55 سال بعد ہنگور کی واپسی: پاکستان نیوی کیلئے اتنی اہم کیوں؟

کراچی کی بندرگاہ پر پاکستان نیوی کی پہلی ہنگور کلاس آبدوز کی آمد محض ایک نئے جنگی پلیٹ فارم کی شمولیت نہیں بلکہ پاکستان کی بحری تاریخ کے ایک درخشاں باب کی واپسی بھی ہے۔ تقریباً 55 برس قبل 1971 کی جنگ میں پاکستانی آبدوز "ہنگور” نے بھارتی جنگی جہاز "آئی این ایس کھکری” کو نشانہ بنا کر بحری جنگ کی تاریخ میں اپنا نام امر کر دیا تھا۔ آج اسی نام کی نئی نسل کی آبدوزیں پاکستان کی زیرِ آب جنگی صلاحیتوں کو ایک نئی سطح پر لے جانے کی تیاری کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان اور چین کے دفاعی تعاون کے تحت تیار کی گئی ہنگور کلاس آبدوزیں جدید جنگی نظاموں، جدید سینسرز، ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) ٹیکنالوجی اور جدید سٹیلتھ خصوصیات سے لیس ہیں۔ یہ منصوبہ پاکستان نیوی کے سب سے بڑے دفاعی پروگراموں میں شمار ہوتا ہے جس کے تحت مجموعی طور پر آٹھ جدید آبدوزیں پاکستانی بحری بیڑے میں شامل کی جائیں گی۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں آنے والی نئی ہنگور کلاس آبدوزوں کی خاص بات کیا ہے؟

 دفاعی ماہرین کے مطابق ہنگور کلاس آبدوزوں کی سب سے اہم خصوصیت ان کا ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) سسٹم ہے۔ روایتی ڈیزل الیکٹرک آبدوزوں کو بیٹریاں چارج کرنے کے لیے وقفے وقفے سے سطحِ آب کے قریب آنا پڑتا ہے، جس سے دشمن کے ریڈار اور نگرانی کے نظام انہیں شناخت کر سکتے ہیں۔اس کے برعکس AIP ٹیکنالوجی آبدوز کو طویل عرصے تک زیرِ آب رہنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے، جس سے اس کی خفیہ کارروائی، نگرانی اور حملہ آور صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ہنگور کلاس آبدوزوں میں جدید سونار، ریڈار، الیکٹرانک سپورٹ میژرز اور اوپٹرونک سکوپس نصب ہیں جو سطح اور زیرِ آب دونوں ماحول میں دشمن کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ان آبدوزوں میں آواز جذب کرنے والی خصوصی تہیں اور کم شور پیدا کرنے والی مشینری نصب کی گئی ہے جس کے باعث دشمن کے لیے ان کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی خصوصیت انہیں جدید بحری جنگ میں ایک خاموش مگر مؤثر ہتھیار بناتی ہے۔

پاکستان کو نئی آبدوزوں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستان نیوی کے سابق اعلیٰ افسران کے مطابق نئی آبدوزوں کی شمولیت بنیادی طور پر پرانے بیڑے کی جگہ لینے کے لیے ضروری تھی۔ پاکستان کی کئی آبدوزیں اپنی آپریشنل عمر مکمل کر چکی تھیں اور جدید تقاضوں کے مطابق ان کی جگہ نئی ٹیکنالوجی سے لیس پلیٹ فارمز ناگزیر ہو گئے تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی تمام بڑی بحری افواج مسلسل اپنی صلاحیتوں کو اپ گریڈ کرتی رہتی ہیں تاکہ مستقبل کے خطرات اور نئی جنگی حکمت عملیوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ ہنگور کلاس پروگرام اسی سوچ کا تسلسل ہے۔

واضح رہے کہ بحرِ ہند اس وقت دنیا کے اہم ترین بحری خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں چین، بھارت اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان بحری سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کی بحری حکمت عملی بنیادی طور پر "ایریا ڈینائل” یا دشمن کو مخصوص سمندری علاقوں سے دور رکھنے کے تصور پر مبنی ہے۔ اس حکمت عملی میں آبدوزوں کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ وہ خاموشی سے دشمن کی نقل و حرکت کی نگرانی اور ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اگرچہ بھارت کے پاس آبدوزوں کی تعداد زیادہ ہے اور اس کے بیڑے میں جوہری آبدوزیں بھی شامل ہیں، تاہم پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ AIP ٹیکنالوجی سے لیس خاموش آبدوزیں ساحلی اور محدود سمندری علاقوں میں انتہائی مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔

ماہرین کے بقول ہنگور منصوبہ صرف آبدوزوں کی خریداری تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم سنگ میل بھی ہے۔معاہدے کے تحت چار آبدوزیں چین میں تیار کی جا رہی ہیں جبکہ چار کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں تعمیر ہوں گی۔ اس عمل کے ذریعے پاکستان کو جدید بحری انجینئرنگ، ڈیزائننگ، ہتھیاروں کے انضمام، معیار کی یقین دہانی اور مقامی آبدوز سازی کی مہارت منتقل کی جا رہی ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ مستقبل میں پاکستان کو نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرنے بلکہ مقامی دفاعی صنعت کو مزید مضبوط بنانے میں بھی مدد دے گا۔

مبصرین کے مطابق 1971 کی جنگ میں ہنگور پاکستان نیوی کے عزم، جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کی علامت بن گئی تھی۔ آج نصف صدی بعد اسی نام کی جدید آبدوزیں پاکستان کے بحری دفاع کے ایک نئے دور کا آغاز کر رہی ہیں۔ جدید سینسرز، خاموش آپریشن، AIP ٹیکنالوجی، طویل زیرِ آب موجودگی اور مقامی صنعتی ترقی کے عناصر ہنگور کلاس کو محض ایک جنگی پلیٹ فارم نہیں بلکہ پاکستان کی مستقبل کی بحری حکمت عملی کا اہم ستون بناتے ہیں۔آنے والے برسوں میں جب تمام آٹھ ہنگور کلاس آبدوزیں پاکستان نیوی کے بیڑے کا حصہ بن جائیں گی تو یہ نہ صرف ملک کی زیرِ آب جنگی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کریں گی بلکہ بحرِ ہند میں پاکستان کی دفاعی پوزیشن کو بھی مزید مستحکم بنائیں گی۔

Back to top button