عمران خان رہائی فورس پراجیکٹ شروع ہوتے ہی فلاپ

 

 

 

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے بڑے جوش و خروش سے شروع کی گئی “امن رہائی موومنٹ” پارٹی کارکنان کی جانب سے سخت تنقید کی زد میں ہے۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات، قیادت کے درمیان رابطوں کی کمی اور کارکنوں کی مایوسی نے اس تحریک کے مستقبل پر کئی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ 10 لاکھ رضاکاروں کی رجسٹریشن، ملک گیر کیمپس، حلف برداری اور بھرپور عوامی تحریک جیسے دعوے تو کیے گئے، مگر دو ماہ گزرنے کے باوجود زمینی سطح پر کوئی واضح پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔ حقیقی معنوں میں پی ٹی آئی کی رہائی فورس کی تشکیل کا پراجیکٹ شروع ہونے سے پہلے ہی فلاپ ہو چکا ہے۔ ناقدین کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں شروع ہونے والی یہ مہم ابتدا میں پارٹی کارکنوں کیلئے امید کی علامت سمجھی جا رہی تھی، لیکن اب پارٹی کے اندر سے ہی تنقید کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ مہم واقعی عوامی تحریک بن سکے گی یا محض بیانات، دعوؤں اور سوشل میڈیا تک محدود رہ جائے گی؟

 

مبصرین کے بقول پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی رہائی کیلئے شروع کی گئی “امن رہائی موومنٹ” اب شدید تنقید اور سوالات کی زد میں آ گئی ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مارچ 2026 میں اس تحریک کا آغاز بڑے دعوؤں کے ساتھ کیا تھا، تاہم قریباً دو ماہ گزرنے کے باوجود مہم کی رفتار انتہائی سست دکھائی دے رہی ہے۔ابتدائی طور پر “عمران خان رہائی فورس” کے نام سے اعلان کی جانے والی اس مہم کو بعد میں تنقید کے باعث “عمران خان امن رہائی موومنٹ” کا نام دیا گیا۔ اس مہم کے تحت 10 لاکھ رضاکاروں کی رجسٹریشن، صوبہ بھر میں کیمپس کے قیام اور مرحلہ وار دیگر صوبوں تک توسیع کے اعلانات کیے گئے تھے۔

 

27 مارچ کو پشاور میں رجسٹریشن مہم کا افتتاح بھی کیا گیا، جہاں سہیل آفریدی نے خود کو بطور رضاکار رجسٹرڈ کیا۔ اس موقع پر دعویٰ کیا گیا کہ رجسٹرڈ رضاکاروں سے باقاعدہ حلف لیا جائے گا اور انہیں ایک منظم تحریک کا حصہ بنایا جائے گا۔تاہم زمینی حقائق اس دعوے سے مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔ اب تک نہ تو رجسٹریشن کے مکمل اعدادوشمار سامنے آ سکے ہیں اور نہ ہی حلف برداری یا ملک گیر تنظیمی ڈھانچے کے حوالے سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

 

پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کا عمل مکمل ہو چکا ہے، مگر جب رضاکاروں کی تعداد یا دیگر صوبوں میں پیش رفت سے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو واضح جواب سامنے نہیں آتا۔خیبرپختونخوا حکومت کے بعض عہدیداروں کے مطابق تقریباً 50 ہزار رضاکار رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں، تاہم یہ تعداد 10 لاکھ کے ہدف کے مقابلے میں بہت کم سمجھی جا رہی ہے۔پارٹی کے اندر بھی اس مہم پر اختلافات موجود ہیں۔ بعض رہنما سمجھتے ہیں کہ تحریک محض اعلانات اور بیانات تک محدود ہو گئی ہے جبکہ عملی طور پر کارکنوں کو متحرک کرنے میں ناکامی ہوئی ہے۔

 

سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے بھی حالیہ انٹرویو میں عمران خان کی رہائی کیلئے جاری کوششوں کو ناکافی قرار دیا۔ ان کے بیان کو پارٹی کے اندر بڑھتی بے چینی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کو نہ صرف تنظیمی چیلنجز کا سامنا ہے بلکہ صوبائی کابینہ کی توسیع اور مختلف گروپس کے دباؤ نے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی میں گروپ بندی شدت اختیار کر چکی ہے، جبکہ مختلف دھڑے اپنے اپنے افراد کو اہم عہدوں پر لانے کیلئے سرگرم ہیں۔ یہی اختلافات تنظیمی فیصلوں اور تحریک کی رفتار پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

وفاقی کابینہ میں شمولیت سے انکار پر پیپلز پارٹی پچھتاوے کا شکار

دوسری جانب کارکنوں میں بھی مایوسی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ کئی کارکن یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر واقعی کوئی بڑی تحریک چلائی جا رہی ہے تو اس کی حکمت عملی، روڈ میپ اور عملی اقدامات کیا ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی اس وقت ایک مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں ایک طرف بانی چیئرمین کی قانونی اور سیاسی مشکلات موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف پارٹی کو تنظیمی اتحاد اور کارکنوں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پارٹی قیادت واضح حکمت عملی اور مؤثر عوامی رابطہ قائم نہ کر سکی تو عمران خان کی رہائی کیلئے شروع کی گئی یہ مہم سیاسی دباؤ پیدا کرنے کے بجائے اندرونی کمزوریوں کو مزید نمایاں کر سکتی ہے۔

 

Back to top button