صدر ٹرمپ کا دورہ چین : تصادم کے بجائے تعاون ہی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے ، چینی صدر

چین کے صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ سٹریٹجک استحکام کے ساتھ چین امریکا تعلقات کو آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے،تصادم کے بجائے تعاون ہی دونوں ممالک اور دنیا کے مفاد میں ہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے چین اور امریکا تعلقات کو عالمی امن اور استحکام کےلیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک مکالمے، باہمی احترام اور تعاون کے ذریعے اپنے تعلقات کو ایک مستحکم اور تعمیری سمت میں آگے بڑھا سکتے ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے چین اور امریکا کے درمیان ہونےوالے تفصیلی اور گہرے تبادلۂ خیال کا ذکر کرتےہوئے کہاکہ دونوں ممالک کے تعلقات نہ صرف دو طرفہ نوعیت کے ہیں بلکہ عالمی اور علاقائی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات رکھتے ہیں۔
چینی صدر نے کہا کہ چین اور امریکا دنیا کے اہم ترین دوطرفہ تعلقات کے حامل ممالک ہیں اور دونوں ممالک تعاون سے فائدہ اور تصادم سے نقصان اٹھاتے ہیں۔سٹریٹجک استحکام کے ساتھ چین امریکا تعلقات کو آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہےتاکہ ان تعلقات کی مسلسل، مستحکم اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔
صدر شی جن پنگ نے کہا کہ باہمی احترام،پرامن بقائے باہمی اور ون ون تعاون ہی وہ بنیادی اصول ہیں جن کے ذریعے تعلقات کو مثبت سمت میں آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے معاملے پر چین ایران پر دباؤ ڈالے : مارکو روبیو
چینی صدر نے اس بات پر بھی زور دیاکہ دونوں ممالک کی مجموعی آبادی 1.7 ارب سے زائد افراد پر مشتمل ہے، اس لیےدونوں فریقوں پر یہ تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ وہ تعلقات کو درست سمت میں آگےبڑھائیں اور اسے مستحکم انداز میں آگے لےجائیں۔دونوں ممالک کو اس “دیوقامت تعلقاتی جہاز” کو ذمہ داری کےساتھ صحیح سمت میں آگے بڑھانا ہوگا تاکہ عالمی استحکام کو فروغ ملے۔
