بڑی عید کے بعد افغان مہاجرین کے خلاف بڑا آپریشن،تیاریاں مکمل

وفاقی حکومت نے عیدالاضحیٰ کے بعد افغان مہاجرین کے خلاف ایک بڑے اور منظم آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں بیک وقت شروع کیے جانے کا امکان ہے تاکہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی نشاندہی اور ان کی وطن واپسی کو یقینی بنایا جا سکے تاہم پشاور کے بازاروں، مویشی منڈیوں اور رہائشی علاقوں میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف ہونے والے ممکنہ آپریشن کے حوالے سےجاری تیاریوں نے نہ صرف افغان مہاجرین بلکہ مقامی تاجروں اور شہریوں میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت مختلف اضلاع میں ہزاروں کاروباری مراکز اور رہائشی یونٹس کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو مرحلہ وار واپس افغانستان بھیجنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔حکام اس اقدام کو امن و امان اور سیکیورٹی سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ ناقدین اسے انسانی بحران اور معاشی دباؤ میں اضافے کا سبب قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب قطر اور امریکا کے درمیان افغان مہاجرین کی منتقلی سے متعلق جاری مذاکرات نے اس مسئلے کو عالمی سطح پر بھی مزید اہم بنا دیا ہے۔
ذرائع کے بقول پشاور کے 54 بڑے بازاروں کو ابتدائی مرحلے میں کارروائی کیلئے منتخب کیا گیا ہے، جن میں کارخانو مارکیٹ، سبزی منڈی، فروٹ منڈی، گڑ منڈی اور دیگر اہم تجارتی مراکز شامل ہیں۔ حکام کے مطابق تقریباً پانچ ہزار کاروباری مراکز اور پچیس ہزار سے زائد رہائشی یونٹس کو سیل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے میں مزید پچپن ہزار کاروباری مراکز اور ایک لاکھ سے زائد گھروں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کیلئے مختلف علاقوں میں افغان مہاجرین کے زیر استعمال جائیدادوں، کاروباروں اور گاڑیوں کی تفصیلات اکٹھی کی جا چکی ہیں۔
حکام نے افغان مہاجرین کو سہولت یا تعاون فراہم کرنے والے پاکستانی شہریوں کے خلاف بھی کارروائی کے اشارے دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کئی علاقوں میں نگرانی سخت کر دی گئی ہے جبکہ حساس مقامات پر سیکیورٹی ادارے متحرک ہیں۔خاص طور پر مویشی منڈیوں میں افغان مہاجرین کی بڑی تعداد کی موجودگی حکام کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ رنگ روڈ، چارسدہ روڈ، کالہ منڈی، پلوسی مویشی منڈی اور سربند مویشی منڈی میں کارروائیوں کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بڑی تعداد میں افغان مہاجرین عیدالاضحیٰ پاکستان میں گزارنے اور قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت میں حصہ لینے کیلئے مختلف منڈیوں میں سرگرم ہیں، جس کے باعث متعلقہ ادارے مزید سخت اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔پشاور کے علاوہ بڈھ بیر، ہزار خوانی، پشتہ خرہ، چمکنی، ناصر پور، ترناب فارم اور ضلع نوشہرہ کی تحصیلوں اکبرپورہ اور اکوڑہ خٹک میں بھی بڑے پیمانے پر آپریشن کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ حکمت عملی کے مطابق غیر قانونی افغان شہریوں کو رجسٹریشن کیمپوں میں منتقل کر کے بعد ازاں افغانستان ڈی پورٹ کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں پشاور، اسلام آباد اور پنجاب سے تقریباً 4500 افغان مہاجرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن کی رپورٹ مرتب کر لی گئی ہے۔
دوسری جانب افغان مہاجرین کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قطر نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ دوحہ میں مقیم افغان مہاجرین کو 29 ستمبر 2026 تک کسی دوسرے مقام پر منتقل کیا جائے کیونکہ ان کی میزبانی عارضی بنیادوں پر کی گئی تھی۔یہ وہ افغان شہری ہیں جنہیں 2021 میں طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد مختلف پروگراموں کے تحت نکالا گیا تھا۔ اس وقت ایک ہزار سے زائد افغان مہاجر دوحہ کے قریب کیمپ السیلیہ میں موجود ہیں اور امریکا یا دیگر ممالک میں آبادکاری کے منتظر ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اس وقت ایک پیچیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے جہاں ایک طرف سیکیورٹی خدشات اور غیر قانونی امیگریشن کے مسائل ہیں تو دوسری جانب انسانی حقوق اور معاشی اثرات جیسے حساس معاملات بھی موجود ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں تو اس کے سماجی، معاشی اور سفارتی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں، خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر اس کے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
