مخصوص نشستوں کا فیصلہ یوتھیوں کے لیے طمانچہ کیوں ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی جانب سے مخصوص نشستوں کے کیس کا فیصلہ ان یوتھیوں کے منہ پر ایک طمانچے سے کم نہیں جنہیں عمرانی دور میں بینچ فکسنگ کے ذریعے من پسند انصاف حاصل کرنے کی عادت پڑ گئی تھی۔ چونکہ یوتھیے اسی طرز کے اانصاف کی امید لگائے بیٹھے تھے اسلیے انہیں آئینی بینچ کا فیصلہ بہت ناگوار محسوس ہوا ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں بلال غوری کہتے ہیں کہ مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کے فیصلے کے بعد طفلان انقلاب پر مبنی ایک مخصوص طبقہ یہ تائثر دے رہا ہے کہ عدلیہ کےچہرے پر ایک اور سیاہ دھبے کا اضافہ ہو گا یے۔ یہ نام نہاد انقلابی ٹھوس شواہد ہر بات کرنے کی بجائے بد زبانی کے قائل ہیں۔ لیکن ریکارڈ درست کرنے کی غرض سے حقائق پیش کرنے میں کیا حرج ہے۔
بلال غوری بتاتے ہیں کہ1973 کے آئین میں اس سوچ کیساتھ مخصوص مدت کیلئے خواتین کو دس نشستیں دی گئیں کہ اس سے خواتین کے عملی سیاست میں حصہ لینے کا رجحان فروغ پائے اور ایوانوں میں خواتین کی نمائندگی ہو جائے گی۔ جنرل ضیاالحق کے دور میں خواتین کیلئے مخصوص نشستوں کی تعداد 10سے بڑھا کر 20 کر دی گئی۔ 1988 کے عام انتخابات کے بعد چونکہ آئین میں رکھی گئی اس گنجائش کی مدت مکمل ہوگئی لہازا خواتین کا کوٹہ ختم ہو گیا۔ جنرل پرویز مشرف آئین شکنی کر کے برسر اقتدار آئے تو انہیں لگا کہ لبرل اِزم محض طبقہ اشرافیہ کی خواتین کو قومی اسمبلی میں آرائش و زیبائش کے نمونے کے طور پر لا بٹھانے کا نام ہے۔ لہازا نام نہاد روشن خیالی کو فروغ دینے کیلئے قومی اسمبلی میں خواتین کیلئے 60 نشستیں مخصوص کر دی گئیں۔
پہلے تو خواتین کیلئے مخصوص نشستوں پر بھی سینیٹ کے الیکشن کی طرح الیکشن ہوا کرتا تھا لیکن پھر جمہوریت کے چہرے پر سلیکشن کی کالک مل دی گئی۔ یہ اختیار سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو دے دیا گیا کہ محض پسند ناپسند کی بنیاد پر خواتین کی فہرست الیکشن کمیشن کو بھجوا کر انہیں ارکان اسمبلی بنوا لیں۔
بلال غوری بتاتے ہیں کہ فروری 2024 میں ہونے والے عام انتخابات میں چونکہ تحریک انصاف کے پاس بلے کا انتخابی نشان نہیں تھا اس لئے اسکے امیدواروں نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا۔ یہ لوگ منتخب ہونےکے بعد سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوگئے تاکہ مخصوص نشستوں کا کوٹہ حاصل کیا جا سکے۔ جب ایسا نہیں ہوا تو سنی اتحاد کونسل کی طرف سے پشاور ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کر دی گئی۔ یہ مقدمہ لاہور یا اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی دائر کیا جا سکتا تھا لیکن ان دنوں چونکہ پشاور ہائیکورٹ سے مسلسل تحریک انصاف کے حق میں فیصلے آرہے تھے اس لئے وہاں انصاف کی دہائی دی گئی۔ لیکن 14 مارچ 2024 کو پشاور ہائیکورٹ کے پانچ رُکنی بنچ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ دیا کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں کیونکہ مقررہ مدت میں فہرستیں جمع ہی نہیں کروائی گئیں۔
اس فیصلے کیخلاف سنی اتحاد کونسل نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو تمام دستیاب جج صاحبان پر مشتمل 13 رُکنی بنچ تشکیل دیا گیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سماعت شروع ہوئی تو انکشاف ہوا کہ سنی اتحاد کونسل کے دستور کے مطابق کوئی بھی غیر مسلم اس جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا۔ لہازا سوال یہ تھا کہ اقلیتوں کیلئے مخصوص نشستیں اسے کیسے دی جاسکتی ہیں۔ اس دوران یہ معاملہ بھی زیر بحث آیا کہ سنی اتحاد کونسل نے عام انتخابات کے دوران کوئی ایک نشست بھی نہیں جیتی۔ اسکے سربراہ نے بھی آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا تو پھر اسے مخصوص نشستیں کیسے دی جاسکتی ہیں؟ یہ حقائق سامنے آنے کے بعد سنی اتحاد کونسل کا مقدمہ کمزور نہیں ہوا بلکہ یکسر ختم ہوگیا مگر عمرانڈو جج صاحبان اپنے آئینی دائرہ کار سے باہر نکل کر اپنی مرضی کا انصاف دینے پر بضد رہے۔ لہازا یہ مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا فیصلہ کیا گیا حالانکہ وہ پشاور ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ تک کسی فورم پر فریق ہی نہیں بنی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن جیت کر پارلیمنٹ آنے والے ارکان جنہیں تین روز میں اپنی سیاسی وابستگی کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے، انہیں مزید 15دن عطا کر دیئے گئے۔
بلال غوری کے بقول یہ اسی طرح کا غیر آئینی حکم تھا جیسا سپریم کورٹ نے جنرل پرویز مشرف کو تین سال عطا کرنے کے لیے دیا تھا۔ عمراندار کہلانے والے جسٹس منصور علی شاہ سمیت 8 جج صاحبان نے مخصوص حالات میں مخصوص طبقے کو نوازنے کیلئے مخصوص نشستوں سے متعلق جو مخصوص فیصلہ دیا ،وہ آئین اور قانون کو ازسر نو تحریر کرنے کے مترادف تھا۔ الیکشن کمیشن اور عدالتیں پسند ناپسند کے بجائے آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ قانون یہ کہتا ہے کہ آزاد ارکان پارلیمنٹ خواہ کتنی بڑی تعداد میں منتخب ہوکر کیوں نہ آجائیں، انہیں مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں ۔قومی اسمبلی میں خواتین کیلئے 60 اور اقلیتوں کیلئے مخصوص10 نشستیں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کو ہی دی جاتی ہیں جس کیلئے ترجیحی فہرستیں پہلے سے جمع کروادی جاتی ہیں۔لیکن ’’طفلان اِنقلاب‘‘ کا اپنا ڈھب اور انداز ہے۔
پانامہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک منتخب وزیراعظم کو اقامہ کے الزام میں نااہل قرار دے دیا جاتا ہے۔ آئین کہتا ہے کہ نااہلی تاحیات نہیں ہوگی مگر کچھ جج صاحبان اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے 62(1)f کے تحت نااہلی کو تاحیات قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح آئین واضح کرتا ہے کہ فلور کراسنگ کرنے والے رُکن پارلیمنٹ کا ووٹ شمار ہوگا اور بعد ازاں اسے اپنے کئے کی سزا ملے گی، لیکن ’’مکمل انصاف‘‘کی اختراع کے تحت کچھ جج صاحبان فیصلہ سناتے ہیں کہ ووٹ شمار نہیں ہوگا۔ ’’نونہالان ِ انقلاب‘‘ ان فیصلوں کو تاریخی قرار دیتے ہوئے جشن طرب مناتے ہیں اور عدلیہ کے گن گاتے ہیں۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ جسٹس ثاقب نثار سے جسٹس عمر عطا بندیال تک عدلیہ کو فیض حمید کی جانب سے پنچایت کے طرز پر چلایا گیا اور آئین اور قانون کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ ازخود نوٹس کے اختیار سے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کیا گیا۔بنچ فکسنگ کے ذریعے من پسند فیصلے حاصل کئے گئے ،شاید یہ لوگ آج بھی اسی طرز کا ’’انصاف‘‘ چاہتے ہیں۔اس لئے انہیں آئینی بنچ کا فیصلہ بہت ناگوار محسوس ہوا ہے۔
