موجودہ سیاسی حکومتی نظام کا مستقبل؟

تحریر: حفیظ اللہ نیازی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
مملکت خداداد اسلامیہ میں ہر خاص و عام نفسیاتی ہیجان میں مبتلا ، ایک نکتہ پر متفق کہ مملکت مالی معاشی مشکلات سے اَدھ موا ہوا چاہتی ہے ۔ مملکت ، قوموں کی اجتماعی زندگی میں خوشحالی ، شادمانی ، کامیابی و کامرانی مستحکم سیاسی نظام سے نتھی ہے ۔ ہزاروں سال کی انسانی تاریخ چشم دید گواہ ! مستحکم سیاسی نظام قوموں سلطنتوں مملکتوں کو ہرمد میں عروج دیتا ہے ۔ جبکہ سیاسی عدم استحکام میں گھری قومیں ذلت ، خواری و رسوائی کی آماجگاہ بنتی ہیں ۔ خطہ ارضی کے 195 ممالک کی معیشت (GDP) کا سائز تقریباً 116 ٹریلین ڈالر ، اس میں چوٹی (ٹاپ) کے 20 ممالک یعنی G-20 کی معیشت کا سائز(GDP) تقریباً 102ٹریلین ڈالرزہے جو کُل دنیا کی معیشت کا 85فیصد بنتا ہے ۔ حیف ! 175 ممالک فقط 13 ٹریلین ڈالر (15 فیصد) کے مالک ہیں ۔

میرا موضوع نہ تو اقتصادیات کے گورکھ دھندوں میں الجھنا ہے اور نہ معیشت کی موشگافیوں کو سلجھانا ہے ۔ 20ممالک میں آخر کیا قدر مشترک کہ دنیا کی 85فیصد دولت سمیٹے ہیں ؟ جواب سادہ ، ان تمام ممالک میں مستحکم سیاسی نظام قائم ہے ۔ اگرچہ 20ممالک میں درج نظام سیاست ایک دوسرے سے مختلف ، امریکہ میں صدارتی جمہوریت تو چین میں سوشلسٹ نظام ، بھارت میں اپنی ٹائپ کی برطانوی جمہوریت تو سعودی عرب میں مطلق العنان بادشاہت ، تمام ممالک سیاسی استحکام سے مستفید ، اپنی اپنی معیشت کو چار چاند لگا چکے ہیں ۔ ان تمام ممالک میں ایسا سوال کبھی اُٹھتا ہی نہیں ہے کہ ’’حکومت اپنی مدت پوری کرے گی یا نہیں؟‘‘ ان تمام ممالک میں تاحدِ نگاہ مستحکم نظام طے شدہ ہے ۔

جب کبھی کوئی حکمران اپنی مدت پوری کرے گا تو ساتھ یہ بھی طے کہ اگلا حکمران کس طریقہ کار کے تحت مسند اقتدار سنبھالے گا ۔ نہ سر آئینہ نہ ہی پس آئینہ کسی قسم کا کنفیوژن کہ اگلا نظام کیسا ہوگا ؟ ایک ملک اور بھی جو G-20 کا حصہ تو نہیں مگر اسکی وجہ وجود اور طاقت کو سمجھنا ضروری ہے ۔ ایران کی کامیابی کوئی صیغہ راز نہیں ، 47 سال سے پابندیوں میں جکڑا ، پوری دنیا نے مقاطعہ کر رکھا ہے ۔ ایران کے سارے کوائف اس بات کے متقاضی تھے کہ مملکت اپنا وجود کھو بیٹھتی ۔ بوجوہ 47 سالہ معاشی مقاطعہ اگر آج تاریخِ انسانی کی سب سے طاقتور مملکت سے برابری پر نبردآزما اور جنگ بندی کیلئے اپنی شرائط منوانے پر قادر ہے تو اسکی وجہ 47 سال سے ایران کا مستحکم سیا سی نظام ہے ۔ چوٹی کے 20 ممالک میں ایک قدر مشترک ، جب کبھی کوئی عنان اقتدار سنبھالتا ہے تو ایسی چہ میگوئیاں شروع نہیں ہو جاتیں ، جو وطن عزیز کا خاصا ہیں ، کیا یوسف رضا گیلانی پورا وقت وزیراعظم رہے گا ؟ ، کیا نواز شریف اپنا ٹائم پورا کرے گا ؟ ، عمران خان اپنی مدت پوری کر پائیگا یا نہیں ؟ ، شہباز شریف بھلے اگلے 10 سال حکمران رہیں ، سوال کی تلوار لٹکتی رہے گی کہ موجودہ حکومت اور کتنی دیر چل پائیگی؟

تصویر کا ایک اور رُخ ملاحظہ فرمائیں ، ڈیفالٹ کے دہانے پر ، اقتصادی بدحالی ، انتشار ، افراط و تفریط ، بیرونی قرضہ جات میں لت پت ممالک میں بھی ایک قدر مشترک ، سب میں سیاسی عدم استحکام بدرجہ اتم موجود ہے ۔ دو ممالک وینزویلا اور نائیجریا کی مثال ، چاروں طبق روشن رکھنے کیلئے کافی ہے ۔ وینزویلا اس وقت 100 ٹریلین ڈالرز سے زیادہ (G-20 ممالک کی دولت کے برابر) تیل ، گیس اور معدنی وسائل کا مالک ہے ، چند دن پہلے CNN نے وینزویلا پر ایک دستاویزی فلم دکھائی ، لگتا تھا کسی قحط زدہ افریقی ملک کو دکھایا جا رہا ہے ۔ نائیجریا پچھلے 50 سال سے پانچویں نمبر پر تیل پیدا کرنیوالا ملک ہے ۔ دنیا بھر اور پاکستان کی جیلیں مفلوک الحال نائیجرین سے بھری پڑی ہیں ۔ دونوں ممالک تباہ حالی میں اسلئے جکڑے ہیں کہ سیاسی بدحالی نے بے حال کر رکھا ہے ۔

بات خوش آئند کہ 70سال سے ہماری ریاست نے مملکت کو اقتصادی خوشحالی دینے اور معاشی بحرانوں سے نکالنے کی حتی المقدور بھرپور کوشش کی ہے ۔ میرے لیے حوصلہ افزا ،ریاست کی پہلی ترجیح پاکستان کو ساتویں آسماں پر دیکھنا ہے ۔ میری سوچ کا زاویہ مختلف ، اقتصادی ترقی ، معاشی خوشحالی ، سیاسی استحکام کی کوکھ سے جنم لیتی ہے ۔ میرا سوال ! کیا وطن عزیز بالآخر سیاسی عدم استحکام سے کسی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے ؟ ، جواب یقینی طور پرآج بھی نفی میں ہے ۔ بدقسمتی سے ، مملکت پہلے سے کہیں زیادہ گھمبیر سیاسی عدم استحکام کی لپیٹ میں ہے ۔ چند سال پہلے کی بات ہے کہ جنرل باجوہ کی کاوشوں سے پاکستان کی معیشت کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے دوست ممالک سے 7 ارب ڈالر سے زیادہ رقوم اسٹیٹ بینک آف پاکستان منتقل ہوئیں ۔ ریاست کی فرسٹریشن دیدنی تھی کہ عمران خان حکومت کا معاشی بحران ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں تھا ۔ اگر آج ریاست حکومت سے شاکی اور دُکھی ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ معاشی بدحالی وبحران کا ذمہ دار موجودہ حکومت کو رہنا ہے ۔ دورائے نہیں کہ آج اگر اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں 8ارب کے دوست ممالک کی طرف سے جمع شدہ جو ڈیپازٹس موجود ہیں ، کئی مدوں میں بیرونی سرمایہ کاری ہے ، تو ریاست کی مرہون منت ہے اور اسکا کریڈٹ ریاست کو ہی جائے گا ۔

مگر مملکت کے اقتصادی بحران کا نہ ختم ہونے والے سلسلہ کا بلیم یا بلیم گیم موجودہ حکومت ہی کے کھاتے میں آئیگا ۔ خواجہ آصف یا حکومتی ذمہ داران کا رونا سچ کہ سیاسی سرمایہ لُٹ پٹ گیا ،اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی۔ 2021ءمیں عمران خان حکومت سے جان چھڑوانے کی جب ٹھان لی گئی تھی تو وجہ معاشی بحران سے نبرد آزماء ہونا تھا ، 2022ءمیں خاتمہ بالخیر ہوا تو ملک کی معیشت بند گلی میں پھنسی تھی ، چنانچہ موردِ الزام عمران خان حکومت ہی ٹھہری اور خمیازہ بھی بھگتا ۔

آج کی تاریخ میں اگرچہ ریاست اور موجودہ حکومت کے تعلقات کی روحانی نوعیت مثالی ہے مگر کیا کیا جائے ، کارِ جہاں اور دنیاوی مسائل نے مملکت کا اقتصادی مستقبل غیریقینی بنا رکھا ہے ۔ چنانچہ آئے دن حکومت کی نالائقیوں کو منظم انداز میں بذریعہ سوشل میڈیا نمایاں کیا جا رہا ہے ۔ وفاقی وزراء کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے کہ نالائق ہیں ۔ پنجاب کے وزراء پر کرپشن کے بے ہنگم الزامات کی بھرمار بھی مارکیٹ میں چار سُو پھیلی ہے ۔ پیپلز پارٹی سے مقتدرہ کی رنجشوں کی طویل فہرست علیحدہ سے موجود ہے ۔ جب ایسے سارے کوائف مرتب ہو جائیں تو ماننے میں حرج نہیں کہ موجودہ حکومت پر نزع کا عالم طاری ہے۔ میرا واہمہ کہ موجودہ حکومت کا 10اپریل 2022 ءسر پر آن پہنچا ہے ۔

 

Back to top button