملک کے اندر رسل ورسائل اور ترقی کیلئے استعمال ہوتا ہے مگر چونکہ ملک میں پہلے ہی اسقدر ترقی ہے کہ مزید ترقیاتی بجٹ کی فی الحال ضرورت نہیں، ترقیاتی بجٹ کے انجماد پر یہ گنہگار صحافی حکومت کو مبارکباد دیتا ہے کہ آپ جوبھی کرتے ہیں وہی درست ہوتا ہے آپکے زوال پر متنبہ کرنا غلط تھا آپ کا تو عروج ہی عروج ہے اور یہ عروج تا ابد جاری رہنا ہے جو بھی نگوڑے صحافی کی طرح بدشگونی کرے گا حکومتی ٹیم اسکا شافی جواب دے گی۔ صحافی،شافی یعنی دَھول دَھپے، طعن وتشنیع اور مذاق وتضحیک کے بغیر رکتے کب ہیں ان کا ایسا ہی علاج جاری رہنا چاہیے۔

مجھ سے یہ بھی غلطی سرزد ہوگئی کہ اس حکومت کی عمر پانچ سال سمجھ بیٹھاپی ڈی ایم اور موجودہ دور کو ملانے کی بہت بڑی غلطی ہوگئی مجھےیہ مغالطہ لگا کہ پانچ سال بعد حکومت جانے کی تیاری کررہی ہوتی ہے مگر یہ میری بھول تھی یہ حکومت تودس سال بلکہ لامتنا ہی دور تک رہنی ہے ، اصولاً تو اسے اگلے بجٹ کے بعد نئے الیکشن کی تیاری کرنی چاہئے مگر نہ اس حکومت نے جانا ہے نہ الیکشن کی کوئی سوچ ہے اسلئے توانکے نونیوں کو مرچیں لگی ہیں۔ کیا ڈھائی سالہ حکومت اور پچھلے ڈھائی سالہ دور کو ملا کر گھر جانے کا انتباہ کرنا کوئی گستاخی تھی جس پر سب بھڑک اٹھے۔ میرے احباب کاخیال ہے کہ یہ عاصی کالم نگار کی گستاخی تھی کیونکہ موجودہ ہائبرڈ حکومت پانچ سال کیلئے نہیں آئی اور اسکے جانے کا کوئی اراد ہ بھی نہیں، اس لئے زوال کا انتباہ کرنا گستاخی ہے۔

اس عاصی کالم نگار کے ایک نونی کرم فرمانے فہمائش کرتے ہوئے سمجھایا کہ موجودہ حکومت اس نظام کیلئے ’’ناگزیر ‘‘ ہے اگر حکومت گری تو پورا نظام دھڑام سے گر پڑےگا۔نونی مہربان نے کہا کہ یہ نظام شاخ نازک پہ آشیانے کی طرح ہے موجودہ حکومت اس نظام کے بچاؤ کی آخری ڈھال ہے کوئی بھی نیا تجربہ یا تبدیلی خطرناک ہوگی۔ اس نے تیقن سے کہا کہ جب تک یہ نظام ہے اس وقت تک یہی حکومت اور یہی وزیر اعظم رہے گا اور یہ بھی کہا کہ اسی کی معاشی پالیسیاں چلیں گی۔ اس وعظ کے بعد مجھے اپنی غلطی اور بھول کا اور زیادہ ادراک ہوا کیونکہ اس حکومت نے تو غلطیوں، خامیوں اور تباہیوں کے باوجود جانا ہی نہیں ہے کیونکہ یہ تو’’ ناگزیر‘‘ ہے۔ میرے اس کرم فرمانے میرے کالم کے ’’ انتباہی نشانے‘‘ کے جواب میں جواباً انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کے پاس موجودہ حکومت کا سرے سے کوئی’’ متبادل‘‘ ہی نہیں ہے اور جب متبادل نہیں ہے تو صاف ظاہر ہے کہ موجودہ حکومت ناگزیر ہی رہےگی۔ عاصی صحافی پرپہلے ہی بھول کا اتنا بوجھ تھا کہ مجبوراً جواب دینا مشکل تھا مگر پھر بھی اتنا کہہ دیا۔’’ بوتل کا پانی ابل جائے اور ڈھکنا نہ کھلے تو بوتل پھٹ جایا کرتی ہے‘‘۔ یہ تو خیر جملہ معترضہ تھا مگر آج کے دور میں کون ہے جو حکومت سے اختلاف کی جرات کرسکتا ہےیا پھر زوال سے ڈرا سکتاہے یہ سراسر میری غلطی تھی بھول چُوک معاف۔

پچھلے کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ یہ گناہ گار حکومتوں کے رخصت ہونے کا خواہش مند کبھی نہیں رہا اسلئے انتباہ کررہا ہوں کہ بند کمروں سے باہر نکل کرعوام میں آئیں نہ آپکی معیشت ٹھیک ہے اور نہ سیاست۔ آپ کسی غلط فہمی میں ہیں مخالف ہوائیں چلنے لگی ہیں باقی جہاں تک اس نگوڑے صحافی کا تعلق ہے اس سے بس ذرا سی یہ بھول ہوگئی ہے وگرنہ توآپکا اقبال بلند ہے اور تا ابد بلند رہے گا…!!

 

Back to top button