وفاقی کابینہ میں شمولیت سے انکار پر پیپلز پارٹی پچھتاوے کا شکار

 

 

 

صدر آصف علی زرداری کے اصرار کے باوجود بلاول بھٹو زرداری نے الیکشن 2024 کے بعد وفاقی کابینہ کا حصہ بننے سے انکار کر کے ایسی سیاسی غلطی کی جس کا احساس اب خود انہیں اور دیگر پارٹی قائدین کو شدت کے ساتھ محسوس ہو رہا ہے۔

 

یاد رہے کہ 2024 کے انتخابات کے بعد جب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اقتدار کی شراکت داری طے پائی تو آصف علی زرداری نے پارٹی چئیرمین بلاول بھٹو پر زور دیا تھا کہ صرف حکومتی حمایت تک محدود رہنے کے بجائے وفاقی کابینہ میں اہم وزارتیں حاصل کی جائیں۔ زرداری کا مؤقف تھا کہ چونکہ کسی ایک جماعت کو واضح مینڈیٹ حاصل نہیں ہوا، اس لیے اتحادی حکومت میں مؤثر شراکت ہی سیاسی طور پر فائدہ مند ثابت ہوگی۔

 

لیکن بلاول بھٹو زرداری نے اس تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ عوام نے پیپلز پارٹی کو حکومت چلانے کا براہِ راست مینڈیٹ نہیں دیا، اس لیے پارٹی کو اگلے انتخابات تک خود کو حکومتی مشکلات سے دور رکھنا چاہیے۔ پارٹی کے اندر اس سوچ کو اس وقت سیاسی حکمتِ عملی قرار دیا گیا کیونکہ ملک شدید معاشی بحران، مہنگائی، آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور عوامی بے چینی کا شکار تھا۔ تاہم آصف علی زرداری اس مؤقف سے مکمل اتفاق نہیں رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) بھی واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی لہٰذا پیپلز پارٹی کے لیے اقتدار سے دور رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

 

آصف زرداری چاہتے تھے کہ پیپلز پارٹی وزارت خارجہ سمیت اہم وزارتیں لے کر وفاقی حکومت میں اپنا عملی اور مضبوط کردار یقینی بنائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران بلاول بھٹو زرداری کو نہ صرف وزارت خارجہ بلکہ ڈپٹی وزیر اعظم کا عہدہ بھی دینے کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم انہوں نے کابینہ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے مشورے پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ دونوں اہم عہدے انکے سمدھی اسحاق ڈار کو دے دیے گئے، حالانکہ خارجہ امور میں ان کا تجربہ نہ ہونے کے برابر تھا۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تب بلاول بھٹو کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ وہ حکومت کا حصہ رہتے ہوئے براہِ راست حکومتی فیصلوں کی ذمہ داری سے خود کو الگ رکھ سکے گی۔ اسی پالیسی کے تحت پارٹی نے وزارتیں لینے کے بجائے آئینی عہدوں پر اکتفا کیا اور صدارت، دو صوبائی گورنرشپس، چیئرمین سینیٹ اور قومی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شپ جیسے اہم مناصب حاصل کیے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ حکمتِ عملی الٹی پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق عوامی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ چونکہ پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد کا حصہ ہے، اس لیے مہنگائی، بے روزگاری، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور آئی ایم ایف کی پالیسیوں سمیت تمام حکومتی فیصلوں کی ذمہ داری بھی اس پر عائد ہوتی ہے، چاہے وہ کابینہ میں شامل ہو یا نہیں۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی شاید یہ اندازہ نہ لگا سکی کہ اتحادی حکومت میں شامل رہ کر الگ سیاسی شناخت برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی مقبولیت میں کمی کا سیاسی نقصان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کو بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے، مگر اس کے برعکس اقتدار کے عملی فوائد زیادہ تر نون لیگ کے حصے میں جا رہے ہیں۔

 

ادھر موجودہ اتحادی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق سویلین اور عسکری قیادت کے درمیان موجودہ سطح کی ہم آہنگی کی ماضی میں کم ہی مثال ملتی ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو فوری سیاسی خطرات لاحق نظر نہیں آتے۔ یہی وہ صورت حال ہے جس نے پیپلز پارٹی کے اندر اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے کہ پانچ سال تک وفاقی کابینہ سے باہر رہنا مستقبل میں سیاسی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ پارٹی کے اندرونی حلقوں میں اب یہ گلہ بھی سننے کو مل رہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے “اقتدار کی بس” چھوڑ کر سیاسی طور پر نقصان اٹھایا۔ بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر پیپلز پارٹی اہم وزارتیں سنبھال لیتی تو نہ صرف حکومتی کارکردگی میں اس کا واضح کردار سامنے آتا بلکہ آئندہ انتخابات میں وہ اپنے ووٹرز کو عملی کارکردگی بھی دکھا سکتی تھی۔

 

دوسری جانب عالمی منظرنامے میں پاکستان کے بڑھتے سفارتی کردار نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور علاقائی سفارتکاری میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی بین الاقوامی شناخت مضبوط ہوئی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی خود کو اس پورے منظرنامے میں پس منظر میں محسوس کر رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر بلاول بھٹو زرداری وزارت خارجہ سنبھالتے تو وہ عالمی سطح پر ایک متحرک اور مؤثر نوجوان رہنما کے طور پر سامنے آ سکتے تھے۔ مبصرین یاد دلاتے ہیں کہ وزارت خارجہ بھٹو خاندان کی تاریخی سیاسی شناخت بھی رہی ہے اور ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اسی وزارت کے ذریعے عالمی سیاست میں اپنا الگ مقام بنایا تھا۔

حکومت کے خاتمے اور صدر زرداری کی چھٹی بارے جھوٹی خبریں کون پھیلا رہا ہے؟

پیپلزپارٹی کے اندر یہ رائے بھی پائی جا رہی ہے کہ بلاول بھٹو کی بین الاقوامی سمجھ بوجھ، مغربی دنیا میں تعلیم اور انگریزی زبان پر مضبوط گرفت انہیں حالیہ سفارتی ماحول میں ایک مؤثر چہرہ بنا سکتی تھی۔ خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان بیک ڈور سفارتکاری میں پاکستان کے کردار سے وہ عالمی سطح پر اپنی سیاسی ساکھ مزید مستحکم کر سکتے تھے۔ ذرائع کے مطابق جب اتحادی حکومت قائم ہوئی تو شاید کسی نے یہ تصور نہیں کیا تھا کہ خطے میں سفارتی کشیدگی اور عالمی تنازعات اس قدر شدت اختیار کر جائیں گے۔ تاہم اب پیپلز پارٹی کے اندر اس فیصلے پر نظرثانی اور آئندہ کی سیاسی حکمتِ عملی کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نے پیپلز پارٹی کو ایک اہم سیاسی دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف پارٹی حکومت کا حصہ رہتے ہوئے مکمل اقتدار سے دور رہنے کی حکمتِ عملی جاری رکھنا چاہتی ہے، جبکہ دوسری جانب یہ احساس بھی بڑھ رہا ہے کہ اقتدار کے فوائد سے دور رہ کر صرف سیاسی نقصان اٹھانا مستقبل میں پارٹی کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ تجربے نے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے اندر کئی بنیادی سیاسی سوالات کو جنم دے دیا ہے، جن کے اثرات آئندہ انتخابات تک نمایاں رہ سکتے ہیں۔

Back to top button