صدر ٹرمپ نے ایرانی میڈیا کی معاہدے سے متعلق تفصیلات کو جعلی قرار دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی سرکاری میڈیا میں نشر ہونے والی امن معاہدے کی تفصیلات کو "جعلی خبریں” قرار دیتے ہوئے ایران کو فوری طور پر اپنا رویہ تبدیل کرنے کا انتباہ دیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے نشر کی جانے والی معاہدے کی شرائط کا اس تحریری معاہدے سے کوئی تعلق نہیں جس پر دونوں فریقوں کے درمیان اتفاق ہوا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے میڈیا میں لیک کی گئی شرائط طے شدہ تحریری معاہدے کی عکاسی نہیں کرتیں اور ان کا اصل دستاویز سے کوئی تعلق نہیں۔ ٹرمپ نے ایران کو ایک غیر معتبر فریق بھی قرار دیا۔
ٹرمپ نے ایرانی حکام کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ تقریباً طے پاچکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہاکہ ایران نے بشمول معاہدے کے حوالے سے جو دعویٰ کیا ہےوہ محض ایک کمزور اور افسوسناک بیان کے سوا کچھ نہیں ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ایران کے ساتھ مذاکرات کرنا انتہائی مشکل ہے کیوں کہ ایران نیک نیتی سے مذاکرات پر یقین نہیں رکھتا۔
امریکی صدر نے ایران کو سخت لہجے میں خبردار کرتےہوئے کہا کہ بہتر ہوگا کہ وہ فوری طور پر اپنے معاملات درست کرے۔
اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا وہ بیان اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا، جس میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہےکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر اس سے پہلے کبھی اتنا قریبی اتفاق نہیں ہوا تھا۔
ایران-امریکا امن معاہدے کے متن پر حتمی اتفاق ہوگیا، وزیر اعظم کی تصدیق
یاد رہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجوزہ معاہدے میں ایران کا آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے،ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرنے اور یورینیم افزودگی جاری رکھنے کےمندرجات شامل ہیں۔
تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے ان تمام رپورٹس کو مسترد کرتےہوئے واضح کیا ہے کہ ایرانی میڈیا میں نشر ہونے والی تفصیلات اصل معاہدے کی عکاسی نہیں کرتیں۔
