جی سیون اجلاس کے موقع پر امریکا ایران معاہدے کا امکان

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر دستخط جی سیون اجلاس کی سائیڈ لائنز پر متوقع ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق 14 جون کو معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔ جنیوا میں دستخطی تقریب کے لیے تیاریاں جاری ہیں، پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد بھی شریک ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں ایرانی وزارت خارجہ کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ معاہدے پر دستخط جی سیون سربراہی اجلاس کی سائیڈ لائنز پر متوقع ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق اگر موجودہ مثبت پیش رفت برقرار رہی اور امن عمل کو نقصان پہنچانے کی کوئی غیر متوقع کوشش نہ ہوئی تو معاہدہ جی سیون اجلاس کے آغاز سے ایک روز قبل، یعنی 14 جون کو بھی طے پا سکتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے پر دستخط کے لیے جنیوا کو ممکنہ مقام کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کی موجودگی متوقع ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کی جانب سے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی معاہدے سے متعلق سرگرمیوں میں شرکت کر سکتے ہیں۔دوسری جانب امریکا کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس ، مشرق وسطیٰ امور کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف  اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد و سابق مشیر جیرڈ کشنر کے کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی بطور اہم ثالث اور سہولت کار اس سفارتی عمل میں شریک ہو سکتا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران پاکستان اور قطر کو امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرنے والا قرار دیا جا رہا ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد نے کشیدگی کم کرنے اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں قابلِ ذکر کردار ادا کیا ہے، جسے دونوں جانب سے مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 15 سے 17 جون تک فرانس کے شہر ایویان میں منعقد ہونے والے جی سیون اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی اہم موضوعات میں شامل ہوگی۔اطلاعات کے مطابق برطانیہ اور فرانسآبنائے ہرمز میں مبینہ بارودی سرنگوں کی صفائی اور بحری سلامتی کے لیے یورپی قیادت میں ایک مشترکہ منصوبہ پیش کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس کے لیے امریکی حمایت درکار ہوگی۔تاہم ایران پہلے ہی ان الزامات کی تردید کر چکا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز  میں بارودی سرنگیں نصب کی ہیں اور تہران کا مؤقف ہے کہ وہ عالمی بحری تجارت کے محفوظ تسلسل کا حامی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال جی سیون اجلاس فرانس کی سربراہی میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیین سمیت متعدد عالمی رہنما شریک ہوں گے۔اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، یوکرین جنگ، یورپی سلامتی، عالمی اقتصادی نمو، بین الاقوامی شراکت داری، توانائی کے مسائل اور مصنوعی ذہانت کے مستقبل سمیت اہم عالمی موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط ہو جاتے ہیں تو یہ حالیہ برسوں کی سب سے اہم سفارتی پیش رفتوں میں شمار ہوگا۔ اس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوگی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، بحری تجارت اور بین الاقوامی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔فی الحال دونوں ممالک کی جانب سے معاہدے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور آنے والے چند دن انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

Back to top button