ایران اورامریکہ میں ثالثی پاکستان کے لیے بڑا خطرہ کیوں؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے اعصاب شکن کھیل کا مرکز بن چکا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال، اسرائیل کا کردار، چین کے بڑھتے ہوئے مفادات اور پاکستان کی خاموش مگر اہم سفارت کاری سمیت مختلف عوامل خطے کو ایک نئے جیو پولیٹیکل موڑ پر لے آئے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان نہ صرف پیغام رساں بلکہ ایک ایسے ممکنہ ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے جس پر بیک وقت واشنگٹن، تہران اور بیجنگ کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔اگرچہ امریکہ اور ایران دونوں نے پاکستان کے کردار پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، لیکن امریکی سیاسی حلقوں میں موجود بعض تحفظات اس سوال کو جنم دے رہے ہیں کہ کیا پاکستان اس سفارتی توازن کو برقرار رکھ پائے گا؟ اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کیا اس کے اثرات پاکستان کے عالمی اثر و رسوخ اور خطے میں اس کی ساکھ پر پڑ سکتے ہیں؟
مبصرین کے مطابق یہ صورتحال صرف جنگ بندی کی کوشش نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات، معاشی راستوں، توانائی کی سیاست اور خطے کے مستقبل کی جنگ بن چکی ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسی سفارتی شاہراہ پر کھڑا ہے جہاں ہر قدم کامیابی کی صورت میں عالمی پذیرائی اور ناکامی کی صورت میں پیچیدہ چیلنجز لا سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ مشرقِ وسطیٰ کی جانب مبذول کر دی ہے۔ اس تنازعے میں پاکستان کا بطور ثالث ابھرنا بظاہر ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے، لیکن اس کردار کے ساتھ کئی حساس سوالات اور خدشات بھی جڑے ہوئے ہیں۔
حالیہ دنوں میں جہاں ایران اور امریکہ نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا، وہیں امریکہ کے بعض سیاسی و سفارتی حلقوں کی جانب سے شکوک و شبہات بھی سامنے آئے۔ اس کے باوجود چین کھل کر پاکستان کے کردار کی حمایت کرتا دکھائی دے رہا ہے اور اس نے اسلام آباد پر زور دیا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے عمل کو مزید تیز کرے۔یہ صورتحال اس وقت مزید اہم ہو گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین سے قبل بیجنگ نے پاکستان کو خطے میں سفارتی سرگرمیاں بڑھانے کا اشارہ دیا۔ چین سمجھتا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی طویل ہو گئی تو اس کے معاشی اور توانائی کے مفادات شدید متاثر ہوں گے۔
معاشی ماہرین کے مطابق چین کی معیشت بڑی حد تک مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی توانائی پر منحصر ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا غیر یقینی صورتحال عالمی منڈیوں کے ساتھ ساتھ چینی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ پاکستان کو ایک ایسے قابلِ اعتماد پارٹنر کے طور پر دیکھ رہا ہے جو بیک وقت امریکہ، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔
ماہرین کے بقول پاکستان اس وقت بنیادی طور پر “پیغام رسانی” کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد دانستہ طور پر کسی ایک فریق کے حق میں کھل کر مشورے دینے یا دباؤ ڈالنے سے گریز کر رہا ہے تاکہ اگر مذاکرات ناکام ہوں تو اس کا سیاسی یا سفارتی بوجھ پاکستان پر نہ آئے۔تاہم پاکستان کی اصل طاقت اس کی دونوں فریقین تک رسائی ہے۔ واشنگٹن کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک روابط اور تہران کے ساتھ جغرافیائی و مذہبی قربت اسے ایک منفرد سفارتی حیثیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اب بھی پاکستان کو قابلِ اعتماد ثالث قرار دے رہا ہے جبکہ امریکہ بھی پسِ پردہ اس کردار کو تسلیم کر رہا ہے۔
دوسری جانب اس ثالثی کے راستے میں کئی پیچیدگیاں بھی موجود ہیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں پر محیط عدم اعتماد ہے۔ دونوں ممالک ایسی ڈیل چاہتے ہیں جسے وہ اپنے عوام کے سامنے “فتح” کے طور پر پیش کر سکیں۔امریکی صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام پر ایسا معاہدہ ہو جسے وہ اپنی سفارتی کامیابی قرار دے سکیں، جبکہ ایران امریکی پابندیوں کے خاتمے اور جنگی نقصانات کے ازالے کو اپنی کامیابی کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔پاکستان کے لیے ایک اور مشکل اسرائیل کا کردار ہے۔ چونکہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست تعلقات موجود نہیں، اس لیے وہ اس تنازعے کے ایک اہم فریق تک براہِ راست رسائی نہیں رکھتا۔ اسی طرح امریکہ کے اندر موجود کچھ اسرائیل نواز حلقے بھی پاکستان کے کردار پر سوالات اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ ثالثی کا عمل تعطل کا شکار ہے، لیکن اس سے پاکستان کی ساکھ کو فوری نقصان پہنچنے کا امکان کم ہے۔ عالمی سطح پر یہ تاثر پہلے ہی قائم ہو چکا ہے کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے فعال سفارتی کوششیں کی ہیں۔البتہ اگر خطے میں جنگ طول پکڑتی ہے تو پاکستان کو معاشی دباؤ، تیل کی بڑھتی قیمتوں، سرحدی کشیدگی اور داخلی سیاسی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون اور ایران کے ساتھ حساس تعلقات پاکستان کے لیے ایک نازک سفارتی توازن پیدا کر سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد برقرار رکھتے ہوئے خود کو کسی ممکنہ تنازعے کا حصہ بننے سے محفوظ رکھے۔ اگر اسلام آباد یہ توازن قائم رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف اس کی سفارتی کامیابی ہو گی بلکہ خطے میں اس کے اثر و رسوخ میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
